Online Math institution

Online Math institution

Share

10/03/2023

صحافت پاکستان میں!
کالم نویس: مرزا اسامہ

سب سے پہلے ہم جان لیتے ہیں کہ صحافت ہے کیا۔ گوگل پر موجود ویکیپیڈیا سائٹ کے مطابق صحافت کی تعریف کچھ یوں ہے:
'کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔ صحافت پیشہ کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنی کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔'

میر ے مطابق صحافت ایک ایسا فن ہے جس سے قوموں کو زندگی اور ترقی ملتی ہے۔

صحافت کے شعبے میں صحافی کو اتنا ہی خطرہ ہوتا ہے۔ جتنا کسی فوجی کو بارڈر پر ۔صحافی کی قلم کسی ایٹمی میزائل سے کم نہیں۔ صحافی کے قلم سے نکلا ایک ایک خرف ہزاروں لوگوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔ اس لئے صحافیوں پر زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی صحافتی صلاحیتوں کو زمہ داری کے ساتھ سیرئیس ہو کر ادا کریں۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں جہاں گورنمنٹ اور دیگر انتظامی و عسکری ادارے ایک اہم ستون ہوتے ہیں اسی طرح صحافت بھی ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے ۔ جس کے ذریعے سے خکومتیں اپنا بیانیہ لوگوں تک اور دوسرے ممالک تک پہنچاتی ہیں۔ ایک ترقی یافتہ قوم میں صحافت آزاد ہوتی ہے۔ لکھنا اور بولنا بنیادی حقوق ہیں۔ تاہم جہاں حقوق ہوتے ہیں وہاں فرائض بھی ہوتے ہیں۔ فرائض ادا کر کے ہی کوئی بھی فرد حقوق کے لئے اہل ہوتا ہے۔ صحافیوں پر فرض ہوتا ہے کہ وہ حق لکھیں اور بولیں۔ جہاں ظلم دیکھیں وہاں مظلوم کی آواز بنیں۔ اور حق کے لئے اپنا قلم بلند کریں۔

ایک صحافی عام لوگوں سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ یہ لوگ خود کو معاشرے میں معاشرتی برائیوں اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف رضاکاروں کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ظالم کے جبر کا اکثر نشانہ بنتے ہیں۔

موجود دور میں صحافت بطور پیشہ سب سے مشکل کام ہے۔ صحافت بظاہر تو بہت آسان لگتا ہے کہ بس سکرین کے سامنے انا ہے یا صرف قلم چلانا۔ مگر حقیقت یکسر مختلف ہے۔ صحافی پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسے معاشرے میں انتشار نہیں پھیلانا اور کسی گروہ کے مفاد کو اعوام میں تقویت پہنچانے کی بجائے انصاف کے ساتھ حق کا ساتھ دینا ہے جو کہ اج کہ دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ زیادہ تر لوگ زرد صحافت ( Yellow Journalism) کا شکار ہیں اور پیسے لے کر کسی نا کسی جماعت کے دفاع کرتے نظر اتے ہیں۔

پاکستان گو کہ ایک آزاد جمہوری ملک ہے۔ مگر یہاں پر صحافیوں کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنہ کرنا پڑھ رہا ہے۔ آئے دن کوئی نا کوئی صحافی یا تو کسی وڈیرے کے ظلم کا شکار ہوتا ہے یا بلواسطہ یا بلاواسطہ سرکار کے ظلم کا شکار ہوتا ہے ۔

طریقہ کار اور شددت میں تھوڑا بہت فرق اتا رہتا ہے مگر تقریبا شروعات، اختتام اور اس کے پیچھے چھپا مقصد ایک سا ای ہوتا ہے کہ آواز بند کی جائے۔

پاکستان میں صحیح معنوں میں صحافی تو بہت کم ہیں۔ البتہ مفاد پرستوں کے گروہ کہ کر اگر ان صحافیوں کو مخاطب کیا جائے تو کچھ غلط نا ہو گا۔ بنیادی طور پر پاکستان میں صحافی دو بڑے دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ یاں تو حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں یا پھر اپوزیشن کو ۔ اور حکومت کو سپورٹ کرنے کا مطلب کہ اسٹیبلشمنٹ کو سپورٹ کرنا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے اندر موجود وہ لوگوں کا گروپ ہے جو کہ پاکستان کے قانون سے بہت اوپر ہیں جن تک پہچنے والے ہاتھ ٹوٹ جاتے ہیں، گلے دبا دیئے جاتے ہیں اور اواز گم کر دیں جاتیں ہیں۔ تاہم یہ بات ہمیشہ سے ہی مشکل رہی ہے کہ اس گروپ کے ممبران کی تعداد کا تعین کیا جا سکے مگر اج تک کسی کو اصل بات معلوم نہیں ہوئی ہے۔ بہت سارے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بڑے حصے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے مراد عام طور پر پاک افواج ہوتا ہے ۔

اس وقت پاکستان میں صحافت پر زوال آیا ہوا ہے۔ حکومت جو کہ اعوام سے کیے واعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گئ ہے صحافیوں پر ظلم اور جبر پر اتر ائی ہے اور اپنے ملک کے صحافیوں کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنا رہی اور اور قتل کر رہی ہے ۔ خال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے تحقیقی جرنلسٹ کا پرسرار قتل اور پھر اس پر پردہ ڈالنے کی سازش سے بلکل واضع ہے کہ پاکستان میں صحافی محفوظ نہیں ہیں اسی لئے صابر شاکر اور معید پیر زادہ جو کہ پاکستانی صحافت کے بڑے نام ہیں انہیں ملک چھوڑنا پڑا ہے ان کی زندگیاں پاکستان تو کیا باہر ممالک میں بھی مخفوظ نہیں ہیں۔جب سے موجود خکومت آئی ہے طاقت کے نشے میں دہت ہو کر ٹی وی چینلز پر پابندی عائد کر رہی ہے ۔ اینکر عمران ریاض خان جو کہ ایک بے باک صحافی ہے تین دفع غداری جیسے سنگین الزامات میں جیل کاٹ چکا ہے۔ جمیل فاروقی ہو یا سمیع ابراہیم ہو حطہ کہ سوشل میڈیا پر بات کرنے والے بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے ۔

ایسا کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ مقصد صرف ایک ہے عام اعوام کو ان کے گھناؤنے چہرے نا دکھائے جائیں۔

یہ میری پہلی کوشش ہے جو دوست اس قالم کو پڑھیں ان سے گزارش ہے کہ کمینٹ میں اپنے خیالات کا اظہار لازمی کریں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


031741895ac@gmail. Com
Lahore
54950