ALQALAM Online Quran Academy

ALQALAM Online Quran Academy

Share

25/01/2023

بچوں کا سکرین ٹائم کیسے کم کریں؟

میں جب ماؤں کو دیکھتا ہوں کہ بچوں کو سیل فون، لیپ ٹاپ یا ٹیلی ویژن پر کارٹون یا گیم وغیرہ لگا کر کئی گھنٹوں کے لیے دے دیتی ہیں اور خود گھر کے کام کاج میں مگن ہو جاتی ہیں تو میں خوفزدہ ہو جاتا ہوں کہ ہم کیسی غیرفطری طرز کی نسل تیار کر رہے ہیں اور نادانی میں محض تھوڑی سی سہولت کے لیے اپنے ہاتھوں اپنی اولادوں کا کتنا بڑا ناقابل تلافی نقصان کر رہے ہیں۔

ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کے مطابق اکثر ممالک میں 8 سے 18 سال کے بچے روزانہ ساڑھے سات گھنٹے کے لگ بھگ وقت سکرین یعنی سیل فون، لیپ ٹاپ، ٹیلی ویژن یا ٹیبلٹ پر گزارتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے. بچے جو دیکھتے ہیں اسے نقل کرتے ہیں. اگر آپ کو یقین نہ آئے تو اپنے بچے کو ایک دو گھنٹے ریسلنگ دکھائیں اور پھر دیکھیں کہ وہ اپنی چھوٹی بہن یا بھائی کا کیا حال کرتا ہے. یہ بچے نارمل سوشل لائف بالکل نہیں جی سکتے اور ایک نشئی کی طرح اس کے بغیر نہیں رہ سکتے. کوئی گھر آئے یا کسی کے گھر جائیں تو انہیں بس سکرین کی ہی پڑی ہوتی ہے. اسی طرح حد سے زیادہ سکرین ٹائم بچوں میں موٹاپے کے مسائل، جسمانی و ذہنی کمزوری، تھوڑے بڑے بچوں میں جنسی بےراہ روی اور تشدد سمیت دیگر کئی مسائل اور پیچیدگیاں پیدا کرنے کی وجہ بنتا ہے۔

لہٰذا بچوں کے سکرین ٹائم کو محدود کرنا ازحد ضروری ہے مگر یہ جان جوکھوں کا کام ہے. بلکہ اکثر لوگ تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ بچوں کو سکرین کی لت (Screen Addiction) پڑتی کیسے ہے اور اس کا علاج کیا ہے. یہاں چند قیمتی تجاویز دی جا رہی ہیں جن پر عمل کرکے آپ اپنے بچوں کی اس عادت کو کامیابی سے کنٹرول کر سکتے ہیں۔

1. سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے سکرین ٹائم کو کم سے کم کرکے بچوں کے سامنے ایک عملی مثال بنیں. یاد رکھیں کہ بچے وہ نہیں کرتے جو ہم کہتے ہیں بلکہ وہ کرتے ہیں جو وہ ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں. لہٰذا اپنی صورت میں بچوں کے سامنے ایک قابلِ تقلید مثال پیش کریں۔

2. والدین ہونے کے ناطے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے سکرین ٹائم کے متعلق قدرے سخت فیصلے کرنے کی ہمت پیدا کیجیے. وقتی طور پر آپ کا دل خفا ہو گا مگر کل یہی اولاد آپ کے ان فیصلوں پر آپ کی احسان مند رہے گی۔

3. بچوں کے لیے محدود سکرین ٹائم کا تعین کیجیے. یہ ایک سے دو گھنٹے پر محیط ہو سکتا ہے۔

4. بچوں میں مطالعہ، کھیل کود اور دیگر ایسی سرگرمیوں کے لیے شوق پیدا کیجیے اور ان کی حوصلہ افزائی کیجیے۔

5. بچوں کو اپنا کوالٹی ٹائم دیجیے اور ان کے ساتھ مختلف ان ڈور اور آؤٹ ڈور کھیل کھیلیں، گپ شپ کریں اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیں. ان سرگرمیوں کو ان کے لیے اتنا دلچسپ بنا دیں کہ وہ شوق سے ان میں حصہ لینے لگیں۔

6. زیادہ سکرین ٹائم کے بچوں کے رویہ پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیتے رہیں. اس سے بھی آپ کو ان کا سکرین ٹائم کم کرنے کی کافی تحریک ملے گی۔

7. ٹی وی اور کمپیوٹر وغیرہ کے لئے گھر میں ایک جگہ مخصوص کر دیں اور ہر ایک کو پابند کریں کہ ان کا استعمال صرف اسی مخصوص جگہ پر ہی کیا جا سکے. اپنے یا بچوں کے بیڈروم میں تو ٹی وی کو زہر قاتل سمجھیں۔

8. غیرضروری سکرین ٹائم کے منفی اثرات سے خود بھی واقفیت حاصل کیجیے اور اپنے بچوں کو بھی ان کی ذہنی استعداد کے مطابق آگاہ کیجیے۔

9. اپنے گھروں میں "ٹیکنالوجی فری زونز" قائم کیجیے جن میں کسی کو بھی سیل فون، ٹی وی یا کمپیوٹر وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو. مثلاً ڈائننگ روم یا کچن وغیرہ۔

10. "ٹیکنالوجی فری اوقات" بھی سیٹ کیجیے جن میں فیملی کے تمام افراد ایک دوسرے کو کوالٹی ٹائم دیں اور اس دوران سیل فون یا ٹی وی وغیرہ کا استعمال بالکل ممنوع ہو. یہ وقت محض ایک گھنٹہ بھی ہو سکتا ہے مگر اس دوران ہر ایک پر اصولوں کی پابندی لازم ہو۔
ALQALAM Online Quran Academy
0312 6408970

22/12/2022

قُبُورِ والدین کی زیارت کی فضیلت

سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مشکبار ہے
: جوشخص ہر جُمُعَہ کو اپنے والدین یا ان میں سے ایک کی قبرکی زیارت کرے، اُس کی مغفرت کردی جائے گی اور اُسے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھ دیا جائےگا۔
(شعب الایمان،ج6، ص201، حدیث:7901)
یہاں جُمُعَہ سے مرادیا تو جُمُعَہ کا دن ہے یا پورا ہفتہ، بہتر ہے کہ ہر جُمُعَہ کے دن والدین کی قُبُورکی زیارت کیا کرے،اگر وہاں حاضری میسر نہ ہوتوہرجُمُعَہ کوان کے لئےایصالِ ثواب کیا کرے۔

(مراٰۃ المناجیح،ج2،ص526)

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Lahore