Muhammad Wahab
21/09/2025
*انسان یا کوّے*
ییلو اسٹون دریا کی وادی کے کنارے ایک قبیلہ آباد تھا، جسے آج ہم "crow" یعنی کوّے کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن ان کا اصل نام "اپساالوکے" یا "ابساروکا" تھا۔ یہ نام انہیں ہڈاٹسا قبیلے نے دیا تھا، جس کا مطلب تھا "بڑے چونچ والے پرندے کے بچے"۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ لوگ دراصل ایک سیو (Siouan) قبیلہ تھے اور کبھی ہڈاٹسا کے ساتھ منسلک تھے۔ اُس وقت یہ شمالی منی سوٹا اور وسکونسن میں دریائے مسی سیپی کے بالائی حصے کے قریب رہتے تھے۔
وقت کے ساتھ ان کا سفر بدلا۔ پہلے وہ نارتھ ڈکوٹا کی ڈیوِل لیک کی وادیوں تک پہنچے، اور پھر ہڈاٹسا سے الگ ہوکر مغرب کی سمت نکل کھڑے ہوئے۔ یوں یہ آخرکار مونٹانا کی سرزمین پر جا بسے۔ لیکن یہاں بھی ان کے درمیان ایک نیا بٹوارہ ہوا—کچھ "ماؤنٹین کرو یعنی پہاڑی کوّے" کہلائے اور کچھ "ریور کرو یعنی دریائی کوّے"۔
1743 میں دو فرانسیسی باشندے موجودہ ہارڈن، مونٹانا کے قریب ان سے ملے، اور یہ یورپی دنیا کا ان سے پہلا سامنا تھا۔ اس کے بعد 1804 میں جب لیوس اور کلارک کی مشہور مہم وہاں پہنچی تو انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس قبیلے کے پاس تقریباً 350 خیمے تھے، اور ان کی آبادی لگ بھگ ساڑھے تین ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔
یوں ایک پرندے کے نام سے جُڑا یہ قبیلہ، امریکہ کی قدیم تاریخ میں اپنی الگ شناخت، جدوجہد اور بقا کی کہانی رقم کرتا رہا۔
۔
💯💙💞
‘
‘
‘
‘
❤❤
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹

•

.

•

.
لگانا میرا کام تھا وائرل اپ لوگوں نے کرنا ہے
Follow 👉 Gm Khoso
۔
۔
💯💙💞
‘
‘
‘
‘
❤❤
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹

•

.

•

.
وائرل اپ لوگوں نے کرنا ہے🙏🙏🙏
Follow 👉 me
۔
۔
💯💙💞
‘
‘
‘
‘
❤❤
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹

•

.

•

.
لگانا میرا کام تھا وائرل اپ لوگوں نے کرنا ہے
Follow 👉 Gm Khoso
۔
۔
💯💙💞
‘
‘
‘
‘
❤❤
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹
🔹🔹

•

.

•

.
13/09/2025
پنجاب کے ایک مقبول عام لوک گیت کا تاریخی پس منظر..
سمی میری وار، میں واری
میں واری آں نی سمی اے
ترجمہ:
سمّی میری باری ہے، میں قربان
میں جان قربان کرتی ہوں، اے سمّی
یہ سن 1773ء کا واقعہ ہے جب جودھپور کے راجے ابھئے سنگھ کو ایک نیا محل بنانے کا خیال آیا۔ اس کے لیے بڑی مقدار میں جنڈ کی لکڑی کی ضرورت تھی۔ راجہ کے سپاہی اس کی تلاش میں امریتا دیوی کے گاؤں تک آن پہنچے، امریتا دیوی کے گاؤں کا نام کھجرلی ہے۔ راجستھانی میں جنڈ کا نام کھجرلی ہی ہے۔ یہ علاقہ پورے خطے میں سب سے زیادہ سرسبز تھا اور ہوتا بھی کیسے نہ، یہ گرو جم بھیشور جی کے پیروکاروں کا گاؤں تھا جو اپنے اُنتیس ماحول اور انسان دوست اصولوں کی وجہ سے بشنوئی کہلاتے ہیں۔ جان لیں کہ بشنوئی عقیدے میں کسی بھی جانور کا شکار کرنا اور کوئی سر سبز درخت کاٹنا ممنوع ہے اور کسی بھی حالت میں اس کی کوئی اجازت نہیں ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ جنڈ کو راجستھان میں کھجرلی کہتے ہیں۔ اسی طرح سندھ میں اسے کنڈی ، سرائیکی میں کنڈا، پنجاب میں جنڈ، عرب اسے غاف کے نام سے پکارتے ہیں،سنسکرت اور گجراتی میں اسے سمی کہا جاتا ہے۔
اب راجہ کے سپاہیوں نے امریتا دیوی کی موجودگی میں اس جنڈ یعنی سمی کو کاٹنے کا ارادہ کیا تو امریتا دیوی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا، سپاہی نہیں رکے تو امریتا دیوی درخت کے تنے سے یہ کہتی ہوئی لپٹ گئی کہ اگر اس درخت کو کاٹنا چاہتے ہو تو اس کیلئے پہلے مجھے کاٹنا پڑے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور سپاہیوں نے امریتا دیوی کے جسم کو کاٹ دیا، امریتا دیوی کے درخت کے ساتھ کٹنے کے بعد ان کی تینوں بیٹیوں آسو، رتنی اور بھاگو بائی نے بھی یہ کہتے ہوئے ماں کی پیروی کی کہ
سمی میری وار (باری ) میں واری (میں قربان) ، نی سمی اے
اور گاؤں کے درختوں کو کٹائی سے بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
امریتا دیوی اور ان کی بیٹیوں کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی اور لوگوں نے اپنے گاؤں کے درختوں کو بچانے کے لیے ان سے لپٹ کر جانوں کا نذرانہ پیش کرنا شروع کردیا۔
جب تک راجا کو خبر ہوئی اور اس کی مداخلت سے یہ سلسلہ رکا، تب تک 363 لوگ اپنی جانیں قربان کر چکے تھے۔
اس گیت کو دو اور واقعات سے بھی منسوب کیا جاتا ہے.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Address
Malakand
18750