Somrow Network
09/03/2025
شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔
اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار, کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی, کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں "تھاکوٹ" تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اسکو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ چلاس کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔ رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور, دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ, کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی, سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر, اشکومن, غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔ گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپکو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نہ دباتا ہو۔ "پاسو کونز" اس بات کی بہترین مثال ہیں۔ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی, التر, بتورہ, کنیانگ کش, دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔عطاآباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک مصنوعی لیکن انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔سست کے بعد شاہراہ قراقرم کا پاکستان میں آخری مقام خنجراب پاس آتا ہے۔سست سے خنجراب تک کا علاقہ بے آباد, دشوار پہاڑوں اور مسلسل چڑھائی پر مشتمل ہے۔ خنجراب پاس پر شاہراہ قراقرم کی اونچائی 4,693 میٹر ہے اسی بنا پر اسکو دنیا کے بلند ترین شاہراہ کہا جاتا ہے۔ خنجراب میں دنیا کے منفرد جانور پائے جاتے ہیں جس میں مارکوپولو بھیڑیں, برفانی چیتے, مارموٹ, ریچھ, یاک, مارخور اور نیل گائے وغیرہ شامل ہیں۔اسی بنا پر خنجراب کو نیشنل پارک کا درجہ مل گیا ہے۔اس سڑک پر آپکو سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پتھریلے و بنجر پہاڑی سلسلے اور دیوقامت برفانی چوٹیوں, دریاؤں کی بہتات, آبشاریں, چراگاہیں اور گلیشیئر سمیت ہر طرح کے جغرافیائی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں یہ قدرتی حسن کا بیش قیمت تحفہ خداوندی ہے جو نا صرف آپکا سفر خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آپ کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے.
پاکستان زندہ باد ❤️
Somrow Network
08/07/2024
شادی کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے سے دل کیوں اکُتا جاتا ہے۔؟
اگرچ نکاح دنیا کا سب سے انمول تحفہ ہے تو کیوں آج کل لوگ اس رشتے کو نبھا نہیں پا رہے؟
کیوں وہ جیون ساتھی ہونے کے باوجود کسی اور شخص کو اپنی زندگی میں لے آتے ہیں؟
کیوں اپنے جیون ساتھی سے اُکتاہٹ ہو جاتی ہے؟
کیوں آہستہ آہستہ غلط فہمیاں رشتے کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ کیوں اتنا قریب ہو کر انسان اتنا دور ہو جاتا ہے؟
اس پہ بہت سے لوگوں نے رائے دی ہے۔ میں تھوڑا اس پہ روشنی ڈالنا چاہوں گا، کے کس طرح آپ اپنی زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں۔
1:-👈 شادی سے پہلے آج کل مرد اور عورت کی زندگی میں پہلے سے ہی کوئی اور شخص ہوتا ہے۔ جو کہ کسی وجہ سے زندگی میں نہیں آتا، جس کی وجہ نکاح کہیں ہو جاتا ہے اور جیون ساتھی کو وہ مقام نہیں ملتا، جو ملنا چاہیئے۔
2:-👈 اپنے جیون ساتھی کو کسی اور سے کمپیئر کرنا اور سوچنا کہ اس میں یہ خامی ہے، یہ برائی ہے اور پھر اس کی خامیوں کے خلاف ہو جانا گھر کی بربادی کا سبب بنتا ہیں۔
3:-👈کسی تیسرے شخص کی انوالمنٹ یعنی اپنی شادی شدہ زندگی میں کسی تیسرے شخص کو لے آنا۔ اس کی باتیں سُننا، اس کو وقت دینا۔ مکمل اگنور کرنا، یہ محسوس کروانا کہ بس تمہاری زندگی میں میری کوئی ویلیو ہی نہیں۔ اس کے بعد مرد اور عورت کو تیسرا بندہ اچھا لگنے لگ جاتا ہے۔
4:-👈چھوٹے چھوٹے مواقع پہ جیون ساتھی کو وش نا کرنا۔ یا اگر ایک شخص بالکل سادہ ہو تو اس کی سادگی کا مزاق اڑانا کہ دنیا یہاں پہنچ چکی ہے اور تمسخر اڑانا۔
اپنے جیون ساتھی کو وقت نا دینا، اس کا حال نا پوچھنا، ایسے رویہ سے بغاوت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
5:-👈اگر شوہر خستہ حال ہو تو بات بات پہ اس کو طعنہ دینا کہ میرے گھر یہ تھا، یہ وہ تھا۔ یا میرا نصیب خراب کہ تم سے شادی ہو گئی۔ بے جا خواہشات شوہر کا خیال نا رکھنا، اس کے لئے سجنا سنورنا نہیں۔ اپنے آپ کو بس یہ سمجھنا کہ اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔
6:-👈 نکاح کے بعد مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ عورت کو پتا ہونا چاہیئے کہ اس کے شوہر کے کتنے وسائل ہیں۔ اس کی تکلیف پریشانی میں اس کو اس بات کا یقین دلوایا جائے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔
7:-👈حد سے زیادہ اُمیدیں کبھی اپنے جیون ساتھی سے نہیں لگانی چاہیئے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے۔ سب کے سامنے تذلیل کرنے سے دوریاں جنم لیتیں ہیں۔
8:-👈 کبھی کبھی پیار کا اظہار کر لینا چاہیئے۔ اگر ہو سکے تو دن میں ایک دفعہ ضرور اس کا حال پوچھنا چاہیئے۔ اگر غلطی ہو جائے تو اس پہ سب کے چیخنے چلانے کی بجائے اس کو پیار سے سمجھنا چاہیئے۔ نا کہ سب کے سامنے تماشہ بنانا چاہیئے۔
9:-👈جو کچھ ہم اپنے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ کے ساتھ کرنا چاہیتے ہیں۔ وہ خواب ہم اپنے حلال رشتے کے ساتھ پورا کر سکتے ہیں۔ اگر کہیں گھومنے جانا ہو تو اپنی وائف کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ کہیں پہ کھڑے ہو کر آپ کچھ بھی کھا سکتے ہیں، کوئی آپ کو اعتراض نہیں کرے گا۔
10:-👈 زندگی نام کمپرومائز کا ہے، کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ جو چیز ہمیں نہیں ملتی، ہم اس کی طلب کرتے ہیں اور جو مل جاتی ہے، اس کی قدر نہیں کرتے۔ تعریف کے کچھ کلمات آپ کے جیون ساتھی کو آپ کا غلام بنا سکتے ہیں۔
Somrow Network
27/08/2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Telephone
Website
Address
Multan
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 12:00 |
21/08/2023