Dunya Blog
14/08/2024
26/03/2024
درخت اگائیں، زندگی بچائیں
محمد عثمان یٰسین
𝑳𝒊𝒌𝒆, 𝑪𝒐𝒎𝒎𝒆𝒏𝒕 & 𝑺𝒉𝒂𝒓𝒆
انسانی زندگی کا دارومدار خوراک، پانی اور آکسیجن پر ہے۔ خوراک اور پانی کے بغیر تو انسان چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر آکسیجن کے بغیر چند منٹ گزارنا بھی نا ممکن ہے۔ آکسیجن کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہیں جن کو زمین کے پھیپھڑے بھی کہا جاتا ہے۔ درخت آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کا بھی بڑا ذریعہ ہیں۔ ان کی ضرورت و اہمیت کے متعلق تقریباََ دنیا کے ہر مذہب میں تلقین کی گئی ہے۔ اسلام نے بھی درختوں کو کاٹنے کی ممانعت کی ہے۔ محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لیے اسے صدقہ جاریہ قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ''جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا کھائے تو پھر وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا''(بخاری)۔ آپ ﷺ نے شجر کاری کو اتنی اہمیت دی کہ دوران جنگ مفتوحہ علاقے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچانے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ ''اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور وہ اس کولگا سکتا ہو تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو''۔
اگر ہم انسان کے سانس لینے کے نظام پر غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ درخت اور ان سے حاصل ہونے والی آکسیجن ہمارے لیے کتنی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ ایک انسان ایک دن میں 550 لیٹر آکسیجن استعمال کرتا ہے جبکہ ایک صحت منددرخت 10صحت مند انسانوں یا 35 بچوں کو آکسیجن فراہم کر سکتا ہے۔ اس وقت 8ارب کی دنیا کے 30فیصد رقبے پر درخت موجود ہیں۔دنیا میں فی کس درختوں کی تعداد 422 ہے۔ کینیڈا میں 10163 آسٹریلیا میں 4964 امریکہ میں 699 چین میں 130 انڈیا میں 28 جبکہ سبز ہلالی پرچم والے وطن عزیزمیں صرف 5 درخت فی کس ہیں۔ انٹرنیشنل اداروں کے مطابق 2فیصد جبکہ پاکستانی اداروں کے مطابق 5فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں۔ اگر پاکستانی اداروں کی رپورٹ کو ہی درست مان لیں تو پھر بھی خطرناک حد تک کم ہیں اور جن کی مسلسل زور و شور سے کٹائی جاری ہے۔ ابھی تو گزشتہ سال دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھنے والے پھلوں کے بادشاہ آم کے کئی باغات کو کاٹ کر ملتان میں ہاوسنگ سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو کہ قابل شرم بات ہے جس کا خمیازہ ہم نے حالیہ سیلاب میں بھرپور طریقے سے ادا بھی کیا مگر پھر بھی ہوش نہیں آیا کہ ہم اب ہی کچھ درخت لگا لیں. یاد رہے کہ ایک عام کے درخت کو بیج سے پحل دینے تک 5 سے 8 سال لگتے ہیں۔ دوسری طرف گندم و سبزیوں کے بحران نے عام آدمی کا جینا محال کیا ہوا ہے جس کہ بنیادی وجہ زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیا ں کااضافہ ہے۔ دنیا سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی غیر آباد زمینوں کو زرعی زمینوں میں تبدیل کررہی ہے اس سال تاریخ میں پہلی مرتبہ دبئی حکومت نے ریت کے ٹیلوں کو سرسبز کھیتوں میں تبدیل کیا ہے اور گندم کی فصل کی کاشت کر رکھی ہے جبکہ پاکستان میں بحیریہ ٹاؤن اور بسم اللہ سوسائٹی کے نئے فیز کا افتتاح بڑی دھوم دھام سے کیا گیا اور لوگ زراعت پر توجہ دینے کی بجائے ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں پیسہ لگا کر اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ حکومت کی بھی اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر ہم جنگلات و زراعت پر تھوڑی سی بھی توجہ مرکوز کر لیں تو ہم معاشی بحران سے بھی نکل سکتے ہیں مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ شجر کاری بھی تصاویر کی حد تک ہی کرتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی چار درخت لگا بھی دیں تو حفاظت کوئی انتظام نہیں ہوتاہے ٹمبر مافیا مکمل آزاد ہے۔
اگر ہم دنیا کے خوب صورت خطوں کا جائزہ لیں تو گھنے جنگلات و باغات والے علاقے کو زیادہ خوب صورت مانا جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر ماحول دوست ہے جو اپنے اردگرد صاف ستھرا ماحول پسند کرتا ہے جو کہ سبزے اور درختوں سے ہی ممکن ہے۔ درخت ہی ہوا کو صاف کرتے ہیں خوراک اور استعمال کی لکڑی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تیز آندھیوں، طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب، زمینی کٹاؤ اور موسم کی شدت سے بچاتے ہیں جس کا بخوبی اندازہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سیلابوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ حالیہ ہونے والی مون سون کی بارشوں نے پاکستان سمیت پور ے ایشیاء میں تباہی مچا رکھی ہے اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بحثیت قوم ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم کتنی نااہل قوم ہیں کہ اسلام آباد جیسا شہر جو بنا ہی پہاڑی ڈھلوانوں پر ہے ہماری روز مرہ کی محنت سے پہاڑوں پر بھی سیلاب امڈ آیا اور ساحل سمندر پر واقع شہر کراچی ہیٹ اسٹرک سے مرنے والوں کا مرکز بن چکا ہے جس کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی اور رئیل اسٹیٹ کے بزنس کا بے ہنگم پھیلاؤ ہے۔ ریاست و قانون نام کی کہیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جہاں جس کا دل چاہتا ہے کالونی بنا کر بیٹھ جاتا ہے اب یہاں پر ہماری نااہلی کی انتہا دیکھیں کہ مری اور ایبٹ آباد جیسے ٹھنڈے علاقے جہاں لمحوں میں موسلادھار بارش برس جاتی ہے اور کھانا پکانے کے لیے آگ جلانا ایک مشکل کام ہے وہاں جنگلات میں لگی خود ساختہ آگ بجھانا ہمارے لیے ناممکن ہوجاتا ہے۔ ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ساتھ اور نہ ہی آنے والی نسلوں کے ساتھ مخلص ہیں۔
ایک دو پیڑ ہی سہی، کوئی خیابان نہ سہی
اپنی نسلوں کے لیے کچھ تو بچایاجائے
ہر شخص درخت کے نیچے بیٹھنا چاہتا ہے گاڑی درخت کے نیچے پارک کرنا چاہتا ہے اپنی تصویر کے عکس میں سرسبز میدان و باغات دیکھنا چاہتا ہے مگر درخت لگانا کوئی بھی نہیں چاہتا درختوں کی کٹائی کی روک تھام کے لیے سخت قوانین اور ان کے اطلاق کے لیے خصوصی فورس بنانی چاہیے۔ بنجر زمینوں کو غربا میں تقسیم کردیا جائے، آئل و فیول کمپنیوں کو بنجر زمینیں الاٹ کرکے جنگلات اگانے پر قائل کیا جائے اسی طرح زمینی و فضائی ٹرانسپورٹ کمپنیوں سمیت ہر وہ کمپنی و ادارہ جو ماحول میں آلودگی کا سبب بن رہاہے ان کی رجسٹریشن او ر اجازت نامے کو جنگلات کے ساتھ منسلک کردینا چاہیے۔ آلودگی کے حجم کے برابر درخت نہ لگانے والے ادارے کوبند کر دیا جائے، شجر کاری کے سالانہ مقابلہ جات کروائے جائیں اچھی کارکردگی دیکھانے والے کو انعامات سے نوازاجائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ جہاں بھی درخت لگائے جائیں پھل دار لگائے جائیں جو آکسیجن کے ساتھ ساتھ پھل بھی دیں جس کو بیچ کر خطیر زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔ اکثر دیکھا یہی گیا ہے کہ حکومتی ادارے جہاں بھی شجر کاری کرتے ہیں ایسے درخت لگاتے ہیں جن کا سایہ ہوتا ہے نہ پھل اور نہ ہی لکڑی کسی کام کی ہوتی ہے مثلاََکونو، الٹا شوک، سفیدہ وغیرہ نہ جانے ہم اچھے کو بھی برا بنا کر کیوں کرتے ہیں؟بی آربی نہر کنارے میرے اپنے گاؤں میں محکمہ انہار اور جنگلات نے شجر کاری کی جس میں صرف سفیدے کے پودے لگائے گئے ہیں جو پانی کا بھی دشمن ہے لمبے قد کی وجہ سے فصلوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اسی طرح اکثر جگہوں پر'' کونو'' کے پودے لگائے جا رہا ہے جن پر پرند تک نہیں بیٹھتا اب آپ خود اندازہ کریں جس پودے پر پرندے نہیں بیٹھتے جن کا مسکن ہی درخت ہوتے ہیں وہ بھلا انسان کو کیا فائد ہ دے سکتا ہے۔ اگر ہم نے پاکستان کو بنجر ہونے سے بچاناہے توہمیں شجر کاری کے معاملے میں ہر حال میں سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ورنہ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق 2050 تک پنجاب اور سندھ کے معتد د اضلاع بنجر بن جائیں گے جن میں پنجاب سے لاہور، ملتان اور فیصل آباد جبکہ سندھ سے میر پور خاص، سکھر اور حیدرآباد شامل ہیں۔ ہمیں جنگلات کے اگاو اور زراعت کو سائنس و ٹیکنالوجی کے نت نئے طریقوں کو اپنانے کے لیے ہر حال میں سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ ہماری آنے والی نسلیں قحط و بھوک سے مر جائے گی تاریخ کے اوراق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ جو قومیں اپنے مستقبل کے ساتھ مخلص نہیں ہوا کرتیں تاریخ ان کی آنے والی نسلوں کو غلامی پر مجبور کر دیتی ہے۔
مزید معیاری خبروں، بلاگز، ویڈیوز اور تصاویر کے لئے ہمارا پیچ لائیک کریں۔
26/03/2024
محبت کے پکوڑے کھا رہا ہوں
حمیرا حیدر
𝑳𝒊𝒌𝒆, 𝑪𝒐𝒎𝒎𝒆𝒏𝒕 & 𝑺𝒉𝒂𝒓𝒆
رمضان اور پکوڑوں میں چولی دامن کے ساتھ سے کون واقف نہیں۔ روزوں میں دستر خوان پر ایک جوڑا ایسا ہے جس کے بغیر افطاری سونی سونی لگتی ہے۔ جی ہاں لال شربت اور پکوڑے۔ ان کے بغیر افطار کا تصور کم از کم ہمارے ہاں مفقود ہے۔ لال شربت میں اختلاف ہے کچھ افراد روح افزاء کے حق اور کچھ جام شیریں کے حق میں دلائل دیتے ہیں مگر ایک چیز جس پر تمام قوم کا اجماع ہے وہ ہیں پکوڑے، ان کو رمضان کا برانڈ ایمبسیڈر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
پکوڑے کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ افراد کہتے کہ کسی مکرانی شخص نے گھی میں بیسن کی ٹکیاں ڈالیں۔ بھوک کی شدت تھی اور پکنے میں دیر ہو رہی تھی تو اس نے جھنجلا کر کہا پکو رےے۔ جو کثرت استعمال سے پکوڑے ہو گیا مگر اندر کی بات ہے کہ اس شخص کے گھر آٹا ختم ہو گیا تھا، بیوی بہت سخت مزاج تھی اس نے محلے کی "خبرگیری" کے لئے جانے سے پہلے، واپسی پر کھانا تیار ہونے کا حکم دیا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہ تھا چنے کی دال نظر آئی وہی پیس کر آٹا بنایا۔ بیوی کے آنے کا وقت ہو چلا تھا گھبراہٹ میں اس نے گوندھنے کی کوشش کی تو پانی زیادہ ڈال دیا اب وہ لئی بن چکی تھی۔ اس نے جلدی سے اس میں نمک اور دستیاب مصالحے ڈال دیئے اور گھی میں پکنے کو ڈالا۔ باہر بیوی کی پڑوسن سے لڑنے اور بچوں کو پیٹنے کی آواز آنے لگی۔ تو اس نے کڑاہی میں پڑے مرکب کو دیکھا اسی دوران بیوی گھر میں داخل ہوئی اور کڑک کر بولی کیا پکایا ہے میاں گھبرا کر بولا پکو ڑےےےے۔ بس اسی سے اسے پکوڑے کا نام ملا۔ آگے کی کہانی میں بیوی کو پکوڑے بہت پسند آئے اور وہ بہت خوش بھی ہوئی۔
کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آدمی کوئی بلوچ تھا مگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ ان صاحب کا تعلق لاہور سے تھا کہ کیونکہ وہاں"ڑ" بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ ”پکوڑا“ سنسکرت زبان کے لفظ ”پکواتا“ سے ماخوذ ہے، پکواتا معنی ”پکا ہوا“ اور واتا کا معنی ”سوجن“۔ پکوڑا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ادبی حیثیت سے اس 1780 ء کو "کلیاتِ سودا ”میں پہلی بار استعمال ہوتے ہوئے سنا گیا۔ کسی محاورے یا ضرب مثل میں پکوڑے کا استعمال تاحال نہیں سنا۔ خدا معلوم "باتیں بڑی بڑی اور دکان پکوڑوں کی" کس کیٹیگری میں شمار کیا جائے گا؟ البتہ لڑائی میں ناک پکوڑے جیسی کرنے کی دھمکی ضرور سنی گئی ہے۔ وہ ملکہ جس نے لوگوں کو بھوک سے مرنے کی بجائے کیک کھانے کا مشورہ دیا تھا اگر ہمارے ہاں ہوتی تو ضرور پکوڑے کھانے کا مشورہ دیتی۔
ہمارے شاعر حضرات نے پکوڑوں کو بھی نہیں بخشا ذرا پکوڑا شاعری ملاحظہ ہو
وہ افطاری سے پہلے چکھتے چکھتے
کهجوریں اور پکوڑے کھا چکا ہے
محبت کے پکوڑے کھا رہا ہوں
ذرا چاہت کی چٹنی ڈال دینا
سوچو تو کیا لمحہ ہو
بارش، شاعری اور پکوڑے
ویسے پکوڑے کھاتے ہوئے دوسرا کوئی بھی کام ممکن تو نہیں مگر کیا کہہ سکتے ہیں
اردو اور پنجابی کو ملا کر مزاحیہ شاعری کرنے والے امام دین گجراتی سے کون واقف نہیں۔ ہمارے ہاں شاعروں کو عموما ان کی وفات کے بعد ہی عزت و شہرت ملتی ہے۔ امام دین گجراتی کے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ عمر کے آخری حصے میں وہ کسی سکول یا کالج کے باہر پکوڑے بیچتے رہے۔ سُنا ہے اِن پکوڑوں کے ساتھ اُن کی کافی یادیں بھی وابستہ ہیں۔ پکوڑوں کے حوالے سے اُستاد امام دین کے اس شعر کی وجہ بھی ہے۔
کوئی تَن بیچے، کوئی مَن بیچے
امام دین پکوڑے نہ بیچے تو کیا بیچے
ویکی پیڈیا کے مطابق" پکوڑا برصغیر پاک و ہند کے مشہور پکوانوں میں سے ایک ہے۔ مختلف اشکال میں برصغیر کے تمام علاقوں میں مقبول ہے۔ جنوبی بھارت کے بیشتر علاقوں میں پکوڑوں کو بھجّی بھی کہتے ہیں۔
انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا پکوڑے کی تعریف یوں بیان کرتا ہے "انڈین پکوڑے گوبھی، بینگن، یا دیگر سبزیوں پر مشتمل تیل میں تلے ہوئے چٹ پٹے کیک ہوتے ہیں۔"
اس کے نام یا ابتداء کے بارے میں اگرچہ اختلاف ہے البتہ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ برصغیر یا جنوبی ایشیائی پکوان ہے۔ اسی لئے یہاں اسے کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں صوبہ مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ان کو’’بھجی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں بنائے جانے والے پکوڑوں میں سبزی کا استعمال لازمی کیا جاتا ہے۔ یہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں بھی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے کئی علاقوں میں انہیں ’’دھلجیس‘‘ کہا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ ’’پکوڑا‘‘ یا ’’پکووڑا‘‘ کہلاتے ہیں۔ چین اور نیپال میں انہیں پکوڈا، جب کہ صومالیہ میں انہیں’’بیجیئے‘‘ کہا جاتا ہے۔ بہرحال پاکستان میں ان کو پکوڑے یا پکوڑی ہی پکارا جاتا ہے۔ البتہ کچھ انگریزی میڈیم افراد اس کو "پکوراس" بھی کہتے ہیں۔
اگرچہ ہمارے ہاں اکثر و بیشتر اسے کھانے کا بہانہ ڈھونڈا جاتا ہے مثلا برسات کی شام، سردیوں کی چائے، بہار کی آمد یا عزیز مہمان کی آمد کے ساتھ۔ مگر رمضان کے مہینے میں تو پکوڑے لازم و ملزوم ہیں۔ ہر گھر میں پکوڑے کی مختلف قسم پسند کی جاتی ہے۔ کہیں صرف آلو کے پکوڑے، پیاز کے پکوڑے، پالک پکوڑے، ہری مرچ پکوڑے، بینگن پکوڑے، آلو پیاز ٹماٹر مکس پکوڑے، پھول گوبھی اور بند گوبھی کے پکوڑے۔ جیسے جیسے ہمارے گھروں میں بدیسی کھانے کا رحجان بڑھ ریا ہے اسی کے ساتھ پکوڑے میں مزید ورائٹی آئی ہے۔ جیسے انڈا پکوڑے، پنیر پکوڑے، چکن پکوڑے، وغیرہ۔ رمضان گرمی میں ہو یا سردی میں پکوڑے اپنی جگہ کسی کو نہیں لینے دیتے۔ کچھ سال سے رمضان گرمیوں میں آ رہا ہے تو ہمارے ایک بھائی ہیں وہ کہنے لگے کہ گرمی کی شدت نے اس قدر پریشان کیا کہ افطار کے وقت آئس کیوب نکال کر ان پر بیسن کا کوٹ کر کے کڑاہی میں ڈال کر ٹھنڈے پکوڑے بنانے کی کوشش کی۔ (نتیجتا جو کڑاہی میں بھونچال آیا ہو گا آپ تصور کر سکتے ہیں) مگر اب سنا ہےکہ آئس کریم پکوڑا بھی کچھ شہروں میں دستیاب ہے۔ ہر قسم کے پکوڑوں کی اپنی خاص اہمیت اور مزہ ہے۔ ان کے ساتھ اگر ہری چٹنی ہو تو کیا ہی کہنے۔ سوشل میڈیا میں کچھ عرصہ پہلے بحث چلی کہ کونسے پکوڑے نمبر ون ہیں تو پکوڑے پکوڑے ہیں ان کی درجہ بندی زیادتی ہے جس کو جو پسند ہیں کھائے۔ جاتے جاتے ایک ضروری ٹوٹکا حاضر ہے۔
پکوڑے کے لئے تیار مصالحہ لینے کی بجائے اپنا مصالحہ خود تیار کریں جو تیار مصالحے کی نسبت کم قیمت اور بہتر ہو گا۔ سفید زیرہ ( بھنا ہوا)، سرخ کوٹی مرچ، اناردانہ/لیموں پاووڈر، کشمیری مرچ پاوودڑ/ پیپریکا پاووڈر، قصوری میتھی، کوٹا دھنیا، ہلدی، اجوائین ، کلونجی ( آدھی چائے کی چمچ سے زیادہ نہ ہو) گرم مصالحہ پسا ہوا۔ ان سب خشک مصالحوں کو ملا کر ایک ڈبے میں رکھ لیں۔ جب بیسن گھولنے لگیں تو ایک چائے کا چمچ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کر لیں۔
باقی پکوڑوں کے ساتھ ہری چٹنی ضرور استعمال کریں کیونکہ ان دونوں کی کیمسٹری آپس میں خوب ملتی ہے۔ بہت زیادہ پکوڑے کھانے سے پرہیز کریں۔ اس سے پیٹ جلدی بھر جاتا ہے (سنا ہے کہ عید قربان کے جانوروں کو فربہ کرنے کے لئے چنے و بیسن کھلایا جاتا ہے) اور انسان باقی اشیاء کھانے سے رہ جاتا ہے۔ تو اگر دسترخوان کے تمام اشیاء سے انصاف کرنا ہے تو سمجھداری کا مظاہر کریں۔
مزید معیاری خبروں، بلاگز، ویڈیوز اور تصاویر کے لئیے ہمارا پیچ لائیک کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Lahore