489F cheque

489F cheque

Share

23/06/2026

آخری موقع کے بعد مزید مہلت نہیں دی جا سکتی — آرڈر XVII رول 3 CPC کی لازمی پابندی
⚖️ تعارف
PLJ 2025 Civil (Note) 53 میں عدالت نے آرڈر XVII رول 3 ضابطۂ دیوانی (CPC) کی اہم تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ ایک تعزیری (Penal) شق ہے، جس کا اطلاق سختی سے کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی فریق کو ثبوت پیش کرنے کے لیے آخری موقع دیا جا چکا ہو اور اسے نتائج سے بھی خبردار کیا گیا ہو، تو اس کے بعد مزید مہلت دینا قانون کے منافی ہے۔
📌 فیصلے کے اہم نکات
⚖️ آرڈر XVII رول 3 CPC ایک تعزیری شق ہے، اس لیے اس کی سخت تشریح ضروری ہے۔
⚖️ جب کسی فریق کا معاملہ اس شق کے دائرہ کار میں آ جائے تو اسے مزید رعایت نہیں دی جا سکتی۔
⚖️ عدالت اپنی صوابدیدی طاقت استعمال کرتے ہوئے بھی غیر ضروری مہلت نہیں دے سکتی۔
⚖️ "مقدمہ میرٹ پر فیصلہ ہونا چاہیے" کا اصول وہاں لاگو نہیں ہوتا جہاں آرڈر XVII رول 3 CPC واضح طور پر نافذ ہو رہا ہو۔
⚖️ قانون پر عمل کرنا محض تکنیکی کارروائی نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 کے تحت عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
⚖️ جب عدالت کسی فریق کو "آخری موقع" دیتی ہے تو یہ ایک عدالتی حکم ہوتا ہے جس پر عمل درآمد لازمی ہے۔
⚖️ آخری موقع دینے کے بعد مزید التواء دینا عدالتی حکم اور قانون دونوں کے خلاف ہے۔
⚖️ اگر آخری موقع کے باوجود ثبوت پیش نہ کیے جائیں تو عدالت کے پاس کارروائی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔
⚖️ آخری موقع کے ساتھ دی گئی وارننگ کو ہر صورت نافذ کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
⚖️ آخری موقع اور واضح وارننگ کے باوجود ثبوت پیش نہ ہونے پر حقِ شہادت بند کرنا لازمی ہے۔
⚖️ ایسے حالات میں مزید مہلت دینا قانون کی روح اور عدالتی نظم و ضبط کے خلاف ہے۔
⚖️ اس اصول کا مقصد مقدمات میں غیر ضروری تاخیر اور بار بار التواء کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
📖 خلاصۂ فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ جب کسی فریق کو آخری موقع دے کر واضح طور پر خبردار کر دیا جائے کہ آئندہ تاریخ پر ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کا حقِ شہادت بند کر دیا جائے گا، تو پھر عدالت مزید مہلت نہیں دے سکتی۔ ایسی صورت میں حقِ شہادت بند کرنا لازمی ہوگا تاکہ عدالتی احکامات کی پابندی اور قانون کی بالادستی برقرار رہے۔
⚖️ قانونی اصول
جب کسی فریق کو آخری موقع دے کر نتائج سے خبردار کر دیا جائے اور وہ پھر بھی ثبوت پیش نہ کرے تو عدالت لازماً اس کا حقِ شہادت بند کرے گی اور مزید مہلت نہیں دے گی۔
hashtags

21/06/2026

آپ کے بلاگ LegalHelp1 کے لیے مکمل آرٹیکل:

گواہوں کی دوسری فہرست جمع کرانے کی درخواست کیوں ناقابلِ سماعت قرار دی گئی؟

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ — PLD 2026 Lahore 488

✦ تعارف

سول مقدمات میں گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر کوئی فریق مقررہ وقت میں گواہوں کی فہرست جمع نہ کرائے یا اس کی درخواست مسترد ہو جائے تو بعد میں مختلف گواہوں کے نام شامل کرکے نئی درخواست دائر کرنا قانون کی نظر میں قابلِ قبول نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے PLD 2026 Lahore 488 میں اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ صادر کیا۔

---

⚖️ مقدمہ کا پس منظر

مدعی نے آرڈر XVI رول 1 ضابطۂ دیوانی (CPC) کے تحت گواہوں کی فہرست جمع کرانے کی درخواست دی، مگر وہ مسترد ہو گئی۔ مدعی نے اس حکم کو چیلنج نہیں کیا۔

بعد ازاں اس نے نئی درخواست دائر کی جس میں مختلف افراد کو بطور گواہ طلب کرنے کی استدعا کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ درخواست آرڈر XVI رول 14 CPC کے تحت ہے۔

عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا فریق رول 14 کا سہارا لے کر اپنی سابقہ کوتاہی کا ازالہ کر سکتا ہے؟

---

📜 عدالت کا فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پہلی درخواست کی مستردی کے بعد دوسری درخواست قابلِ سماعت نہیں۔ مزید یہ کہ آرڈر XVI رول 14 CPC کا مقصد فریقین کو اپنی غلطیاں درست کرنے یا ثبوت میں موجود خامیوں کو پورا کرنے کا موقع فراہم کرنا نہیں۔

---

🔹 آرڈر XVI رول 1 CPC کی اہمیت

عدالت نے واضح کیا کہ گواہوں کی فہرست بروقت جمع کرانا قانونی تقاضا ہے۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ مقدمہ غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو اور مخالف فریق کو بھی مناسب تیاری کا موقع مل سکے۔

---

🔹 آرڈر XVI رول 14 CPC کا اصل مقصد

عدالت نے قرار دیا کہ رول 14 ایک خصوصی اختیار ہے جو صرف عدالت کو حاصل ہے۔ اگر عدالت یہ سمجھے کہ کسی شخص کی گواہی انصاف کے تقاضوں کے لیے ضروری ہے تو وہ خود اسے طلب کر سکتی ہے، خواہ وہ مقدمے کا فریق نہ بھی ہو۔

---

🔹 رول 14 کو کوتاہی چھپانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا

عدالت کے مطابق کوئی فریق رول 14 کو اپنی غفلت، تاخیر یا ثبوت میں موجود خلا کو پورا کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کو بے اثر بنا دے گا۔

---

⚖️ اہم قانونی اصول

✦ گواہوں کی فہرست مقررہ وقت میں جمع کرانا ضروری ہے۔

✦ مسترد شدہ درخواست کے بعد نئی درخواست دائر کرنا قابلِ قبول نہیں۔

✦ آرڈر XVI رول 14 CPC فریقین کا حق نہیں بلکہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔

✦ رول 14 کا مقصد انصاف میں مدد دینا ہے، فریقین کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا نہیں۔

✦ عدالتی کارروائی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔

---

📌 نتیجہ

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ سول مقدمات میں مقررہ قانونی طریقہ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔ اگر فریق وقت پر گواہوں کی فہرست جمع نہیں کراتا یا اس کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو وہ بعد میں آرڈر XVI رول 14 CPC کا سہارا لے کر اپنی کوتاہی کو دور نہیں کر سکتا۔ رول 14 صرف عدالت کے استعمال کے لیے ہے اور اسے فریقین کے حق کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ

PLD 2026 Lahore 488
Malik Muhammad Irshad Faiz v. Khadim Hussain
Civil Revision No. 507 of 2022🔖 ہیش ٹیگز

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Jail Road
Lahore
54000