Imran Raza

Imran Raza

Share

29/03/2023

خود اعتمادی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان 5 تجاویز پر عمل کریں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

اگر آپ اپنا مقصد حاصل کرنےمیں کسی بھی وجہ سے ناکام ہیں تو کیا اس کا قصور وار آپ اپنے آپ کو ٹھہرائیں گے؟

ہوسکتا ہے کہ یہاں کچھ لوگ اس بات سے اتفاق کریں کہ زندگی میں ایسا موڑ ضرور آتا ہے جب آپ اپنی قابلیت کو صحیح پہچاننے سے قاصر ہوں یا مشکل کا بہادری سے مقابلہ کرنے میں گھبراہٹ کا شکار ہوں۔

آپ نے ’خود اعتمادی‘ کا لفظ ضرور سنا ہوگا، اعتماد لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب ایمان یا یقین ہے، ایسے لوگ جو زندگی میں کچھ حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے ا وپر اعتماد کھو دیتے ہیں وہ لوگ خود پر بھروسہ نہیں رکھ پاتے۔

بہت سارے لوگوں کے پاس تعلیم، ڈگری، مہارت، اسکلز اور تجربہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود صرف چند لوگ ہی اپنی زندگی میں کامیابی کی وہ منازل طے کر پاتے ہیں جن کی خواہش ہر انسان رکھتا ہے۔

ایسے لوگوں میں خود اعتمادی کا فقدان اُن کی زندگی کے عملی میدان میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بتنا ہے ۔

تو آئیے جانتے ہیں کہ انسان خود اعتمادی کیسے بحال کرسکتا ہے؟

ناکامی کو سمجھنے کی کوشش
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ میں بھی خود اعتمادی آجائے تو سب سے پہلے ناکامی کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ رائٹ برادرز جہاز اڑانے میں کامیاب ہونے سے قبل متعدد بار ناکام ہوئے تھے۔

بجائے اس کے کہ آپ اپنی ناکامی سے مایوس ہوں، آپ کو اس ناکامی کی وجہ تلاش کر کے اسے بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رکاوٹوں کا مشاہدہ کریں
اعتماد بحال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ خود کی صلاحیتوں کو جانچیں، ان رکاوٹوں کا مشاہدہ کریں جو آپ کو اعتماد محسوس کرنے سے روکتی ہیں۔

اگر آپ وہ مقصد حاصل کرنےمیں ناکام ہوگئے ہیں تو برا محسوس نہ کریں، بلکہ اس بات پر توجہ دیں کہ آپ ابھی کیا کر سکتے ہیں۔

کچھ نیا سیکھنے کی کوشش میں لگے رہیں
پینٹنگ، موسیقی، غیر ملکی زبان کا مطالعہ کرنا، رقص سیکھنا اور اس جیسی کئی مہارت کی سرگرمیاں حاصل کرنے سے منفی سوچ سے آپ دور رہیں گے۔

روزانہ کسی سرگرمی میں مصروف ہونے سے آپ مہارت کے ساتھ اپنی قابلیت کا اندزه بھی لگا سکتے ہیں۔

اگر آپ خود کو پُراعتماد دیکھنا چاہتے ہیں تو منفی سوچ سے دور رہیں، ہمیشہ یہ سوچیں کے آپ سب کچھ کر سکتے ہیں، آپ میں تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں، ایسا کرنے سے آپ خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔

اپنے آپ کو کسی دوسرے کی جگہ پر رکھ کر نہ سوچیں
کسی دوسرے کی کامیابی سے کبھی بھی اپنا موازنہ نہ کریں بلکہ دوسروں کی کامیابی کو سراہتے ہوئے آپ کے پاس جو کچھ ہے اس سے کامیابی کی رہ تلاش کریں۔

آپ اس دنیا میں کسی سے موازنہ کرنے نہیں آئے، نہ آپ کسی سے کم تر ہیں اور نہ ہی آپ کسی سے برتر ہیں تو اس بات کو ہمیشہ اپنے دماغ میں رکھیں۔

کسی سے مدد لیں
اگر آپ اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں تو تھراپی کے ذریعے مدد حاصل کریں۔

کسی پیشہ ورانہ ماہرین سے مدد حاصل کرنے اور اس کو اپنے احساسات کے حوالے سے بتانے میں گھبراہٹ محسوس نہ کریں، کیونکہ ان کی مدد سے ہی آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

29/03/2023

سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال ذہنی مسائل بڑھنے کی وجہ، چھٹکارا کیسے؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

’آج میں بہت اچھی یا اچھا لگ رہا ہوں، کچھ سیلفی لے کر اب اسے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر بھی اپ لوڈ کردیتی یا کردیتا ہوں، اس سے مجھے ڈھیروں لائکس اور کمنٹس ملیں گے۔‘

’آج میری پوسٹ پر اتنے کم لائکس کیوں ہیں؟ کیا میری تصویر اچھی نہیں؟‘

ایسے خیالات ہر سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے ذہن میں گردش کرتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے سوچا ہے؟

کیا آپ ہر وقت اداس، مایوس یا غصے میں رہتے ہیں یا آپ کو مستقل پریشانی یا کوئی خوف ستا رہا ہے؟

آپ اپنی ذہنی کیفیت کے متعلق کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں اپنے آپ سے کرنے چاہئیں۔

نوجوانوں میں ڈپریشن کا رجحان
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ نوجوان اور بالخصوص خواتین ڈپریشن کا شکار ہیں۔

یو ایس سینٹرز آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی ایک رپورٹ میں ہائی اسکول جانے والے طلبہ کی ذہنی صحت پر تحقیق کی گئی، اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان طلبہ کی ذہنی صحت انتہائی ناقص اور پریشان کن ہے۔

یہ تحقیقاتی رپورٹ فروری کے وسط میں جاری ہوئی اور اس کے اعدادوشمار 2021 پر مبنی ہے۔

سروے سے معلوم ہوا کہ 57 فیصد نوعمر لڑکیوں میں ناامیدی اور مایوسی چھائی ہوئی ہے جبکہ نوعمر لڑکوں کی شرح 29 فیصد تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 3 میں سے ایک نوعمر لڑکی نے خودکشی کی کوشش کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا۔

واضح رہے کہ یہ تحقیق امریکا میں ہوئی ہے، پاکستان میں اعداد و شمار مختلف ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ذہنی صحت سے منسلک ہے؟
کیا آپ سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کررہے ہیں؟ کیا ناقص جسمانی اور ذہنی صحت سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے منسلک ہے؟ ان سوالات پر ماہرین اور سائنسدان اب بھی تحقیقات میں مصروف ہیں۔

البتہ زیادہ تر ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بالخصوص بچوں کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا روزانہ استعمال، بے جا اسکرولنگ کرنا، فیس بُک استعمال کرنا، دوسروں کے اسٹیٹس پر اپ ڈیٹ رکھنا، یہ عادات آپ کو بے چینی میں مبتلا کرسکتے ہیں۔

اگر آپ نوجوان ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ ان 36 فیصد نوجوان طبقے کا حصہ ہوں جو ڈپریشن یا کسی اور ذہنی مرض کے ساتھ خاموشی سے لڑ رہا ہے۔

اگر آپ واقعی یہ محسوس کررہے ہیں کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہیں، رات بھر نیند نہیں آتی، زندگی کو جینے کی امید کھو رہے ہیں یا خودکشی کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو قابلِ بھروسہ، سند یافتہ سائیکاٹرسٹ سے لازمی رابطہ کریں۔

آپ کو زکام ہو جائے یا کوئی اور بیماری ہو تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ایک اچھے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو پھر ذہنی بیماری کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کریں۔

سوشل میڈیا سے وقفہ
ویلز کی سوانسا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں سوشل میڈیا پر گزارے جانے والے وقت میں صرف 15 منٹ کی کمی سے عمومی صحت اور مدافعتی افعال بہتر ہوتے ہیں جبکہ ڈپریشن کی شدت گھٹ جاتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے دورانیے میں 15 منٹ کی کمی سے لوگوں کے مدافعتی افعال 15 فیصد بہتر ہو گئے جس کے باعث موسمی نزلہ زکام، فلو اور دیگر بیماریوں کے کیسز میں کمی آئی۔

اسی طرح ان افراد کی نیند کا معیار 50 فیصد بہتر ہوگیا جبکہ ڈپریشن کی علامات میں 30 فیصد کمی آئی۔

محققین نے بتایا کہ جب لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا استعمال کم کیا جاتا ہے تو ان کی زندگیوں کے متعدد پہلوؤں میں بہتری آتی ہے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Multan