Botany Lovers

Botany Lovers

Share

22/02/2025

ایک دوڑ لگی ہوئی ہے، پیسہ، پیسہ، پیسہ۔۔۔!! میں نے اتنے لاکھ کما لئے، آوء تمہیں بھی لاکھوں کمانا سکھاوءں، میں نے اتنے لاکھ کی گاڑی لے لی، تم ابھی تک سرکاری ملازمت سے چمٹے ہوئے ہو، میں نے فلاں کام میں اتنے لاکھ کا نقصان اٹھایا لیکن یہ میرے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، میں نے ملازمت چھوڑ دی تو دیکھو میں آج کہاں ہوں۔۔!!! فیس بک کھول لو تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا پہ آج سے پہلے نہ کسی نے لاکھوں کمائے، نہ ہی کسی نے آج سے پہلے صفر سے اٹھ کے معاشی خودمختاری اور غربت سے امارت کا سفر طے کیا۔۔ اللّٰہ کریم آپ سب کے رزق میں دن دوگنا اور رات چوگنا خیر اوربرکت عطا فرمائے۔۔ لیکن۔۔ معذرت کے ساتھ کہوں گی کہ آپ سب موٹیویشن نہیں پھیلا رہے، فرسٹریشن پھیلا رہے ہیں۔۔

آج کا نوجوان قناعت، حاصل پہ اطمینان اور استغناء (آسان الفاظ میں استغناء کسی دوسرے کے پاس دولت اور آسائشات کے انبار دیکھتے ہوئے بھی اس سے مکمل بےنیازی اختیار کرنے کو کہتے ہیں دل مطمئن ہو کہ اللّٰہ اسے مزید دے، میں اپنے حال میں راضی ہوں)جیسی اصطلاحات سے پہلے ہی نابلد ہے، اس پہ مستزاد سوشل میڈیا پہ دن رات پیسے کی اس چکاچوند نے نوجوان لڑکوں کو پیسے کی ایک لاحاصل دوڑ میں اور نوجوان لڑکیوں کو ہل من مزید کی ایسی آگ میں دن رات بھسم کرنا شروع کر دیا ہے کہ دنیا کی ہر نعمت موجود ہوتے ہوئے بھی دلوں میں شکرگزاری کا احساس تک پیدا نہیں ہوتا۔ ابھی عثمان بھائی کی وال پہ ایک ویڈیو دیکھی، ایک لڑکا عام لوگوں سے سوال کر رہا ہے کہ میں آپ کو دس ملین ڈالر دوں تو آپ قبول کریں گے، سب نے ہنسی خوشی ہاں میں جواب دیا، اگلا سوال۔تھا کہ یہ رقم اس شرط پہ ملے گی کہ آپ صبح سو کے اٹھیں گے نہیں تو ہر ایک نے انکار کر دیا، انہی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صبح صحت اور تندرستی کی حالت میں اپنے پیروں پہ اٹھ کھڑے ہونا، دس ملین ڈالر سے بھی قیمتی دولت ہے۔۔!!

میرے عزیزو۔۔!! میں یہ نہیں کہتی کہ اپنے حالات بدلنے کیلئے کوشش نہ کریں۔ بالکل کریں لیکن صرف پیسہ، صرف آسائشات، صرف دولت مند بننے کو اپنا مقصدِ حیات ہرگز مت بنائیں۔ آپ کو اللّٰہ کریم نے صحت عطا کی ہے، روز کھانے کو مل رہا ہے، گھر میں کوئی موذی بیماری نہیں ہے، آپ اپنے بچوں کیلئے رزق کمانے کی قابلیت اور طاقت رکھتے ہیں، آپ کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ آپ موسم کے مطابق ٹھنڈا اور گرم لباس زیبِ تن کرنے کے قابل ہیں، قسم بخدا۔۔۔! ان سب نعمتوں کا کوئی بدل ہے ہی نہیں، ہو ہی نہیں سکتا۔ نہ ہی ہم ان سب کا شکر ادا کرنے کے قابل ہیں۔ "معیارِ زندگی" نامی بلا کو اپنے حواسوں پہ مت سوار ہونے دیں۔

اور آپ سب سے، جنہیں اللّٰہ کریم نے صفر سے بہت اوپر پہنچا دیا ہے، یقین مانیں کہ آپ جیسے بےشمار لوگ اس دنیا میں ہیں، جو کچھ نہیں تھے اور آج بہت کچھ ہیں۔ یہ نظامِ کائنات ہمیشہ سے ایسے ہی چلتا آیا ہے، اس کے بعد بھی ایسا ہی رہے گا۔ یہاں کسی کے سر پہ بیٹھے بٹھائے اقتدار کا ہما بیٹھ جاتا ہے اور کوئی دو ہزار پانچ کے زلزلے جیسی کسی آفت یا کسی موذی مرض یا کسی بھی وجہ سے اپنی بنی بنائی راجدھانی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ آپ کا اللّٰہ کریم نے ہاتھ پکڑ لیا ہے، اللّٰہ کریم اس سے آگے بھی اپنا فضل و کرم شاملِ حال رکھے۔ لوگوں کو موٹیویٹ کیجئیے لیکن خدارا فرسٹریشن پھیلانے سے احتراز برتئے۔ اس دنیا میں دولت مند ترین، غریب ترین اور متوسط طبقہ ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا. اصل دولت مند وہ ہے جسے ربِّ کائنات نے حاصل پہ اطمینان اور استغناء عطا فرما دیا ہے۔ وما علینا الّا البلٰغ۔۔
ربیعہ فاطمہ بخاری

03/08/2023

ابو خالد الاحمر نے کہا: میں نے عبداللہ المحض بن حسن المثنی رح ( حضرت حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنھم کے پوتے)سے حضرات شیخین ابوبکر وعمر رضی اللّٰہ عنھما کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا: "صلى الله عليهما و لا صلى على من لم يصل عليهما" (ان دونوں پر اللّٰہ کی رحمت ہو اور جس نے ان دونوں پر رحمت خداوندی کی دعا نہیں کی اس پر اللّٰہ کی رحمت نہ ہو) اور فرمایا: "میں ایسے شخص کے بارے میں جو سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنھما پر سب وشتم کرتا ہو توقع نہیں رکھتا کہ اس کو توبہ نصیب ہو"
ان کے سامنے اس دن کا تذکرہ آیا،جس دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئ تو اس قدر روۓ کہ داڑھی اور دامن تر ہوگئے۔
{المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ صفحہ ٣٩٥}

14/07/2023

عُتبہ بن فرقد گورنر آذربایجان نے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللّہ عنہ کے لیے دو پٹاریوں میں خبیص نامی حلوہ بطور تحفہ بھیجا ۔
امیر المومنین سمجھے کہ پٹاریوں میں سرکاری روپیہ آیا ہے ۔ لانے والے نے جب بتایا کہ خبیص نامی حلوہ ہے تو انہوں نے پٹاری کھلوائی اور چکھ کر دیکھا ! پھر لانے والے سے پوچھا ۔ کیا عتبہ کی فوج کے سب لوگ یہ حلوہ سیر ہو کر کھاتے ہیں ؟؟
لانے والے نے نفی میں جواب دیا ۔
امیر المومنین نے حلوہ واپس کر دیا اور یہ پُر عتاب خط عتبہ کو لکھا ۔
"" واضح ہو کہ خبیص نہ تو تمھاری محنت کا ثمرہ ہے نہ تمھاری ماں اور باپ کی ۔ تم وہی غذا کھاؤ جس سے تمھاری فوج کے باقی مسلمان کیمپ میں سیر ہوتے ہیں ""
۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
بحوالہ : بلاذری انساب ، بیہقی شعب

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Multan