Ring Road Police Lahore RRP
26/05/2026
*_میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں_*
*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے آپکا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
05/05/2026
---
*رپورٹ*
*تاریخ*:
05:05:2026
*واقعہ*:
آج -۱ بیٹ میں گشت کے دوران راستے سے ایک پرس ملا جو کسی پک اپ ڈرائیور کا تھا۔
*تفصیل*:
پرس کی تلاشی لینے پر اس میں مالک کا شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات موجود تھیں۔
*کی گئی کاروائی*:
شناختی کارڈ پر درج نمبر کی مدد سے مالک کا رابطہ نمبر معلوم کیا گیا۔ رابطہ کر کے تصدیق کے بعد مالک کو بلایا گیا اور پرس بحفاظت اس کے حوالے کر دیا گیا۔
*نتیجہ*:
مالک نے سامان پورا پا کر پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ اس کام سے عوام کا پولیس پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔
ڈیوٹی افسر*: پٹرولنگ آفیسر زین عمر۰۰
*بیٹ*: -۱
---
03/05/2026
موٹروے پر سفر کر رہا تھا تو ایک بھائی صاحب نے مجھ سے لفٹ مانگی۔ میں اکیلا جا رہا تھا، اس لیے میں نے انہیں لفٹ دے دی۔
ان کا نام خالد ہے اور وہ لاہور رنگ روڈ پر ڈیوٹی کرتے ہیں۔ بہت اچھے انسان ہیں، اور دورانِ سفر انہوں نے بہت خوبصورت باتیں کیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ موٹروے پر 100 کی سپیڈ تھوڑی کم ہے؟
خالد بھائی نے کہا: “بھائی، آپ کو سن کر عجیب لگے گا، لیکن میرا مشورہ ہے کہ اس کی سپیڈ 80 ہونی چاہیے۔”
میں حیران ہو گیا۔ میرے ذہن میں تھا کہ وہ کہیں گے کہ موٹروے کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا اگر اس پر بھی جی ٹی روڈ جیسی سپیڈ رکھنی ہے، لیکن وہ تو الٹی بات کر رہے تھے۔
خیر، میں نے وجہ پوچھی تو خالد بھائی نے بتایا:
“بھائی، میں یہ پیٹرول کی بچت کی وجہ سے نہیں کہہ رہا، یہ تو حکومت نے کیا ہے۔ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس سے ایکسیڈنٹ کی تعداد میں 70٪ تک کمی آئی ہے۔ گرمی کی وجہ سے ٹائر پھٹ جاتے تھے، اور اگر بس وغیرہ کا حادثہ ہو جائے تو کئی بار پوری بس کے مسافر جاں بحق ہو جاتے تھے۔”
انہوں نے ایک اور بات بتائی، جسے میں نے بعد میں کنفرم بھی کیا:
“ہر سال دہشت گردی یا دیگر وجوہات سے تقریباً 1000 سے 1500 لوگ جان سے جاتے ہیں، جبکہ حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 25,000 سے بھی زیادہ ہے، اور اگر زخمیوں کو شامل کریں تو یہ تعداد 1 لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔”
میں نے ان سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں ایک تصویر لے لوں۔ انہوں نے کہا: “بالکل، گاڑی روک کر لے لیں۔”
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اس افسر کی سوچ کتنی اعلیٰ ہے۔ نہ کوئی اسے دیکھ رہا تھا، نہ کوئی تعریف کر رہا تھا، پھر بھی وہ نیک نیتی سے اپنا کام کر رہا ہے اور آگاہی پھیلا رہا ہے۔ ان کے الفاظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں انسانی جان کی کتنی قدر ہے۔
پاکستان میں ایسے ایماندار لوگ بھی ہیں جو 40 ڈگری گرمی میں کھڑے ہو کر ہمارے لیے کام کرتے ہیں، وہ بھی پوری ایمانداری کے ساتھ۔
آپ اس سارے واقع سے مطعلق کیا سوچ رکھتے ہیں؟
copypaste
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the organization
Telephone
Website
Address
Lahore
54000