Kitab Pakistan
06/06/2025
New Arrival!!!
"گیت جو ماں نے نہ سنائے " ایک چونکا دینے والا عنوان ہے ۔ ترک ادیب، سلجوق التون کے قلم کا شاہکار۔ یکے بعد دیگرے ابواب دو مرکزی کرداروں سے منسوب ہیں ۔ ایک پیشہ ور قاتل ، جب کہ دوسرا متمول لیکن کمزور شخصیت کا مالک ہے ۔ دونوں سچی محبت سے محروم ہیں ۔ تیز و تند واقعات انھیں خون کی گہری لکیر کے آر پار کھڑا کر دیتے ہیں۔سنسی خیز کہانی پڑھنے کے لیے ابھی فون کیجیے ۔
صفحات 160، قیمت صرف 1200 روپے ڈاک خرچ ہمارے ذمے
WhatsApp No. 03334463121
06/06/2025
اشرف جاوید کا شمار دور حاضر کے ایسے دانشور لکھاریوں میں ہوتا ہے جو بیدار مغز ہی نہیں صاحب درد بھی ہیں ۔ وہ دیکھتے ہیں کہ انسانیت، جمہوریت ، عالمی تعلقات بطور خاص ریاست پاکستان کن مسائل کی زد میں ہیں۔
زیر نظر کتاب ، " امن عالم ۔۔۔ خدشات و خطرات" ان کی مختلف تحریروں کے انتخاب پر مشتمل ہے جن میں انھوں نے اہم سیاسی اور تزویراتی مسائل کا سیر حاصل جائزہ لیا ہے اور امن عالم کا خواب دیکھا ہے ۔صرف یہی نہیں، اس خواب کی تعبیر کا حقیقت پسندانہ حل بھی تجویز کیا ہے ۔
عصر حاضر کے قومی اور عالمی امور میں دل چسپی لینے والے احباب کے لیے ایک نایاب تحفہ ۔ لائق مطالعہ کتاب، نہایت مناسب قیمت ۔ گھر بیٹھے کتاب حاصل کرنے کےلیے ابھی فون کیجیے۔
صفحات 208، قیمت صرف 980 روپے ، ڈاک خرچ ہمارے ذمے
WhatsApp No. 03334463121
06/06/2025
کتابیں پڑھنے والوں اور نہ پڑھنے والوں کو بھی عید مبارک♥️♥️♥️
09/12/2024
جمہوری پبلیکیشنز کی تمام کتابیں
اب دستیاب ہونگی ،۔۔ بُک ہوم 46 مزنگ روڈ لاہور
چاہے ایک کتاب لیں یا ایک سو خصوصی رعائیت کیساتھ
28/08/2024
New Arrival!!!
بابِ ارغوان
وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے
مصنفہ: اویا بیدر
Baab e Erghuvan
Author: Oya Baydar
Translated by Huma Anwar
Pages: 504
Price: 1780 Rs.
Cash on Delivery- No Extra Delivery Charges
Jumhoori Publications
130 D, St. 2, Upper Mall Scheme, Lahore
042-36314140 / 0333 4463121
https://jumhooripublications.com/baab-e-erghuvan
Or contact us on Whatsapp
https://api.whatsapp.com/send?phone=923334463121
Or send us your contact number, we will contact you
’’بابِ ارغوان‘‘، اویابیدر کے ناول Erguvan Kapısı (The Gate of Judas Tree) کا اردو ترجمہ ہے جس پر انہیں جودت قدرت ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ اویا بیدار کے لطیف اسلوب سے تشکیل پانے والا زیر نظر ناول ’’بابِ ارغوان‘‘ ایک منفرد ادبی کارنامہ ہے۔ یہ ناول سماجی تبدیلیوں سے بھری ترکی کی حالیہ تاریخ میں گویا ادبی سفر ہے۔ ایک شان دار ناول جو ترکی کے پچھلے تیس برس کے سیاسی اور سماجی پینوراما کو ادبی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ناول ہمیں ترک سماج کی اُن پرتوں سے متعارف کرواتا ہے کہ جن سے ہمارے عوام تو کیا دانشور حلقے بھی نابلد ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار استنبول کا داستانوی شہر ہے، اور ایک نہیں دو استنبول، غریبوں کا اور امیروں کا، لیکن دنیا کے دوسرے شہروں کے برعکس یہاں دونوں شہر ایک دوسرے کے بالکل ساتھ ساتھ آباد ہیں، ایک دوسرے میں پھنسے ہوئے۔ ایک استنبول دوسرے کے عین بیچ میں موجودہے۔ایک ہی وقت میں، وہ ایک دوسرے میں الجھے ہوئے ہیں۔ باسفورس کی پہاڑیوں پر حویلیاں، ولاز اور پُرتعیش مکانات سمندر کے رخ پر ہیں، جب کہ دوسری طرف کی ڈھلانوں پر کچی آبادیاں اور جھونپڑپٹیاں، کوڑے کے ڈھیر اور چھپر ہیں۔ ’’بابِ ارغوان‘‘ استنبول میں چار مختلف کرداروں کی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی زندگیوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ تھیو، اُلکو، ڈیرن اور کریم علی جو سماجی انتشار کے زیر اثر دَور میں ترکی کے مختلف طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اویا بیدر، جمہوریہ ترکیہ کی جرأت مند ترقی پسند ایکٹوسٹ اور مقبولِ عام ترک ادیبہ ہیں۔ وہ اپنی نوجوانی ہی سے قلم اور عمل کے ذریعے اس بائیں بازو کی طبقاتی جدوجہد کا حصہ ہیں جس نے ترکی کی سیاست اور سماج پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اویا بیدر نے سکول کے زمانے سے ان نظریات کا پرچم اور قلم اٹھالیا تھا۔ ایک کم سن لڑکی کے قلم سے لکھی گئی تحریر نے ترکی میں ارتعاش پیدا کردیا اور پھر اویا بیدر عمل و قلم کے اس کارواں کی مسافر بن گئیں۔ اس دوران انہوں نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلاوطنی کا کرب بھی سہا۔ کمیونسٹ ہونے کی بنا پر 1980ء میں ترکی کے تیسرے مارشل لاء کے آغاز پر ان کی ترک شہریت سلب کرلی گئی اور وہ بارہ برس تک برلن سمیت کئی یورپی شہروں اور ماسکو میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرتی رہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
2 Aiwan I Tijarat Road
Lahore
54000