Home Tuition in Multan
20/09/2025
اس جانور کا نام 'پگمی شریو' (Pygmy Shrew) ہے جو دنیا کا سب سے چھوٹا میمل ہے۔ ایک بالغ پیگمی شریو کا وزن صرف لگ بھگ پانچ سے چھ گرام ہوتا ہے۔ چھوٹے میملز مثلاً چوہوں، گلہریوں وغیرہ کا میٹابولزم عموماً تیز ہوتا ہے۔ جو میمل جس قدر چھوٹا ہو اس کا میٹابولزم اسی قدر زیادہ تیز ہوتا ہے کیونکہ میملز کو اپنا درجہ حرارت کانسٹینٹ رکھنا ہوتا ہے اور جو جانور جس قدر چھوٹا ہو اسی قدر اس کے جسم سے حرارت زیادہ تیزی سے خارج ہوتی ہے- بڑے جانوروں کا حجم چونکہ زیادہ ہوتا ہے اور حرارت صرف جلد سے خارج ہو سکتی ہے اس لیے بڑے جسم کے جانوروں کے لیے حرارت کو مقید رکھنا آسان ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ اکثر بڑے میملز کا میٹابولزم سست رفتار ہوتا ہے جبکہ چھوٹے میملز کا میٹابولزم تیز ہوتا ہے
پیگمی شریو چونکہ دنیا کا سب سے چھوٹا میمل ہے اس لیے اس کا میٹابولرم تمام جانوروں کی نسبت زیادہ تیز ہے۔ اس کا دل ایک منٹ میں ایک ہزار سے زیادہ مرتبہ دھڑکتا ہے جو تمام جانوروں میں دل کی تیز ترین دھڑکن ہے۔ اس قدر تیز میٹابولزم کو سپورٹ کرنے کے لیے اسے بہت زیادہ کیلوریز درکار ہوتی ہیں اس لیے یہ جانور جاگنے کا زیادہ تر حصہ خوراک تلاش کرنے اور خوراک کھانے میں صرف کرتا ہے- اسے ہر روز اس قدر خوراک کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کی روزانہ خوراک کا وزن اس کے اپنے وزن سے بھی زیادہ ہوتا ہے- ان کی بھوک اس قدر شدید ہوتی ہے کہ اگر انہیں دوسری خوراک (کیڑے مکوڑے) نہ ملے تو یہ بھوک مٹانے کے لیے اپنے ہی شپیشیز کے دوسرے افراد کو مار کر کھانے لگتے ہیں
17/09/2023
تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دُنیا کا سب سے تیز ترین بڑھنے والا درخت پولونیا ہے، جسے انگلش میں poulonia یا poulownia لکھا جاتا ہے، یہ جرمن درخت ہے اور جرمن ماہرینِ نباتات ہی اِس کے پیدا کندہ یا موجد ہیں، جس طرح ہمارے خطے میں سُخچین یا سُکھ چین کا درخت ہے جو انڈیا اور پاکستان کی محنت یا ایجاد کردہ ہے:
پولونیا سالانہ 3 میٹر سے زیادہ بڑھنے کا ریکارڈ رکھتا ہے، ناصرف انتہائی ماحول دوست ہے بلکہ ہر ملک کے زمینی اور موسمی حالات اور کم و بیش نمی میں پروان چڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے:
اِس کی لکڑی اگرچہ وزن میں ہلکی ہوتی ہے لیکن نہایت ہی پائیدار ہوتی ہے، اِسی لیے بحری جہاز اِسی کی لکڑی سے بن رہے ہیں: کیونکہ یہ درخت سیدھا اوپر جاتا ہے اور باالکل ٹیڑھا نہیں ہوتا، اِس لیے اِس کی لکڑی خوبصورت، نہایت ہی کارآمد اور مہنگی ہوتی ہے:
جرمنی میں تو اِس درخت کے جنگل کے جنگل اُگائے جاتے ہیں، تجارت کی غرض سے بھی اور فرنیچر و بحری جہاز بنانے کی وجہ سے بھی:
موسمِ بہار میں اِس پر جامنی رنگ کے انتہائی خوبصورت پھول بکثرت لگتے ہیں اور بے حد مسحور خوشبو والے ہوتے ہیں، بعد میں ڈھوڈیاں بنتی ہیں جو بیجوں سے بھری ہوتی ہیں۔۔۔ ایک درخت کے بیج پورے علاقے کو بیچے جا سکتے ہیں۔
اسرائیل جو کہ خشک ترین زمین والا ملک ہے، نے اپنی زمینوں پر اِس درخت کے اُگانے کا تجربہ کیا ہے جو نہایت کامیاب رہا اور اب وہ اِس درخت کی نرسری کا جرمنی سے سب سے بڑا خریدار ہے، اسرائیل کے ساتھ جُڑے اسلامی ملک اُردن (جورڈن) نے بھی سرکاری سطح پر اِس درخت کی شجر کاری شروع کر دی ہے، اُردن کی حکومت نے بیس سالہ پروگرام کا اعلان کیا ہے اور پالیسی بنائی ہے کہ اُردن کے شہری اور ادارے اگلے بیس سال تک صرف یہی پودے لگائیں گے اور کم از کم پُورا درخت بننے تک اِسے کاٹنا جُرم تصور ہو گا:
اِس درخت کی ایک اور خاصیت بھی ہے کہ اِس کے پتے وٹامن سے بھرپور ہوتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی بہترین خوراک قرار دیے گئے ہیں:
یہ پودا پاکستان میں بھی پہنچ چکا ہے اور لوگ تجارت کی غرض سے اِسے وسیع پیمانے پر لگانا بھی شروع ہو گئے ہیں، یہ درخت سفیدے کی طرح مُضر اور پانی کا دشمن نہیں ہے۔۔۔
وہ سکاٹ لینڈ کا ایک غریب کسان تھا. کھیتوں کی طرف جاتے اس نے چیخنے کی آواز سنی. آواز کی سمت جا کر دیکھا کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے. دلدل میں آپ جتنا زیادہ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں. زیادہ تیزی سے ڈوبتے ہیں. کسان نے اسے تسلی دی پرسکون کیا اور درخت کی ایک شاخ توڑ کر بچے سے کہا یہ پکڑ لو. میں تمہیں کھینچ لیتا ہوں. کچھ دیر بعد بچہ باہر تھا. کسان نے اسے کہا کہ چلو میرے گھر تمہارے کپڑے صاف کرا دیتا ہوں. لیکن بچے نے کہا میرے والد پریشان ہوں گے اور دوڑ لگا دی.
اگلی صبح ایک شاندار بگھی کسان کے گھر کے سامنے کھڑی ہوئی. ایک رعب دار شخصیت بگھی سے نکلی اور کسان کا شکریہ ادا کرنے کہ بعد کہا میں آپ کو کیا صلہ دوں کیونکہ آپ نے میرے بیٹے کی جان بچائے. غریب کسان نے کہا شکریہ جناب لیکن میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. مجھے کسی صلے کی طلب نہیں. بہت اصرار کے بعد بھی جب کسان نے کچھ قبول نہ کیا تو جاتے جاتے اس رئیس کی نظر کسان کے بیٹے پر پڑھی. پوچھا کیا یہ آپکا بیٹا ہے.؟؟ کسان نے محبت سے بیٹے کا سر سہلاتے کہا جی جناب یہ میرا بیٹآ ہے.
رئیس نے کہا ایک کام کرتے ہیں. میں اسے اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں. اسے پڑھاتا ہوں. بیٹے کی محبت میں اس پیشکش پر کسان راضی ہوگیا. اسکا بیٹا لندن چلا گیا. پڑھنے لگا اور اتنا پڑھا کہ آج دنیا اسے الیگزینڈر فلیمنگ کے نام سے جانتی ہے. وہ فلیمنگ جس نے پنسلین ایجاد کی. وہ پنسلین جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی بچائی. وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے دلدل سے نکالا تھا. وہی بیٹا جنگ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا. اور اسی فلیمنگ کی پنسلین سے اس کی زندگی بچائی گئی. وہ رئیس روڈولف چرچل تھے. اور انکا بیٹا ونسٹن چرچل تھا. وہ چرچل جو جنگ عظیم میں برطانیہ کا وزیر اعظم تھا. اور جس نے کہا تھا.
بھلائی کا کام کریں کیونکہ بھلائی پلٹ کر آپ کے پاس ہی آتی ہے."
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan