True

True

Share

22/04/2026

دیکھیئے سنیئے اور پٹواریوں کی ماں کے حربے ملاحظہ فرمایئے ۔

Photos from True's post 13/04/2026

پاکستان کی تاریخ گواہ ھے کہ جب بھی عالمی طاقتوں کو اپنے مفادات کے لئے اس خطے میں ایندھن کی ضرورت پڑی، ہمارے ہاں مقتدر حلقوں نے قوم کو ایک نیا بیانیہ، ایک نیا "چورن" بیچ کر پرایا کھیل کھیلا۔ ضیاء الحق کے دور سے لے کر جنرل مشرف اور پھر موجودہ حالات تک—کہانی کے کردار بدلتے رھے مگر کہانی کا سکرپٹ اور اس کا بھیانک انجام ہمیشہ ایک جیسا ہی رہا۔ سوال یہ ھے کہ کیا ہم واقعی ایک آزاد اور خود مختار قوم کے طور پر اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، یا ہر بار ڈالروں اور بیرونی آشیرباد کے بدلے قوم کی نسلوں کا سودا کر دیا جاتا ھے؟
۱۹۸۰ء کی دہائی میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی، تو یہ دراصل دو عالمی سپر پاورز کی اپنی بقاء اور بالادستی کی جنگ تھی۔ مگر پاکستان کے اس وقت کے مقتدر حلقوں اور آرمی چیف ضیاء الحق نے اس جنگ کو پاکستان کے گلی کوچوں میں "افضل جہاد" بنا کر پیش کیا۔ اس جنگ کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے ہمارے جید علماء کرام، مشائخ اور ریاستی اداروں نے مل کر ایک ایسا مذہبی اور جذباتی بیانیہ تیار کیا جس نے نوجوانوں کو اس پرائی جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔ سوویت یونین تو ٹوٹ گیا اور امریکہ جیت گیا، لیکن پاکستان کو اس سودے کے بدلے کلاشنکوف کلچر، ہیروئن کی وباء، مذھبی انتہا پسندی اور لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ ملا، جس کے زخم آج بھی رس رہے ہیں۔ ہماری نسلوں کا مستقبل محض بیرونی مفادات کے لیے داؤ پر لگا دیا گیا۔
وقت بدلا اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کو ایک بار پھر اس خطے میں اپنے فوجی مقاصد پورے کرنے تھے۔ نائن الیون کے بعد ایک ٹیلی فون کال پر پاکستان کی خود مختاری کا سودا کر دیا گیا۔ جو کل تک "مجاہدین" تھے، وہ اچانک "دہشت گرد" قرار پائے۔ وہی ادارے اور وہی مقتدر حلقے جو پہلے جہاد کے فضائل بیان کرتے تھے، اب "سب سے پہلے پاکستان" کے نام پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف برسرِ پیکار ہو گئے۔ اس فیصلے نے ملک کے اندر خودکش دھماکوں، دہشت گردی اور عدم استحکام کا وہ طوفان کھڑا کیا جس میں ہزاروں معصوم پاکستانیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ ایک بار پھر، مقتدر اشرافیہ نے بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کو اپنا بنا کر پیش کیا اور خمیازہ غریب عوام نے بھگتا۔
موجودہ دور میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ حصوں میں مصنوعی اور ظاہری امن دکھا کر دنیا اور ملک کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب پرامن ہے یا سندھ کے کچھ علاقوں میں سکون ہے تو یہ صریحاً خود فریبی ہے۔ قوم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ملک کی دوسری پٹی، خصوصاً خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں کتنا ہولناک خون اور دھماکوں کا کھیل جاری ہے۔ خیبر پختونخوا کی مٹی پچھلے ۴۰ سالوں سے مسلسل حالتِ جنگ میں ہے۔ وہاں خودکش حملے، بم دھماکے اور نت نئے فوجی آپریشنز ایک معمول بن چکے ہیں۔ آج بھی ہمارے بچے، بوڑھے، جوان اور ہماری مائیں اس آگ میں جل رہی ہیں۔ اس مسلسل مسلط کردہ جنگ نے ہمارے بچوں سے ان کی تعلیم چھین لی، نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا، اور ہمارے علاقے کی معیشت کا جنازہ نکال دیا۔ آج بھی جنازے اٹھانے کا یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔
آج ایک بار پھر ملک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور پسِ پردہ مقتدر حلقوں کی جانب سے نئی ڈیلز اور نئی جنگوں کی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ تاریخ کے اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، ایک بار پھر عوام کے اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال کر کسی اور کا ایجنڈا مسلط کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ کیا اب بھی وہی پرانا کھیل کھیلا جائے گا؟ کسی بھی ملک کی تباہی تب یقینی ہو جاتی ہے جب اس کے فیصلے اپنے عوام کے بجائے غیروں کے اشاروں پر کیے جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بار بار کی جانے والی ان سٹرٹیجک غلطیوں اور ذاتی مفادات پر مبنی فیصلوں کی قیمت ہمیشہ اس ملک کے غریب عوام اور بے گناہ شہریوں نے اپنے خون اور پسماندگی سے چکائی ھے۔
اب وقت آ گیا ھے کہ پورے پاکستان کی عوام، خواہ وہ کسی بھی صوبے سے ہوں، آنکھیں کھولیں۔ اس سنگین کھیل کو نزدیک سے دیکھیں اور سمجھیں کہ جب تک پاکستان کا ایک بھی حصہ جل رہا ہے، پورا ملک کبھی محفوظ نہیں ھو سکتا۔ ملک کی اصل خودمختاری تب ھی ممکن ھے جب فیصلے بند کمروں میں بیرونی ایجنڈوں کے تحت نہیں، بلکہ سڑکوں پر موجود عوام کی فلاح اور حقیقی قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کئے جائیں ۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Mardan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Mardan

Opening Hours

Monday 23:00 - 19:00
Tuesday 00:00 - 20:00
Wednesday 00:00 - 20:00
Thursday 00:00 - 02:00
Friday 00:00 - 00:00
Saturday 00:00 - 00:00
Sunday 00:00 - 00:00