Deep Words

Deep Words

Share

13/01/2026

ھم کتنے ڈیڑھ ہوشیار ہیں!!

شیدا اور میدا آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ ایک محلے میں ہم شیدے کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کرے رہے ہیں اور
دوسرے محلے میں ہم میدے کو اسلحہ بیچ رہے ہیں۔

جبکہ شیدا اور میدا چاچے چالباز کی مرضی کے بنا کچھ بھی نہیں کرتے

ہمارے ڈرامے ڈالر کی تلاش کی پچھلی دو قسطیں بہت مزیدار تھیں۔ ایک قسط میں ہم لیبیا میں جنرل حفتر کی ملیشیا کے ساتھ ہتھیاروں کی سپلائی کے مذکرات اور معاہدے کرتے پائے گے۔ جنرل حفتر کی پشت پناہی ہمارا دیرینہ دوست یو اے کر رہا ہے۔ شاید جو اس کے ساتھ جو چار ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا اس کے پیسے بھی یو اے ای ہی ادا کرتا۔ جب کہ جنرل حفتر جس حکومت کے ساتھ لڑ رہا ہے اس کی سپورٹ اور پشت پناہی ہمارا سرپرست اعلیٰ سعودی عرب کر رہا ہے۔
مگر ڈرامے کی اگلی قسط میں ایک نیا ٹوئسٹ سامنے آیا۔ اس ٹوئسٹ میں ہم نے سوڈان کی فوج کے ساتھ اسلحے کی سپلائی کا معاہدہ کر لیا۔ اب سوڈان کی فوج کو سپورٹ سعودی عرب کر رہا ہے اور وہ یہ اسلحہ جس گروپ کے خلاف استعمال کرے گی اس کا نام آر ایس ایف ہے اور اس کی فنڈنگ ہمارا وہی پیارا دوست یو اے ای کر رہا ہے۔
گویا شیدا اور میدا آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ ایک محلے میں ہم شیدے کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کرے رہے ہیں اور دوسرے محلے میں ہم میدے کو اسلحہ بیچ رہے ہیں۔ معلوم نہیں اب تک یہ بات ہمارے بیلنسنگ ایکٹ والے دانشور بھائیوں کے ہتھے نہیں چڑھی یا ان کی سمجھ میں نہیں آئی ورنہ اب تک اس متوازن خارجہ حکمت علمی یا کامیاب بیلنسنگ ایکٹ کی مدح میں دو چار پوسٹیں تو دھانس ہی چکے ہوتے۔
جبکہ دوسری طرف ہماری عام سی سمجھ بوجھ میں یہ بات آتی ہے کہ جب میدے یعنی سعودی عرب کو معلوم ہوا کہ ہم نے تو لیبیا میں ان کی مخالف پراکسی جنرل حفتر کے ساتھ چار ارب ڈالر اسلحے کا معاہدہ کھڑکا دیا ہے تو انہوں نے ہماری گجی مروڑی کہ یہ کیا ہو رہا ہے بھائی یہ کیا ہو رہا ہے۔ اب ہم یو اے ای کے بہت احسان مند ہیں مگر سعودی عرب کی تو بات اور ہے اور ان کا کہا ٹالنا مشکل ہے تو اب ہم شاید جنرل حفتر والے معاہدے سے پیچھے ہٹیں اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لیئے سعودی عرب نے ہمیں شاید سوڈان کی فوج کے ساتھ ڈیڑھ دو ارب ڈالر کے معاہدے کے ذریعے کمپینسیٹ کیا ہے۔ کیونکہ سوڈان جیسے ملک کی فوج کے پاس ان حالات میں اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے وسائل کہاں سے آئے؟
اور ایک وائلڈ گیس یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو ایک ارب ڈالر کے یو اے ای کو فوجی فاؤنڈیشن کے شیئر دیئے گئے ہیں ان کا تعلق بھی کہیں نہ کہیں اسی لیبیا والے معاہدے کی منسوخی سے ہے۔ کیونکہ شیخ محمد کا دو گھنٹے کا ائیر پورٹی دورہ بھی کچھ سمجھ میں آنے والا نہیں تھا ۔
ہو سکتا ہے ہمارے کچھ دوست اسے حفاظان ملت کی عظیم سفارتی کامیابی کی دلیل قرار دیں مگر میرے خیال میں تو ان دونوں معاہدوں کا ایک ساتھ چلنا نا ممکن ہے۔ کیوں کہ یہ دو انتہائی متصادم اور متحارب مفاداتی گروہوں کے ساتھ کیئے گئے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ شیدے اور میدے دونوں، جو کہ ایک دوسرے کی جان لینے پر تلے ہوئے ہیں، کو ایک ساتھ خوش رکھ سکیں۔
یہ چمکتار پرانی فلموں میں ویمپ دکھاتی تھی جب وہ دو تین لوگوں کو ایک ساتھ چکر دے رہی ہوتی تھی مگر اسں کا بھی بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹتا تھا اور وہ دونوں پارٹیوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتی تھی ۔ مجھے لگتا ہے ہماری ویمپ کو بھی ایک عاشق منتخب کرنے کا سخت آپشن دے دیا گیا ہے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Multan
60000