History explorers

History explorers

Share

Photos from History explorers's post 11/09/2021

11 ستمبر
جناب قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کا دن.

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ پاک اُن کو جوار رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے.آمین

02/09/2021

ذولفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کے لیے ان پر تہمت تک لگائی اور انکے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا کہ " اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟ " ۔۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سن کر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگا رہی ہے جس کو یہ مادر ملت یعنی " قوم کی ماں " کہتے ہیں ۔ قائد ملت کی بہن پر یہ تہمت اس جمہوری چیمپئن کے چہرے پر وہ داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکے گا!

65ء کی جنگ کے حوالے سے انتہائی لبرل اور فوج مخالف سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کے مطابق یہ بھی بھٹو کی اقتدار ھوس کا ہی نتیجہ تھا ان کے الفاظ یہ ہیں " طارق علی کافی مشہورسٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ انہوں نے اس وقت بھٹو سے 65 کی جنگ کے بارے میں پوچھا جب وہ ایوب خان کو چھوڑ چکے تھے کہ یہ جنگ آپ نے کیوں کی تھی؟ اور آپ نے کی تھی یا انڈیا نے ؟ ۔۔۔۔ بھٹو نے جواب دیا کہ ہم نے کی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ اگر ہارتے ہیں تو ایوب خان گر جائیگا، ایوب خان گرے گا تو میرا راستہ کھل جائیگا۔ جیت گئے تو ہیرو بن جائنگے کیونکہ میں ہی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں صورتوں میں میری جیت تھی"۔۔

محض اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے ذولفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا۔ اگر پاک فوج اپنی جانوں پر نہ کھیلتی تو شائد ہم لاہور ہار جاتے۔

شیخ مجیب جب اگرتلہ سازش میں پکڑا گیا اور ایوب خان اس کو غداری کے جرم میں سزا دینے لگا تو اس کو چھڑانے کے لیے بھٹو نے ملک گیر مہم چلائی اور بدترین حالات میں انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن جب مجیب نے انتخابات میں کلین سویپ کیا اور بھٹو کے مقابلے میں دگنے ووٹ لے لیے تو بھٹو نے اقتدار اس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور اس کو غدار قرار دیا اور یہ مشہور نعرہ لگایا " ادھر تم ادھر ہم
اسکے باوجود جب کچھ لوگوں نے شیخ مجیب کے ڈھاکہ میں بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی بات کی تو بھٹو نے دھمکی دی کہ " جو ڈھاکہ گیا میں اسکی ٹانگیں توڑ دونگا"۔۔۔۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔ بنگال الگ ہوا ۔۔۔۔۔ بچے ہوئے پاکستان پر بھی بھٹو کی جمہوری حکومت نہ بن سکی اور بھٹو تین سال تک کے لیے سول "مارشل لا" ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے روئیداد خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ " بھٹو نے مجھے رات کو دس بجے بلایا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ جاگ رہے ہونگے۔ میں نے کہا کہ کتاب پرھ رہا ہوں ۔۔ کہنے لگا یہ ٰیحیی نے کیا کر دیا۔ اس نے مجھ سے پوچھے بغیر ڈھاکہ اجلاس کی تاریخ طے کر لی۔ یہ تاریخ غلط فکس کی گئی ہے۔ اس کو چینج کراؤ۔ میں نے کہا کیسے؟ بنگالی تو مان گئے ہیں۔۔ بھٹو نے کہا بہت آسان ہے۔ ڈھاکہ میں ایک لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کراؤ۔ ٹیر گیس ہوگی، لاٹھی چارج ہوگی، کچھ لوگ مرینگے۔ تاریخ تبدیل ہوجائیگی۔"
روئیداد خان کے مطابق بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ ڈھاکہ میں اجلاس ہو۔

بھٹو سمجھ گئے تھے کہ جب تک مشرقی پاکستان، پاکستان کا حصہ ہے وہ کبھی وزیراعطم نہیں بن سکتے کیونکہ وہ کبھی مجیب سے نہیں جیت سکتے۔
اس لیے مارچ سے ستمبر تک بھٹو نے کچھ نہیں کیا جب پاک فوج ملک بچانے کے لیے دیوانہ وار لڑ رہی تھی۔ اگر اس وقت بھٹو سیاسی بھاگ دوڑ کرتے اور مجیب کو راضی کرلیتے تو شائد یہ سانحہ نہ ہوتا۔

پھر جب انڈیا نے حملہ کیا اور ملک ٹوٹنے کی نوبت آگئی تو وہ اس کو اقوم متحدہ میں روکنے کے بجائے کاغذات پھاڑ کر، اجلاس چھوڑ کر آگئے۔ اس نے بنگالیوں کو " سور کے بچو " کہہ کر مخاطب کیا۔ اسکی وہ تقریر آج بھی سنی جا سکتی ہے۔

پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھٹو نے جناح کے پاکستان کو قتل کر دیا۔ محض اس لیے کہ اسکو اقتدار مل سکے۔ بلاآخر بھٹو کو اقتدار مل گیا۔ عوام کو پہلی بار ضروریات زندگی کی اشیاء جیسے آٹا اور چینی کے حصول کے لیے قطاروں مٰیں کھڑا ہونا پڑا اور انکو مہنگائی کے معنی معلوم ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

احمقانہ معاشی فیصلوں اور کمزور سفارت کاری نے ایسے معاہدات کروائے کہ پاکستان کو اپنے کئی سال کی چاول کی فصل شہنشاہ ایران کی ضمانت پر گروی رکھوانی پڑی اور شملہ معاہدے میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن قرار دیا گیا دوسرے لفظوں میں اپنے پانیوں کو انڈیا کے حوالے کرنا پڑا۔۔ وولر بیراج کے معاملے میں انڈیا کو نہ روکا جا سکتا ہاں جنرل ضیاء کے پیدا کیے گئے مجاہدین نے بعد میں اس پر حملے کر کے اسکی تنصیبات کو کئی بار تباہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

بعد میں بھی حالات کچھ اچھے نہ رہے بھٹو نے جس سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا اس کے متعلق انکی اہلیہ نصرف بھٹو نے برملا اعتراف کیا تھا کہ یہ مارکسزم سے اخذ کیا گیا ہے (جس نے کروڑوں کو خدا کی ذات کا منکر کر دیا اور آج بھی کر رہے ہیں) اسکے نتیجے میں صتعتیں قومیا لی گئیں جس سے نہ صرف ملک سے سرمایہ نکل گیا بلکہ صنعتیں اور بعض ادارے ایسے تباہ ہوئے کہ آج تک دوبارہ نہیں اٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

شراب کھلی عام پی جانے لگی پاکستانی میڈیا پر پہلی بار بےحیائی (اس دور کے لحاظ سے) نظر آنے لگی یہانتک کہ کراچی میں دنیا کا سب سے بڑا کیسینو بننا شروع ہوا جس کا مہیب ڈھانچہ شائد آج بھی کلفٹن کے ساحل پر موجود ہے۔ جمہوری حکومت کے اس شاندار کارنامے کے بعد وہاں جو کچھ ہوتا اس سے کم از کم اسلامی دنیا میں پاکستان کے "وقار" میں زبردست اضافہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بھٹو کے خلاف تحریک نے زور پکڑا اور آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کر لیا تو بھٹو نے اعلان کیا کہ "میرے ہاتھ میں علی(رض) کی تلوار ہے " سمجھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ اسکا کیا مطلب تھا ملکی سیاست میں پہلی بار فرقہ وارانہ رنگ بھر دیا گیا۔ یہ رنگ نہیں بلکہ زہر تھا ۔۔۔۔۔اسکا یہ اثر ہوا کہ ظفر علی شاہ روڈ پر جیالوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کی داڑھی نوچی، انکا جبہ پھاڑا اور اسکی پگڑی لیر لیر کر کے لے گئے ۔۔ سو یہودی ایک مودودی کے نعرے لگے ۔۔۔۔۔۔ بھٹو صاحب کے مصلوب ہونے پر یہ فرقہ وارانہ رنگ اور شدید ہوگیا اور آج تک قائم ہے ۔۔۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بھٹو کے اس نعرے کا اثر یہ ہے کہ آج بھی ملک کی تیس فیصد آبادی فرقے کی بنیاد پر ووٹ ڈالتی ہے میری یہ بات کچھ لوگوں کو سخت لگی گی لیکن یہ سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

20/08/2021

خدا کا وجود
پچھلے تقریباً پانچ سو سال سے کائنات کا سائنسی مطالعہ جاری ہے۔ اِس مطالعے میں بڑے بڑے دماغ شامل رہے ہیں۔ آخری بات جہاں یہ سائنسی مطالعہ پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان کے لیے اُس کو اپنے احاطے میں لانا بظاہر ناممکن ہے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق، انسان کا علم بہ مشکل کائنات کے صرف پانچ فی صد حصے تک پہنچا ہے۔ اِس پانچ فی صد حصے کے معاملے میں بھی انسانی علم کی محدودیت کا یہ عالم ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ ہم جتنا دریافت کرپاتے ہیں، اُس سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ دریافت شدہ چیزیں بھی ابھی تک غیردریافت شدہ چیزوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں:
We are knowing more and more about less and less.
خدا کے بارے میں جاننا خالق (Creator) کے بارے میں جاننا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ابھی تک انسان خالق کی تخلیق (creation) کے بارے میں بھی صرف چند فی صد جان سکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا یہ مطالبہ کرنا کہ خالق کے بارے میں ہم کو قطعی معلومات دو، سرتاسر ایک غیر علمی مطالبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک تخلیق کے بارے میں پورا علم حاصل نہ کرسکا تو وہ خالق کے بارے میں پورا علم کیسے حاصل کرسکتا ہے۔
تخلیق کا وجود زمان ومکان(space and time) کے اندر ہے، اور خالق کا وجود ماورائے زمان ومکان(beyond space and time) سے تعلق رکھتا ہے، پھر جو انسان اتنا محدود ہو کہ وہ زمان ومکان کے اندر کی چیزوں کا بھی احاطہ نہ کرسکے، وہ زمان ومکان کے باہر کی حقیقت کو اپنے احاطے میں کس طرح لا سکتا ہے— حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں انسان خدا کو صرف عجز کی سطح پر دریافت کرسکتا ہے، نہ کہ علم کی سطح پر۔
الرسالہ نومبر2009

22/07/2021

میں نے قبرستان کے سامنے شام کی نماز ادا کی!

نماز کے بعد ، شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہوتا چلا گیا۔ جب میں نے قبرستان کے آس پاس نگاہ ڈالی تو وہاں عالم ، اسکالر ، کمانڈر ، میدان جنگ کے ہیرو ، قبائلی عمائدین ، ​​جوان ، بوڑھے، مرد ، خواتین اور بچے ... دفن تھے ، لیکن خاموشی تھی ، جن کے ساتھ اچھے کھانے ، پینے کی کوئی فکر نہیں تھی۔ ، کویٔ بھی لباس اور گرم بستر یا بچوں کے غم میں نہیں تھا
۔
میں قبرستان کا خاموش خطبہ سن رہا تھا۔ قبرستان نے مجھے حال کی زبان میں بتایا؛ "ایک رات آپ ہمارے مہمان ہوں گے اور آپ کی رات ان کی رات کی طرح ہوگی"۔

اے زمین و آسمانوں ، اس دنیا اور آخرت ، جنت و جہنم اور تمام جہانوں کے مالک! ہمارے لئے آخرت کا مشکل سفر آسان بنادیں ، ہم بہت گنہگار ہیں ، ہم نے اپنے ساتھ بہت زیادتی کی ہے ، ہم پر رحم کریں ... آمین..

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Shad Bagh
Lahore