Eye Lens

Eye Lens

Share

29/01/2026

وادی چپورسن کے عوام نے حالیہ قدرتی آفات سے نجات کے لیے بابا غندی کے مزار پر اجتماعی حاضری دی۔ اس روح پرور اجتماع میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا جبکہ اللہ کی راہ میں بکرے ذبح کرکے صدقہ بھی دیا گیا۔ حاضرین نے نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑا کر دعائیں مانگیں اور دستِ دعا بلند کرتے ہوئے التجا کی کہ اللہ تعالیٰ وادی چپورسن کو ہر قسم کی زمینی و آسمانی آفات، مصیبتوں اور آزمائشوں سے محفوظ رکھے، اس خطے پر ہمیشہ اپنا خاص رحم و کرم نازل فرمائے اور اہلِ علاقہ کو امن، سلامتی اور خوشحالی عطا کرے۔

18/01/2026

آغا خان یونیورسٹی کا 38واں کانووکیشن: 461 طلبہ فارغ التحصیل، پرنسز زہرا آغا خان پرو چانسلر مقرر
کراچی: آغا خان یونیورسٹی (AKU) نے پاکستان میں اپنے 38ویں کانووکیشن کے موقع پر 18 ڈگری پروگرامز سے 461 طلبہ کو فارغ التحصیل کیا، جبکہ اس تاریخی تقریب میں پرنسز زہرا آغا خان کو باضابطہ طور پر یونیورسٹی کی پہلی پرو چانسلر کے طور پر نصب کیا گیا۔ پرو چانسلر کی حیثیت سے پرنسز زہرا آغا خان یونیورسٹی کو معیارِ زندگی بہتر بنانے کے مشن میں رہنمائی فراہم کریں گی۔
آغا خان یونیورسٹی کے چانسلر، ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ آغا خان یونیورسٹی اور اس کے گریجویٹس کے پاس ایک غیر معمولی ذمہ داری اور موقع موجود ہے کہ وہ علم کو تخلیق کریں، پھیلائیں اور انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔
اس سال انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کے بیچلر آف ایجوکیشن پروگرام کے پہلے بیچ نے بھی گریجویشن مکمل کی۔ یہ پروگرام نظریاتی تعلیم اور فیلڈ ٹریننگ کا جامع امتزاج فراہم کرتا ہے جو طلبہ کو مختلف تعلیمی ماحول میں مؤثر تدریس کے لیے تیار کرتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرو چانسلر پرنسز زہرا آغا خان نے کہا کہ یونیورسٹی کی جغرافیائی توسیع نے پاکستان کے مزید شہروں اور دیہات تک اس کی موجودگی کو ممکن بنایا ہے۔ کراچی سے مٹیاری، لاہور سے گلگت تک، AKU کے صحت کے ماہرین، اساتذہ اور محققین عوامی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔
یونیورسٹی نے بتایا کہ اس سال فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ میں تقریباً 70 فیصد خواتین شامل ہیں، جو پاکستان میں تعلیمی صنفی فرق کم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
ویلڈی کٹورین محمد طہٰ نسیم نے اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیں اعلیٰ معیار تک پہنچنے کی ترغیب دی اور سکھایا کہ ہمدردی کے بغیر عمدگی بے معنی ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کے گریجویٹس ملک میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں نرسز کی قلت کے باوجود AKU کے فارغ التحصیل افراد ملک بھر کے تقریباً 80 نرسنگ اور مڈوائفری اداروں میں قائدانہ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یونیورسٹی نے 2025 میں 100 ملین امریکی ڈالر سے زائد ریسرچ فنڈنگ حاصل کی، جبکہ 27 فیکلٹی ممبران کو دنیا کے ٹاپ دو فیصد سائنسدانوں میں شامل کیا گیا۔
صدر AKU ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان ہم آہنگ، مختلف نظریات کو قبول کرنے والے اور ٹیکنالوجی کو مواقع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مالی مشکلات کا شکار طلبہ کے لیے یونیورسٹی نے گزشتہ تعلیمی سال میں 72 فیصد طلبہ کو مالی معاونت فراہم کی۔
تقریب میں ممتاز طلبہ کو بہترین گریجویٹ ایوارڈز بھی دیے گئے۔ جبکہ پروفیسر ایمریٹس مشتاق احمد کو صدراتی میڈل سے نوازا گیا جو AKU کا اعلیٰ اعزاز ہے۔
کانووکیشن میں شمس قاسم لاکھا (بانی صدر AKU) سمیت معزز شخصیات نے شرکت کی۔

10/01/2026

*شاہراہِ قراقرم پر تھلچی ٹول پلازہ میں مبینہ امتیازی سلوک*

*بلتستان کے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو ہراساں کیے جانے پر شدید تحفظات*

شاہراہِ قراقرم پر واقع تھلچی چیک پوسٹ اور ٹول پلازہ ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا ہے، جہاں این ایچ اے اور چیک پوسٹ عملے کی مبینہ ملی بھگت سے بلتستان سے تعلق رکھنے والے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو رات گئے، بالخصوص صبح چار بجے کے قریب، ہراساں کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹول پلازہ کے نام پر صرف بلتستان کے اضلاع سے آنے والی گاڑیوں کو روکا جاتا ہے، ان سے زبردستی فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی گاڑیوں کو استثنا دیا جاتا ہے۔ اس عملے پر الزام ہے کہ وہ علاقائی رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر بلتستان کے پرامن عوام کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے ہوئے ہے، جو نہ صرف آئینی اصولوں بلکہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ خواتین، بچوں اور بزرگوں تک کو بلاجواز روکا جاتا ہے، گاڑیوں کی غیر ضروری تلاشی لی جاتی ہے اور ذہنی دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق یہ رویہ روز کا معمول بن چکا ہے، جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

بلتستان کے عوام نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، گورنر، چیف سیکرٹری اور فورس کمانڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری اور سختی سے نوٹس لیں، تھلچی ٹول پلازہ اور چیک پوسٹ پر ہونے والے مبینہ امتیازی سلوک کا خاتمہ کریں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔

عوام کا سوال ہے کہ
کیا بلتستان گلگت بلتستان کا حصہ نہیں؟
کیا بلتستان کے عوام کسی غیر علاقے سے تعلق رکھتے ہیں؟
اگر قانون ہے تو وہ سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟

متاثرین نے واضح کیا ہے کہ اگر بلتستان کے عوام کو انصاف فراہم نہ کیا گیا اور یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ احتجاج اور دھرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ گلگت بلتستان پر عائد ہوگی۔

عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہِ قراقرم پر تمام اضلاع کے شہریوں کے ساتھ یکساں قانون نافذ کیا جائے، تاکہ علاقائی ہم آہنگی، اتحاد اور امن کو نقصان نہ پہنچے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Lahore
54000