Daily Quran and Hadees
14/05/2026
کیا انبیائے کرام سے بھی گناہ سرزد ہوتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 36
اس مقام پر بےساختہ یہ خیال پریشان کرنے لگتا ہے کہ کیا انبیاء سے بھی گناہ سرزد ہوتا ہے ؟ اس لیے اجمال کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سلسلہ کے متعلق کچھ عرض کرنا نہایت ضروری ہے۔ علامہ قرطبی (رح) نے بڑی عمدگی سے اس مشکل کو حل کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔ انہم معصومون من الصغائر کلھا کعصمتہم من الکبائر اجمعہا۔ یعنی مالکی۔ حنفی اور شافعی مسلک کے جمہور فقہاء کا یہ مذہب ہے کہ انبیاء جس طرح کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اسی طرح صغیرہ گناہوں سے بھی پاک ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان کی مطلق اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر ان سے گناہ کا ارتکاب ہو سکے تو ان کے گناہوں کی اطاعت بھی لازم آئے گی۔ جس سے ہدایت کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس پر یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ قرآن حکیم میں جا بجا انبیاء کی طرف ایسی چیزیں منسوب ہیں جو گناہ ہیں اور پھر ان امور پر انبیاء کی شدید ندامت اور استغفار بھی منقول ہے۔ ایسے میں مطلق عصمت کا قول کیونکر ممکن ہے۔ اس شبہ کے ازالہ کے لیے ایک چیز کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ وہ یہ کہ کوئی فعل گناہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی حکم کی نافرمانی کا عزم اور قصد پایا جائے۔ اور اگر عزم اور قصد مفقود ہے بلکہ بےارادہ بھول چوک سے کوئی ایسا فعل سر زد ہوجائے جو بظاہر کسی حکم کے خلاف ہے تو اسے گناہ نہیں کہتے۔ اور ایسے امور کا صدور عصمت انبیاء کے منافی نہیں۔ اب آپ اسی ایک واقعہ پر غور کرین۔ قرآن حکیم کی تعبیر میں اس مسئلہ کی نزاکت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یہاں فرمایا ہے۔ فازلھما۔ اب آپ ” زلۃ “ کی لغوی تحقیق پر غور کیجئے۔ الزلۃ فی الاصل استرسال الرجل من غیر قصد : بلا ارادہ پاؤں کا پھسل جانا۔ دوسرے مقام پر قرآن نے بالکل اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان فرمادیا فنسی ولم نجد لہ عزما۔ یعنی آدم سے یہ حرکت بھول سے ہوئی اس کا عزم و ارادہ ہرگز نہ تھا۔ جب تک عزم و ارادہ مفقود ہو اس فعل کو گناہ نہیں کہا جاسکتا۔::یعنی آدم (علیہ السلام) تو نور قدیم کی آنکھ تھے۔ اور آنکھ میں اگر ایک بال بھی گرجائے تو آنکھ کی نزاکت اس کو برداشت نہیں کرسکتی بلکہ وہ ہلکا سا بال یہاں پہاڑ سے بھی بوجھل محسوس ہونے لگتا ہے۔
اس آیت میں یہ لطیف اشارہ بھی ہے کہ اس دنیا میں تمہارا قیام ہمیشہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ تمہاری عارضی قیام گاہ ہے۔ ان فرصت کے لمحوں میں تمہیں اپنی ابدی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
12/05/2026
ظلم کیا ہوتا ہے اور ظالم کسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 35
تفسیر:
سورة الْبَقَرَة 49
ظالم کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔”ظلم“ دراصل حق تلفی کو کہتے ہیں۔ ظالم وہ ہے جو کسی کا حق تلف کرے۔ جو شخص خدا کی نافرمانی کرتا ہے، وہ درحقیقت تین بڑے بنیادی حقوق تلف کرتا ہے۔ اوّلاً خدا کا حق، کیونکہ وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے۔ ثانیاً ان تمام چیزوں کے حقوق جن کو اس نے اس نافرمانی کے ارتکاب میں استعمال کیا۔ اس کے اعضائے جسمانی، اس کے قوائے نفس، اس کے ہم معاشرت انسان، وہ فرشتے جو اس کے ارادے کی تکمیل کا انتظام کرتے ہیں، اور وہ اشیاء جو اس کام میں استعمال ہوتی ہیں، ان سب کا اس پر یہ حق تھا کہ وہ صرف ان کے مالک ہی کی مرضی کے مطابق ان پر اپنے اختیارات استعمال کرے۔ مگر جب اس کی مرضی کے خلاف اس نے ان پر اختیارات استعمال کیے، تو درحقیقت ان پر ظلم کیا۔ ثَا لثًا خود اپنا حق، کیونکہ اس پر اس کی ذات کا یہ حق ہے کہ وہ اسے تباہی سے بچائے، مگر نافرمانی کر کے جب وہ اپنے آپ کو الله کی سزا کا مستحق بناتا ہے، تو دراصل اپنی ذات پر ظلم کرتا ہے۔ انہی وجوہ سے قرآن میں جگہ جگہ گناہ کے لیے ظلم اور گناہ گار کے لیے ظالم کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
10/05/2026
ابلیس یا شیطان کسے کہتے ہیں۔۔۔؟
سورۃ البقرة
آیت نمبر 34
تفسیر:
اِبْلِیسْ لفظی ترجمہ ”انتہائی مایوس“۔ اصطلاحاً یہ اس جن کا نام ہے جس نے الله کے حکم کی نافرمانی کر کے آدم اور بنی آدم کے لیے مطیع و مُسَخَّر ہونے سے انکار کردیا اور الله سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی کہ اسے نسل انسانی کو بہکانے اور گمراہیوں کی طرف ترغیب دینے کا موقع دیا جائے۔ اسی کو ”الشَیْطَان“ بھی کہا جاتا ہے۔ درحقیقت شیطان اور ابلیس بھی محض کسی مجرّد قوت کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ بھی انسان کی طرح ایک صاحب تشخّص ہستی ہے۔ نیز کسی کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہونی چاہیے کہ یہ فرشتوں میں سے تھا۔ آگے چل کر قرآن نے خود تصریح کردی ہے کہ وہ جِنّوں میں سے تھا، جو فرشتوں سے الگ، مخلوقات کی ایک مستقل صنف ہیں۔
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
Daily Quran and Hadees
#قرآن #قرآنیات
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Multan