Muhammad Adil

Muhammad Adil

Share

17/03/2026

صبح ابھی پوری طرح روشن بھی نہیں ہوئی تھی۔ رحیم یار خان کے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک عورت نے جلدی جلدی چولہا بجھایا، بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور دروازے سے نکلتے ہوئے بس اتنا کہا:
“آج پیسے مل جائیں تو گھر کا خرچ کچھ دن چل جائے گا۔”
یہ وہی بیس ہزار روپے تھے جو Benazir Income Support Programme کے تحت ملنے تھے۔
بیس ہزار روپے… کسی کے لیے شاید ایک معمولی رقم، مگر کسی ماں کے لیے اس کا مطلب ہوتا ہے بچوں کی فیس، گھر کا آٹا، اور چند دن کی سانس۔
وہ عورت اکیلی نہیں تھی۔ اس جیسی سینکڑوں عورتیں صبح سے قطاروں میں کھڑی تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں شناختی کارڈ تھا، کسی کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، کسی کی آنکھوں میں امید تھی کہ آج گھر جاتے ہوئے بچوں کے لیے کچھ لے جائے گی۔
لیکن وہاں امید سے زیادہ رش تھا، بدنظمی تھی اور بے حسی تھی۔
لوگ بڑھتے گئے، قطاریں ٹوٹتی گئیں، اور انتظام نام کی چیز کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
رش اتنا بڑھا کہ کچھ عورتیں چھت پر چڑھ گئیں… شاید اس امید میں کہ اوپر سے جلدی باری آ جائے گی، شاید اس مجبوری میں کہ نیچے کھڑے رہنے کی جگہ ہی نہ رہی تھی۔
پھر ایک لمحہ آیا…
ایک خوفناک آواز آئی…
اور وہ چھت زمین پر آ گری۔
چند لمحے پہلے جو عورتیں اپنے گھروں کے لیے بیس ہزار روپے لینے آئی تھیں، وہ ملبے کے نیچے دب چکی تھیں۔
چیخیں تھیں، دھول تھی، بھاگتے لوگ تھے… اور امیدیں ملبے کے ساتھ دبتی جا رہی تھیں۔
کہتے ہیں اس حادثے میں بیس عورتیں جان سے گئیں اور درجنوں زخمی ہوئیں۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اس دن صرف عورتیں نہیں مریں، کئی گھروں کی امیدیں مر گئیں۔
سوچیے…
وہ عورت جو صبح بچوں کو کہہ کر نکلی تھی کہ “شام تک آ جاؤں گی”،
وہ شام کو واپس آئی… مگر کفن میں لپٹی ہوئی۔
یہ سوال صرف حادثے کا نہیں، نظام کا بھی ہے۔
اگر انتظام ہوتا، اگر لوگوں کے لیے باقاعدہ جگہ اور نظم ہوتا، اگر ریاست ان مجبور عورتوں کو عزت اور تحفظ کے ساتھ چند روپے دینے کا بندوبست کر سکتی… تو شاید آج کئی گھر اجڑنے سے بچ جاتے۔
یہاں ایک سوال اور بھی دل کو چیرتا ہے۔
جب حکومت عوام سے کچھ لیتی ہے تو ہر چیز بڑی منظم اور سخت ہوتی ہے۔
ٹیکس وصول کرنا ہو، بل جمع کرانے ہوں یا کوئی جرمانہ دینا ہو تو قطاریں سیدھی بھی ہوتی ہیں، نظام بھی سخت ہوتا ہے اور قانون بھی پوری طاقت سے کھڑا نظر آتا ہے۔
مگر جب یہی حکومت عوام کو کچھ دینے لگتی ہے — وہ بھی چند ہزار روپے — تو پھر یہی نظم، یہی انتظام اور یہی سنجیدگی اچانک کیوں غائب ہو جاتی ہے؟
مگر سچ یہ بھی ہے کہ قصور صرف حکمرانوں کا نہیں۔
ہماری اپنی بے صبری، دھکم پیل اور بد نظمی بھی اس سانحے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔
یہ حادثہ ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔
ایک طرف حکومتی نااہلی ہے جو غریب کو ریلیف دیتے ہوئے بھی اس کی جان محفوظ نہیں رکھ سکتی، اور دوسری طرف ہمارا معاشرہ ہے جہاں ہجوم اکثر عقل کو کچل دیتا ہے۔
رحیم یار خان کی اس چھت کے ملبے تلے صرف اینٹیں نہیں گری تھیں…
وہاں ریاست کی ذمہ داری، معاشرے کا نظم اور کئی معصوم گھروں کے خواب بھی دفن ہو گئے تھے۔
اور آج کئی گھروں میں بچے شاید اب بھی دروازے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے…
کہ امی آئیں گی اور کہیں گی:
“لو بیٹا، آج گھر کے لیے بیس ہزار روپے لے آئی ہوں۔”
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بار
بیس ہزار روپے نہیں… بیس جنازے واپس آئے ہیں۔
— Saima Malik MIANWALI



゚viralシalシ

02/03/2026

‏بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا، "تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو؟"

کمہار نے جواب دیا کہ "جو بھی گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں، بسی اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔"

بادشاہ نے کہا، "کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟"

کمہار نے حامی بھر لی, ‏بادشاہ نے اسے منصب عطا کر دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ لایا گیا۔

کمہار نے فیصلہ سنایا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ "جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔"‏کمہار نے دوبارہ کہا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"

اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ "جناب تھوڑا خیال کریں۔ یہ اپنا خاص آدمی ہے۔"

کمہار بولا، "چور کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں اور شفارشی کی زبان کاٹ دی جائے۔"

اور کہتے ہیں کمہار کے صرف اس ایک ‏فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا۔

ہمارے ہاں بھی امن قائم ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے چوروں کے ہاتھ کاٹنا پڑیں گے اور کچھ لوگوں کی زبانیں کاٹنا پڑیں گی.............
#منقول

16/02/2026

عقلمند چرواہا اور بادشاہ کی بکری
ایک بادشاہ نے اپنی سلطنت میں اعلان کروایا کہ جو کوئی میری بکری کا پیٹ بھر دے گا، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ لیکن ایک شرط تھی: اگر پیٹ بھرنے کے دعوے کے بعد بکری نے دوبارہ گھاس کو منہ مارا، تو اس شخص کو سو کوڑے مارے جائیں گے۔
پورے ملک میں اس عجیب و غریب شرط کا چرچا ہو گیا۔ سب سے پہلے ایک بڑے عالم صاحب آئے۔ انہوں نے بکری کو بہت سا اناج اور عمدہ چارہ کھلایا۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ اب بکری مزید کچھ نہیں کھا سکتی، تو وہ اسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔ بادشاہ نے پرکھنے کے لیے تھوڑی سی ہری گھاس بکری کے سامنے ڈالی۔ بکری، جو اپنی فطرت سے مجبور تھی، فوراً گھاس پر جھپٹ پڑی۔ بادشاہ نے غصے میں کہا کہ عالم صاحب اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں، لہٰذا انہیں سو کوڑے لگائے جائیں۔
اگلے دن ایک وزیر صاحب نے ہمت دکھائی۔ انہوں نے بکری کو طرح طرح کے اناج اور قیمتی میوے کھلائے۔ بکری کا پیٹ پھول کر کپا ہو گیا، مگر جیسے ہی بادشاہ نے چارہ سامنے رکھا، بکری نے پھر سے منہ مارنا شروع کر دیا۔ وزیر صاحب کو بھی سو کوڑوں کی سزا بھگتنا پڑی۔ اس کے بعد کئی اور لوگ بھی آئے اور کوڑے کھا کر چلے گئے، کیونکہ بکری کا پیٹ تو بھر جاتا تھا مگر اس کی نیت نہیں بھرتی تھی۔
آخر میں ایک ہوشیار چرواہا دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا، "بادشاہ سلامت! مجھے ایک موقع دیں، میں آپ کی بکری کا پیٹ بھر دوں گا۔"
چرواہا بکری کو اپنے گھر لے گیا۔ اس نے ایک ہاتھ میں ہری گھاس پکڑی اور دوسرے ہاتھ میں ایک مضبوط لکڑی۔ جیسے ہی بکری نے گھاس کھانے کے لیے منہ بڑھایا، چرواہے نے اسے ایک زوردار لکڑی رسید کر دی۔ بکری سہم کر پیچھے ہٹ گئی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پھر کوشش کی اور پھر اسے مار پڑی۔ سارا دن یہی ہوتا رہا؛ چرواہا گھاس قریب لاتا اور جیسے ہی بکری منہ مارتی، وہ اسے مارنا شروع کر دیتا۔ شام تک بکری کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ گھاس کو منہ لگانے کا مطلب ہے "مار کھانا"۔
اگلے دن چرواہا بکری کو لے کر دربار پہنچا اور کہا، "بادشاہ سلامت! میں نے اس کا پیٹ بھر دیا ہے، اب یہ کچھ نہیں کھائے گی۔"
بادشاہ نے پرکھنے کے لیے ہری گھاس کا ایک گٹھا منگوایا اور بکری کے سامنے رکھا۔ جیسے ہی بکری کی نظر گھاس پر پڑی، وہ خوف کے مارے پیچھے بھاگنے لگی اور زور زور سے چلانے لگی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اب پھر اس کی پٹائی ہوگی۔
بادشاہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا اور بہت خوش ہوا۔ اس نے کہا، "تم واقعی کمال کے آدمی ہو، تم نے میری بکری کا پیٹ ایسا بھرا ہے کہ یہ کھانے سے توبہ کر رہی ہے۔" بادشاہ نے اسے ڈھیروں انعامات دے کر رخصت کیا۔

بادشاہ کو کیا معلوم تھا کہ بکری کا پیٹ نہیں بھرا تھا، بلکہ اسے کھانے کے نام سے ہی ڈر لگنے لگا تھا۔

حاصل کلام:
خوف ایک ایسی طاقت ہے جو انسان یا جانور کی فطری ضرورت (بھوک) پر بھی غالب آ سکتی ہے۔
جب کسی پر بہت زیادہ دباؤ یا خوف طاری کر دیا جائے، تو وہ اپنی بنیادی ضرورتوں سے بھی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔

01/02/2026

رات کو آگ لگی، گاڑیاں جل گئیں، نقصان ہو گیا…
لیکن سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ جن کو ریسکیو کہنا چاہیے تھا، وہ آئے ہی نہیں۔
ہم نے فوراً کال کی، امید کے ساتھ انتظار کیا،
مگر ریسکیو نہ وقت پر پہنچی، نہ بعد میں کوئی پوچھنے والا آیا۔
سوال یہ نہیں کہ نقصان ہو گیا،
سوال یہ ہے کہ اگر یہی آگ کسی گھر میں لگ جاتی؟
اگر کوئی جان چلی جاتی تو ذمہ دار کون ہوتا؟
ریسکیو اداروں سے گزارش ہے:
ہمیں صرف نام کی سروس نہیں، عملی سروس چاہیے۔
گاڑیاں، وردی اور اشتہارات کافی نہیں ہوتے،
اصل پہچان تو مشکل وقت میں ہوتی ہے۔
تنقید اس لیے نہیں کہ بدنام کیا جائے،
بلکہ اس لیے کہ نظام بہتر ہو،
تاکہ کل کسی اور کا نقصان ہم سب کے ضمیر پر نہ ہو۔
آگ نے گاڑیاں جلائیں،
لیکن ریسکیو کی غیر موجودگی نے اعتماد جلا دیا۔

17/01/2026

دین ہمارا محتاج نہیں ہم سب دین کے محتاج ہیں
آج کل سوشل میڈیا پر شاسوار خان نامی نوجوان کے اوپر تبصرے ہو رہے ہیں شاسوار شروع میں پشتو گلوکار تھا گانے گاتا تھا
پھر 12اپریل 2107 کو زنا اور اغواء کے کیس گرفتار ہوا اور 14 اپریل عدالت پیش پر 14 روزی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ۔ دوران تفتیش 2017 میں ہی شہسوار کی جیل سے رونے دھونے کی ویڈیوز آنا شروع ہوگئی تھی ۔ کسی خدا ترس تبلیغی نے اس کی ضمانت کروائی اور اسکو تبلیغ میں چار ماہ لگوائے پھر کافی عرصہ ٹھیک رہا لیکن پھر دنیاوی لالچ اور دنیاوی مفاد کی خاطر دینی لوگوں سے تعلق بنایا دینی حلیہ اور لباس اپنایا لیکن جیسے ہی لوگوں کی توجہ اور میلان کم ہوا تو یہ دوبارا اپنی فیلڈ کی طرف واپس آیا اس کی سوچ یہ ہے
کہ میں اگر دین سے جڑا رہوں تو لوگ مجھے عزت پیسے دیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے یہ دینی حلیہ اور دینی ماحول قبول نہیں اور یہ بار بار اس طرح کرتا ہے
کیا ہمارے دین کو شاسوار کی ضرورت ہے بلکل بھی نہیں
یہ غلطی ان لوگوں کی ہے جنہوں اس کو دنیاوی لالچ کی بنیاد پر دین کی طرف لائے لیکن اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کی اس کی سوچ کو نہیں بدلا یہ سمجھتا ہے کہ دین کے ماحول میں رہتے ہوئے میرے پاس پیسوں کی پراوانی ہو بینگ بیلنس ہو لوگ میری خدمت کریں گے اور پیسے دیں گے
ایک آدمی نے کہا ہم آپ کو ہوٹل میں کام دے رہے ہیں
جس سے آپ کے پورے گھر کا خرچہ چلے گا
یہ آگے سے کہتا ہے مُجھے ہوٹل میں کام نہیں ہوٹل چاہئیے
واہ بھائی عجیب سوچ ہے کیا آپ لوگوں پر احسان کر رہے ہو یا لوگ پیسہ آپ کے لئے کماتے ہیں
اس کو نظر انداز کریں بلکل بھی تعاون نہ کریں
یہ ایک غیر سنجیدہ شخص ہے
اس کو دین کی کوئی پروا نہیں
نہ دین کے ساتھ محبت ہے
ہمارا دین، حق حلال مزدوری کا حکم دیتا ہے
انبیاء صحابہ اولیاء سب نے حق حلال کی مزدوری کی ہے
لیکن کسی سے بھیک نہیں مانگا
ہمارا دین مزوں کا نہیں بلکہ قربانیوں کا نام ہے

کافی

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Malakand?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Fatehkhel
Malakand