Zee Kay Studio
جیسے پانی کے جمنے, ابلنے اور بھاپ بن کے ہوامیں شامل ہونے کے لیے مخصوص دورانیے تک الگ الگ درجہ حرارت کی فراہمی شرط ہے, ایسے ہی اللہ کا انکار, اقرار اسکی شناخت, قربت, دوستی, محبت اور نوکری ایسی الگ الگ سٹیجز ہیں جن میں سے ہر منزل تک پہنچنے کی شرط کسی مخصوص ذہنی کیفیت کا ایک مخصوص عرصے تک تسلسل سے قائم رہنا ہے۔
اقرار کی سٹیج تک پہنچانے کے لیے تو عبادات کا تسلسل ہی کافی ہے لیکن اس سے اگلی ہر سٹیج تک جانے کے لیے بڑی قربانیوں کا تسلسل درکار ہوگا۔
دوستی کے لیے اپنی مرضی کھونی ہوگی اور محبت کے لیے انا، جبکہ اللہ کی نوکری کی سٹیج سے پہلے وہ شخصیت ہی قربان کرنی ہوگی جسے ساری زندگی پال پوس کر جوان کیا۔۔۔
Copied
توبہ اور اللہ سے بندے کے تعلُق پر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمُودات سُنتے ہُوئے ایک جلیلُ القدر صحابیؓ نے تعجب کا اظہار کیا کہ چور اور زانی کو کیونکر بخش دیا جائے گا،
ہمیشہ نرمی سے بات کرنے والے رحمتُ اللعالمینؐ نسبتاً اونچی آواز اور پُرجوش انداز اختیار کرتے ہوئے گویا ہوئے،
"تُو نہ بھی چاہے تب بھی وہ بخشا جائے گا"
ایسے ہی ایک بار ایک صحابیؓ کو کسی سنگین کبیرہ گُناہ کا مرتکب ہونے پر سزا ملی تو ایک دوسرے صحابیؓ نے اُنکے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جنسے تضحیک کا احساس ہوتا تھا،
رحمه للعالمین صلی الله علیه وسلم نے صحابیؓ کے وہ الفاظ سُنے تو چہرہ غم سے سُرخ ہو گیا، بولے، اُس نے جو گُناہ کیا ہے اُسکی سزا پا رہا ہے، تُم جو اسکی تضحیک کرتے ہو تمہیں کیا معلُوم یہ شخص اللہ اور اُسکے رسُول صلی الله علیه وسلم کِس قدر محبوب ہے۔
یہ تو تھا نبی صل اللہ علیہ وسلم کا نظریہ، ہماری حالت یہ ہے کہ اپنے سے مُختلف سیاسی نظریات والے کلمہ گو بھی یا تو ہمیں جہنمی معلوم پڑتے ہیں یا منافق۔۔۔
Copied
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan