Faisal Ameer
24/05/2026
جون ایلیا — "وہ شاعر جسے دنیا نے مرنے کے بعد پہچانا"
👶 پیدائش اور خاندان
جون ایلیا کا اصل نام سید حسین سبطِ اصغر نقوی تھا۔ وہ 14 دسمبر 1931 کو امروہہ، اتر پردیش، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد علامہ شفیق حسن ایلیا ایک عالم، شاعر اور نجومی تھے۔ گھر کا ماحول علم و ادب سے بھرپور تھا جس نے جون کی ذہنی اور ادبی تربیت کی بنیاد رکھی۔ (
جون ایلیا نے صرف 8 سال کی عمر میں اپنا پہلا اردو شعر لکھا۔ بچپن میں ہی وہ ایک خیالی محبوبہ "صوفیہ" سے اپنے ذہن میں باتیں کرتے تھے۔
📚 علم اور زبانیں — ایک عبقری انسان
جون ایلیا اردو، عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، تصوف، مغربی ادب اور کبالہ کا گہرا مطالعہ کیا۔ ()
انہوں نے ادیب کامل (اردو)، کامل (فارسی) اور فاضل (عربی) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ()
🚂 ہجرت — ٹوٹا ہوا دل لے کر
1947 کی تقسیم نے جون ایلیا کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ لاکھوں لوگوں کی طرح ان کا خاندان بھی پاکستان آیا، اپنا آبائی گھر اور جڑیں چھوڑ کر۔ اس جبری ہجرت نے ان میں ایک گہری بے گھری اور وجودی بے چینی پیدا کی جو بعد میں ان کی شاعری کا مرکزی موضوع بنی۔ ()
جون ایلیا 1957 میں پاکستان آئے اور کراچی کو اپنا گھر بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔
💔 محبت اور جدائی — زاہدہ حنا
جون ایلیا نے مشہور کالم نگار زاہدہ حنا سے 1970 میں شادی کی۔ لیکن یہ رشتہ 1984 میں علیحدگی پر ختم ہوا۔ ()
زاہدہ حنا سے جدائی جون کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی۔ وہ اکیلے ادھ اندھیرے کمرے میں بیٹھے رہتے، سگریٹ اور شراب نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ ()
📖 شاعری — جو چھپانے پر اصرار کیا
جون ایلیا بہت کچھ لکھتے تھے مگر شائع کرنے پر آمادہ نہ ہوتے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "شاید" (یعنی Maybe) 1991 میں شائع ہوا — جب وہ 60 سال کے ہو چکے تھے! ()
ان کے اہم شعری مجموعوں میں شاید، یعنی، گمان اور لیکن شامل ہیں۔ یہ تخلیقات اپنی اصلیت اور فکری گہرائی کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔
یعنی (2003)، گمان (2004)، لیکن (2006)، گویا (2008) اور نثری کتاب فرنود (2008) ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔
🎭 مشاعرے میں — ایک انوکھا انداز
مشاعروں میں جون ایلیا کی موجودگی انتہائی دلچسپ ہوتی تھی۔ ان کی شاعری سنانے کا انداز بہت شدید اور جذباتی تھا — کبھی کبھی وہ سامعین کی طرف پیٹھ کر کے شعر پڑھتے، ایک طرح کے احتجاج کے طور پر۔
ان کی بے باک، باغیانہ اور فلسفیانہ شاعری نے انہیں جدید اردو شاعری کا "راک اسٹار" بنا دیا۔
🏆 صدارتی ایوارڈ
پاکستان کے صدر نے انہیں 2000 میں Pride of Performance Award سے نوازا۔
⚰️ وفات — اور پھر شہرت
جون ایلیا 8 نومبر 2002 کو کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے — 70 سال کی عمر میں۔
ان کی وفات کے بعد دنیا کو ان کی شاعری سے محبت ہوئی۔ آج نوجوان نسل سرحد کے دونوں طرف جون ایلیا کے اشعار دہراتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Multan
60000