ESAR Health Centre
21/03/2026
ایثار ہیلتھ سنٹر کی جانب سے تمام اہل اسلام کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں۔ عید کا دن خوشیاں بانٹنے کا دن ہے۔ ناراضگی ختم کریں اور گلے ملیں تاکہ دل کی کدورتیں ختم ہوں۔۔
EID MUBARAK
28/02/2026
چند روز سے میرا معمول ہے کہ میں دور ایک دشوار گزار پہاڑی کی چوٹی پر مقیم اس بوڑھے مریض کی پٹی کرنے کے لئے جاتا ہوں جس کا جسم ذیابطیس (Diabetes) کی بے رحمی کا شکار ہے۔ مرض اس قدر جڑ پکڑ چکا تھا کہ زخم کے گینگرین بن جانے کے باعث ناچار ان کی ٹانگ کاٹنی پڑی۔ کٹی ہوئی ٹانگ کے اسی زخم کی مرہم پٹی کرنے کے لئے مجھے روز جانا پڑتا ہے۔
گزشتہ روز حسبِ معمول میں پٹی کرکے لوٹ چکا تھا کہ عصر کے وقت بابا جی کے پوتے سراسیمگی کی حالت میں آئے اور بابا جی کو کینولا لگانے کی درخواست کی۔ معلوم ہوا کہ بابا جی کو ڈرپ لگانی ہے۔ میں نے احتیاطاً ان کے بڑے صاحبزادے سے فون پر رابطہ کیا اور مشورہ دیا کہ اگر ناگزیر نہیں تو یہ عمل صبح تک ٹالا جا سکتا ہے تاکہ میں پٹی اور ڈرپ دونوں کام ایک ساتھ کر لوں۔ ورنہ مجھے بے سبب ہی روزے کی حالت میں اتنی مشقت کرنی پڑے گی۔ لیکن وہاں سے اصرار کیا گیا کہ ڈاکٹر کے بقول ڈرپ ابھی لگانا لازم ہے۔
یوں روزے کی حالت میں سنگلاخ راستوں اور دشوار گزار چڑھائیوں کو عبور کرتے ہوئے میں جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ باباجی کو لگوانے کے لئے جو بوتل لائی گئی ہے وہ 5% Dextrose اور Ringer's Lactate کا ایک لیٹر پر مشتمل آمیزہ ہے۔ ذیابطیس کے مریض کے لئے اس قدر شکر (Glucose) کا براہِ راست رگوں میں جانا کسی خطرے سے کم نہ تھا مگر لواحقین کے ڈاکٹر کے مشورے والے پختہ بیان کے سامنے میں نے خاموشی سے ڈرپ لگائی اور واپس آ گیا۔
اگلی صبح جب میں دوبارہ پٹی کے لئے پہنچا تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ بابا جی نقاہت سے نڈھال اور نیم بے ہوشی کے عالم میں تھے۔ جب ان کا شوگر لیول چیک کیا تو وہ 570 mg/dL کی خطرناک حد کو چھو رہا تھا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ ابھی تک انسولین بھی نہیں دی گئی۔ جب میں نے سختی سے پوچھا کہ کیا واقعی یہ ڈرپ انہی کے ڈاکٹر نے لکھی تھی؟ تو پتہ چلا کہ یہ مشورہ ان کے اپنے ڈاکٹر کا نہیں بلکہ ان صاحب کا تھا جنہیں ڈاکٹر سمجھا جا رہا تھا وہ اچھڑیاں میں کلینک چلانے والے ایک ٹیکنیشن ہیں جو انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا خاصہ تجربہ رکھتے ہیں۔ طاقت کے نام پر لگائی جانے والی وہ ڈرپ دراصل بابا جی کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوئی۔
فوری طور پر ایثار ہسپتال کے ڈاکٹر حمزہ خان سے مشورہ کر کے انہیں صبح والی انسولین کی خوراک دے دی۔ مگر بابا جی کی حالت اس قدر ابتر تھی کہ وہ پٹی بدلنے کے صبر آزما عمل کی تاب لانے کے قابل نہیں تھے۔ سو میں بوجھل دل کے ساتھ واپس آ گیا۔
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم کب تک نیم حکیم خطرۂ جان کے مصداق ان عطائیوں کو مسیحا مانتے رہیں گے؟ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک میڈیکل ٹیکنیشن محض طبی معاون ہوتا ہے، اسے تشخیص یا خود سے علاج تجویز کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں۔ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کی رائے پر عمل کرنا محض جہالت نہیں بلکہ اپنے پیاروں کو خود اپنے ہاتھوں موت کے کنویں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
باقی ہمارے ڈاکٹر صاحبان بہتر سمجھا سکتے ہیں کہ اس ساری صورتحال کا آخر نچوڑ کیا ہے اور ایسی پریشانی سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟؟
27/02/2026
آپ کی صحت، ہماری ترجیح
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Silk Highway, Kotli Paain
Mansehra
21300