Layyah point
گرمانی صاحب کوئی شوٹا لیک ہونے کا ڈر تو نہیں تھا کہتے ہیں مریم کے پاس کافی تعداد میں ٹوٹے ہیں
09/03/2023
ضیاء چترالی لکھتے ہیں۔ 1960ء میں فرانس نے کانگو کو آزاد کیا۔ بعد میں اس نے اپنا سفیر وہاں تعینات کر دیا۔ ایک مرتبہ فرانسیسی سفیر صاحب شکار کی تلاش میں کانگو کے جنگلات نکل گیا۔
جنگل میں چلتے چلتے سفیر کو دور سے کچھ لوگ نظر آئے۔ وہ سمجھا شاید میرے استقبال کے لئے کھڑے ہیں۔ قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک آدم خور قبیلہ ہے۔ انہوں نے فرانسیسی سفیر کو پکڑ کر ذبح کیا۔ اس کی کڑاہی بنائی اور سفید گوشت کے خوب مزے اڑائے۔
فرانس اس واقعے پر سخت برہم ہوا اور کانگو سے مطالبہ کیا کہ وہ سفیر کے ورثاء کو (کئی) ملین ڈالر خون بہا ادا کرے۔ کانگو کی حکومت سر پکڑکر بیٹھ گئی۔ خزانہ خالی تھا، ملک میں غربت و قحط سالی تھی۔ بہرحال کانگو کی حکومت نے فرانس کو ایک خط لکھا، جس کی عبارت کچھ یوں تھی:
"کانگو کی حکومت محترم سفیر کے ساتھ پیش آئے واقعے پر سخت نادم ہے، چونکہ ہمارا ملک خون بہا ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لہٰذا غور و فکر کے بعد ہم آپ کے سامنے یہ تجویز رکھتے ہیں کہ ہمارا جو سفیر آپ کے پاس ہے، آپ بدلے میں اسے کھا لیں۔ والسلام!"
پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ آئی ایم ایف کو خط لکھے، جس کا مضمون کچھ یوں ہونا چاہیے:
"پچھلے پچھتر برسوں میں ہماری اشرافیہ نے جو قرضے لئے ہیں، وہ آپ ہی کے بینکوں میں پڑے ہیں، ہم آپ کے قرضے تو واپس نہی کر سکتے۔ لہٰذا گزارش ہے کہ ہماری اشرافیہ کے بینک بیلنس، اثاثے اور بچے مغربی ممالک میں ہیں، بدلے میں آپ وہ رکھ لیں۔"
انج تے فر انج ہی سہی 😎
Zaman park lahore k hallat
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Mohala Ekd Gaha
Layyah
31200