Atiqa Digital

Atiqa Digital

Share

27/07/2025

اللہ آپ کو جزائے خیر دے ایمن آپ نے مظلوم خواتین کے حق میں ایسا حساس سوال پوچھا، جو آج کے معاشرے کی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔
سوال:41
اگر کوئی لڑکی زبردستی (ریپ)کا شکار ہو جائے تو شریعت میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جبکہ ایسے درندے معاشرے میں موجود ہیں جو عزتیں پامال کرتے ہیں، اور لڑکی اکثر خاموشی، شرم یا خوف کے باعث کچھ نہیں کہہ پاتی۔
✅ جواب (قرآن و حدیث کی روشنی میں):
🔴 1. جبری زنا (ریپ) ایک سنگین ظلم اور حد درجے کا گناہ ہے
یہ زنا سے بھی زیادہ سخت جرم ہے کیونکہ:
✓ یہ زبردستی ہے
✓ عزت پر حملہ ہے
✓روح، جسم، اور نفسیات کو توڑ دینے والا ظلم ہے
2. لڑکی (متاثرہ) پر کوئی گناہ نہیں
📖 قرآن فرماتا ہے:
"إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ"
(النحل: 106)
"سوائے اس کے جس پر زبردستی کی جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔"
🔹 اس آیت سے فقہاء نے اصول اخذ کیا کہ:
"جس سے زبردستی گناہ کروایا جائے، اور وہ دل سے راضی نہ ہو، تو وہ گناہگار نہیں۔"
✅ اسی طرح جس لڑکی پر زبردستی زیادتی ہو:
✓ وہ شرعاً پاک دامن ہے
✓اس پر کوئی شرعی حد یا سزا نہیں
✓ بلکہ اس کا دفاع کرنا اور مدد کرنا واجب ہے
📚 3. حدیث سے دلیل:
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
ایک عورت نے زیادتی (جبری زنا) کے بعد شور مچایا، لوگ آئے، مجرم کو پکڑ کر نبی ﷺ کے پاس لائے۔
آپ ﷺ نےلڑکی کو چھوڑ دیا اورمجرم کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
(سنن ترمذی: 1454)
🔸 اس سے واضح ہوا کہ:
| متاثرہ لڑکی مظلوم ہے |
مجرم | حدِ زنا (سخت سزا) کا مستحق ہے |
⚖️ 4. اگر لڑکی خاموش رہی ہو؟
✓ شریعت میں اعتراف یا گواہی نہ ہو تو حد نہیں لگتی لیکن تعزیری سزا دی جا سکتی ہے
✓لڑکی کو شرمندہ کرنے یا معاشرتی بوجھ ڈالنے کا کوئی شرعی جواز نہیں
💔 5. ایسے حالات میں لڑکی کیا کرے؟
✅ تین اقدامات فوری لازم ہیں:
1. فوراً غسل کرے اور طہارت اختیار کرے (پاکیزگی عبادت کا راستہ کھولتی ہے)
2. کسی بااعتماد شخص یا ادارے کو اطلاع دے (قانونی و شرعی تحفظ کے لیے)
3. دل سے سچی توبہ اور اللہ سے قرب کی کوشش کرے
(اگرچہ وہ گناہگار نہیں، مگر روحانی سکون کے لیے ضروری ہے)
🤲 6. لڑکی کو کیا کہنا چاہیے؟
✓تم گناہگار نہیں، تم مظلوم ہو۔
✓اللّٰہ تمہارے آنسو دیکھتا ہے، اور انصاف کا وعدہ رکھتا ہے۔
✓یہ حادثہ تمہاری عزت نہیں چھین سکتا، بلکہ اللّٰہ کے نزدیک تم اور بلند ہو گئی ہو۔
"إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا"
(الحج: 38)
"بے شک اللہ ایمان والوں کی خود مدد کرتا ہے۔"
✅ خلاصہ:
| نکتہ | حکم
| جبری زیادتی (ریپ) | زنا سے بھی سنگین جرم |
| لڑکی پر گناہ ہے؟ | ❌ نہیں، وہ معصوم و
مظلوم ہے |
| شریعت کا حکم | مجرم پر سخت سزا (حد یا تعزیر) |
| لڑکی کیا کرے؟ | طہارت، حفاظت، اور اللّٰہ سے رجوع |
| معاشرہ کیا کرے؟ | متاثرہ کو سہارا دے، شرمندہ نہ کرے |
یہ درد دل سے سننے اور دین سے سہارا دینے کا وقت ہے، شرمندہ کرنے کا نہیں۔
🖊️: عتیقہ بشیر

25/07/2025

ماشاءاللّٰہ، آمنہ آپ نے بہت اہم اور عام الجھن والا سوال پوچھا ہے۔
سوال:39
حاملہ (pregnant) عورت کو اگر شوہر طلاق دے، تو کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟
✅ جواب:
قرآن و حدیث کی روشنی میں
🔹 جی ہاں! حاملہ عورت کو دی گئی طلاق شرعاً ہو جاتی ہے۔
طلاق واقع ہو جاتی ہے، لیکن اُس کی عدت مختلف ہوتی ہے۔
📖 قرآن سے دلیل:
"وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ"
(الطلاق: 4)
"اور حاملہ عورتوں کی عدت اُن کا وضع حمل (بچے کی پیدائش) ہے۔"
یعنی:
✓ اگر عورت حمل میں ہو اور شوہر طلاق دے دے تو طلاق ہو جاتی ہے۔
✓لیکن اُس کی عدت یہ ہو گی کہ جب بچہ پیدا ہو جائے گا، عدت ختم ہو جائے گی۔
📚 حدیث کی تائید:
حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میرے شوہر فوت ہوئے اور میں حاملہ تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب تم نے بچے کو جنم دیا تو تمہاری عدت ختم ہو گئی۔"(صحیح مسلم: 1484)
📌 اس سے ثابت ہوا کہ حاملہ عورت کی عدت بچے کی ولادت ہے، خواہ طلاق ہو یا شوہر کا انتقال۔
❌ اعتراض: "حمل میں طلاق دینا جائز ہے؟"
📌 حمل کی حالت میں طلاق دینا جائز تو ہے، مگر یہ "طلاقِ سُنّت" ہے اگر ایک طہر (پاکی کے وقت) میں دی جائے۔
✓حیض کے وقت طلاق دینا گناہ ہے (طلاقِ بدعی)
✓ لیکن حمل میں طلاق دینا جائز ہے اور طلاق واقع ہو جاتی ہے
✅ خلاصہ:

| نکتہ | حکم |
| شوہر نے حمل کی حالت میں طلاق دی | طلاق واقع ہو جاتی ہے |
| عدت کیا ہو گی؟
| بچے کی پیدائش تک |
| حمل میں طلاق دینا | جائز ہے، اور شریعت میں واقع ہوتی ہے |
🖊️: عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

24/07/2025

ماشاءاللّٰہ،نور بہت اچھا سوال ہے، کیونکہ روزمرہ عبادت کی بنیاد وضو پر ہے، اور اگر وضو صحیح نہ ہو تو نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔
سوال:38
وضو کے لیے کن اعضاء کو دھونا فرض ہے؟
وضو کے کتنے فرائض ہیں؟
اگر کوئی ایک فرض رہ جائے تو کیا وضو ہو جاتا ہے؟
✅ جواب (قرآن و حدیث کی روشنی میں):
📖 قرآن مجید سے وضو کے فرائض:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ..."(سورہ المائدہ: 6)
اس آیت میں چار اعضا واضح طور پر بیان کیے گئے:
✅ وضو کے 4 فرائض (اہلحدیث و جمہور کے نزدیک):
1. چہرہ دھونا
( پیشانی کے اوپر سے لے کر ٹھوڑی تک، اور ایک کان سے دوسرے کان تک۔)
2. دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا
(انگلیوں کے سرے سے کہنیوں تک)۔
3. سر کا مسح کرنا
( کم از کم ایک بار ہاتھ پھیرنا۔)
4. دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا
(انگلیوں کے سرے سے ٹخنے تک)۔
📚 حدیث کی تائید:
نبی کریم ﷺ نے وضو کرتے ہوئے ان سب اعمال کو مسلسل اور ترتیب سے کیا، اور فرمایا:
"مَن تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
(صحیح بخاری: 164)
"جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور دو رکعتیں خشوع سے پڑھیں، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتےہیں۔"
❌ اگر کوئی فرض رہ جائے تو؟
اگر وضو میں کوئی ایک فرض بھی جان بوجھ کر چھوڑ دیا یا بھول گیا (مثلاً پاؤں نہ دھوئے، یا چہرہ نہ دھویا) تو:
⛔ وضو باطل ہے، نماز نہیں ہوگی۔
📌 کیونکہ وضو ایک عبادت ہے جس میں ہر فرض کا ادا ہونا ضروری ہے۔
✅ وضو کے فرائض کا خلاصہ (یاد رکھنے کے لیے):
| فرض | عمل |
| 1 | چہرہ دھونا |
| 2 | ہاتھ دھونا (کہنیوں سمیت) |
| 3 | سر کا مسح |
| 4 | پاؤں دھونا (ٹخنوں سمیت) |

✨ اضافی (مستحب) اعمال (جو سنت ہیں، مگر فرض نہیں):
✓ بسم اللّٰہ کہنا
✓ مسواک کرنا
✓ تین تین بار دھونا
✓ اعضا کو ترتیب سے دھونا
✓ دائیں جانب سے آغاز کرنا
یہ سب وضو کو کامل اور افضل بناتے ہیں، لیکن فرض نہیں۔ اگر کوئی رہ جائے تو وضو ہو جاتا ہے، بشرطیکہ فرائض مکمل ہوں۔
🖊️:عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

23/07/2025

آپ نے جو سوال کیا ہے وہ بہت سنگین، حساس، اور شرعی طور پر نہایت سنگین جرم سے متعلق ہے۔
یہ صرف ایک "گناہ" نہیں بلکہ حد شرعی کا مستحق جرم ہے جسے زنا بالمحارم (حرام رشتہ دار سے زنا) کہتے ہیں۔
سوال:37
اگر بہن بھائی کے درمیان ہمبستری (زنا) ہو جائے — تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
جواب: (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
❌ 1. یہ فعل کبیرہ ترین گناہ ہے (زنا بالمحارم)
📖 قرآن کی روشنی میں:
"حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ..."(سورہ نساء: 23)
"تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں..."
🔹 اس آیت میں واضح طور پر بہن سے نکاح اور تعلق کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
اور اگر کوئی جان بوجھ کر ایسے حرام رشتے سے جنسی تعلق قائم کرے تو یہ زنا سے بڑھ کر جرم ہے۔
💣 2. زنا بالمحارم کا دنیاوی حکم (شرعی حد):
✅ اسلامی عدالت (قاضی) کے سامنے اگر یہ جرم ثابت ہو جائے تو:
اگر دونوں بالغ، عاقل، اور رضا مندی سے شریک ہوں،
تو شرعی حد نافذ کی جائے گی:
سنگسار (اگر شادی شدہ ہوں) سو کوڑے (اگر غیر شادی شدہ ہوں)
اور جلاوطنی (ایک سال) (سنن ابی داود: 4476)
⛔ لیکن جب زنا اپنے محرم سے ہو (جیسے بہن یا ماں)تو یہ عام زنا سے زیادہ سنگین جرم ہے۔
📌 فقہائے کرام (مثلاً امام مالک، امام احمد، امام شافعی) کے نزدیک:
"ایسے مجرم کی سزا عام زنا سے سخت ہونی چاہیے، اور قاضی کے لیے تعزیری اختیار ہے۔"
3. کفارہ کیا ہے؟
✅ اگر یہ جرم عدالت میں ثابت نہیں ہوا اور انسان سچے دل سے توبہ کرتا ہے،
تو شرعی کفارہ صرف ایک ہے:
خالص، سچی توبہ۔
📖 قرآن کہتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعِبَادِ"
"بے شک اللہ بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔" (الشورى: 25)
"وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ... وَلَا يَزْنُونَ... إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا..."
(الفرقان: 68-70)
✅ یعنی: اگر کوئی زنا جیسے بڑے گناہ سے بھی سچی توبہ کر لے، تو اللہ اُس کے گناہ نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔
🛑 لیکن… کچھ باتیں بہت اہم ہیں:
1. اس گناہ کو چھپانا فرض ہے اگر عدالت میں نہیں آیا۔
2. آئندہ اس حرام رشتے سے مکمل پردہ، فاصلہ، اور قطع تعلق رکھنا لازم ہے۔
3. ایسے گناہ کے بعد شادی کی اجازت نہیں— بہن بھائی یا ماں بیٹے میں نکاح ہمیشہ حرام ہے۔
✅ عملی توبہ کیسے کریں؟
✓فوراً مکمل توبہ: (ندامت + نیتِ ترک + آئندہ اجتناب)
✓کثرتِ استغفار
✓نمازِ توبہ
✓صدقہ و خیرات
✓روزے رکھنا (کفّارے کی نیت سے)
✓سچی توبہ کے بعد روحانی علاج بھی ضروری ہے(کیونکہ یہ گناہ نفس، نظر، اور شیطان کی چالوں سے ہوتا ہے)
❓ کیا شادی کے بعد ایسا ہوا ہو؟
تو بیوی بہن ہو تو نکاح باطل ہے، فوراً علیحدگی لازم ہے۔
📌 خلاصہ:
| جرم | حکم |
| بہن سے زنا | حرام، سخت ترین گناہ، حد یا تعزیر کا مستحق|
| نکاح کیا ہو | باطل، فوراً علیحدگی لازم |
| کفارہ | صرف سچی توبہ، ندامت، اور ترکِ گناہ |
اگر آپ یا کوئی ایسی بہن/شخص اس آزمائش میں ہے تو میں رازداری کے ساتھ مدد، رہنمائی، اور اصلاحی پلان دے سکتی ہوں۔
یہ معاملہ شرم کا نہیں بلکہ نجات اور توبہ کا ہے۔
اللّٰہ سے امید رکھیں، وہ معاف کرنے والا ہے۔
🖊️:عتیقہ بشیر اسلامک اسکالر و ریسرچر

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Lahore