Knowledge Hub
کیا آنے والے وقت کے بچے نافرمان ہوں گے؟
ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ "آج کل کے بچے بہت بدتمیز اور نافرمان ہو گئے ہیں"۔ لیکن اگر ہم اسے جذباتی ہونے کی بجائے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض "تربیت کی کمی" نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے حالات کا اثر ہے۔ بچے وہ کچھ کر رہے ہیں جو ان کے اردگرد کا ماحول ان سے کروا رہا ہے۔
مستقبل کے بچوں کے باغی ہونے کی چند بڑی اور سیدھی وجوہات یہ ہیں۔
1. اب والدین کے پاس ہر سوال کا جواب نہیں ہے
پہلے وقتوں میں والدین ہی بچے کی معلومات کا واحد ذریعہ تھے۔ بچہ ہر چیز کے لیے والدین کا محتاج تھا۔ آج انٹرنیٹ اور سمارٹ فون کی وجہ سے بچہ ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ جب بچے کو لگتا ہے کہ اسے اپنے والدین سے زیادہ معلومات تک رسائی حاصل ہے، تو وہ لاشعوری طور پر والدین کے دبدبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جب مجھے سب پتہ ہے، تو میں حکم کیوں مانوں؟
2. فوری خوشی (فوری تسکین) کی عادت
ویڈیو گیمز، سوشل میڈیا اور سکرینز کی وجہ سے بچوں کے دماغ کو ہر وقت فوری خوشی یا "ڈوپامائن" مل رہا ہے۔ انہیں ہر چیز ایک کلک پر چاہیے۔ اس کے مقابلے میں گھر کے اصول، صبر، اور محنت کے کام انہیں بہت سست اور بورنگ لگتے ہیں۔ جب ہم انہیں حقیقی دنیا کے اصول سکھاتے ہیں تو انہیں وہ اپنے "موج مستی والے ماحول" کے خلاف لگتے ہیں، جسے ہم نافرمانی سمجھ لیتے ہیں۔
3. "میں" کا بڑھتا ہوا تصور
آج کل دنیا بھر میں بچوں کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ "تم خود کو سب سے اہم سمجھو"۔ اسکولوں اور سماج میں انہیں سوال اٹھانے اور اپنی مرضی کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ جب بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ وہ خود ایک الگ شخصیت ہے، تو وہ گھر کے سخت اصولوں کو اپنی آزادی پر حملہ سمجھ کر ان کے خلاف دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
4. گھر کے باہر کے "ہیرو"
ماضی میں بچے کا رول ماڈل اس کا باپ یا استاد ہوتا تھا۔ اب بچے کا ہیرو انٹرنیٹ پر موجود یوٹیوبر یا کوئی انفلوئنسر ہے۔ یہ ورچوئل شخصیات انہیں وہ آزادی اور چمک دمک دکھاتی ہیں جو گھر میں ممکن نہیں۔ جب والدین ان ورچوئل آئیڈیلز پر روک ٹوک کرتے ہیں تو بچہ والدین کو اپنا حامی نہیں بلکہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھنے لگتا ہے۔
5. دوستی کے چکر میں اختیار کا خاتمہ
کئی والدین بچوں کو اپنا "دوست" بنانے کے چکر میں والدین والی ذمہ داری اور رعب کھو دیتے ہیں۔ جب گھر میں کوئی واضح حد بندی نہ ہو، تو بچہ خود کو گھر کا سربراہ سمجھنے لگتا ہے۔ جب والدین دوستی کی سطح پر آ جاتے ہیں، تو وہ گھر کا نظم و ضبط برقرار نہیں رکھ پاتے۔ بچہ پھر وہی کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے۔
محرک کا مشورہ
مستقبل کے بچے خراب نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی تیز رفتار ٹیکنالوجی کی دنیا کا حصہ ہیں جہاں پرانے طریقے کام نہیں کر رہے۔ اب والدین کو صرف "حکم دینے والے" بن کر نہیں رہنا ہوگا۔
کیا ہمیں اپنے طریقے بدلنے کی ضرورت ہے؟
جی ہاں! اب والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ "اختیار" (ڈانٹ ڈپٹ) دکھانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین "اثر و رسوخ" (Indirect Influence) استعمال کریں۔ یعنی بچوں کے ساتھ زبردستی کرنے کی بجائے، انہیں ایسے ماحول اور ترغیبات (Leverage) کا عادی بنایا جائے جہاں وہ خود بخود صحیح فیصلے کرنے پر آمادہ ہوں۔ ہمیں بچوں کا مالک بننے کی بجائے ان کا 'مینیجر' بننا ہوگا، تاکہ ان کی توانائی کو صحیح سمت میں موڑا جا سکے۔
آپ کا کیا خیال ہے، کیا ہم اس نئے دور کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے تیار ہی
#بیچنے کے چند اہم اصول:
▪️ پہلے #گاہک کی ضرورت سمجھیں
▪️ کم بولیں، زیادہ سنیں
▪️ نرم لہجہ اور اچھا #اخلاق رکھیں
▪️ سچ بولیں، جھوٹا وعدہ نہ کریں
▪️ اپنی پروڈکٹ کی مکمل معلومات رکھیں
▪️ گاہک کو عزت دیں، چاہے وہ خریدے یا نہیں
▪️ صفائی، وقت کی پابندی اور اعتماد کامیاب سیلز کی بنیاد ہیں
▪️ صرف چیز نہ بیچیں، فائدہ سمجھائیں
▪️ مستقل مزاجی اور صبر ہر بڑے سیلز مین کی طاقت ہے
▪️ ناراض گاہک کو بھی اچھے اخلاق سے سنبھالنا ایک فن ہے
یاد رکھیں!
لوگ پروڈکٹ سے پہلے انسان پر اعتماد کرتے ہیں۔
بزنس میں کامیابی صرف خریدنے میں نہیں،
بلکہ بہترین انداز میں بیچنے میں بھی ہوتی ہے۔
بزنس مینٹور عرفان اللہ خان
بزنس کے سب سے اہم اصول:
1.Inversion (الٹی سوچ)
سب سے طاقتور اصول۔
"ہمیشہ الٹا سوچیں — کامیاب ہونے کی بجائے ناکام ہونے سے بچنے کا طریقہ سوچیں۔"
مثال: خوشحال زندگی گزارنے کی بجائے یہ سوچیں کہ زندگی برباد کیسے ہو سکتی ہے، پھر اس سے بچیں۔
2. Latticework of Mental Models
اپنے دماغ میں مختلف علوم کے 100+ ماڈلز کا جال بنائیں۔ ایک مسئلے کو دیکھنے کے لیے صرف ایک لینز استعمال نہ کریں، بلکہ کئی زاویوں سے دیکھیں۔
3. Lollapalooza Effect
جب کئی نفسیاتی اور معاشی اصول ایک ساتھ کام کریں تو بہت بڑا اثر پیدا ہوتا ہے (اچھا یا برا)۔
4. Stupidity سے بچیں (Avoid Stupid Mistakes)
"میں کامیاب ہونے کی بجائے بیوقوفی سے بچنے پر زیادہ توجہ دیتا ہوں۔"
Brilliant نہیں بننا، بس احمقانہ غلطیوں سے بچنا کافی ہے۔
5. Circle of Competence*
صرف اس دائرے میں رہیں جہاں آپ کو گہری سمجھ ہو۔ باہر نہ جائیں۔
6. Read, Read, Read
روزانہ بہت زیادہ پڑھیں۔ منگر کہتے تھے کہ وہ دن میں 500 صفحے پڑھتے تھے۔
7. Multidisciplinary Thinking
ایک شعبے کا ماہر نہ بنیں، بلکہ کئی شعبوں کا عمومی فہم رکھیں۔
M***i Irfan Ullah Khan علماء اکنامک ڈویلپمنٹ فورم
تجارت سیکھئیے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Mardan
Mardan
23200