Dr Hamid Raza
میں ویسے تو بچوں کا ڈاکٹر ھوں لیکن سپیشلاءزیشن کے بعد پنجاب گورنمنٹ کی پالیسی کے تحت 3 سال لاھور سے باھر سروس کرنا ضروری تھا تو میری پوسٹنگ شیخوپورہ میں ھوءی اور وھاں پر سروس کے دوران مجھے ایک ایڈمنسٹریٹو پوسٹ کا اضافی چارج دیا گیا جس پر تقریبآ تین سال میں نے کام کیا اور اس دوران بوجا کرونا ڈینگی وغیرہ ھمارا واسطا مختلف محکموں سے رھتا تھا اور تقریبآ ھر ھفتے میں ضلع کے تمام انتطامی افسران کی دو سے تین میٹنگ ھوا کرتی تھیں اور اس دوران چار ڈپٹی کمشنرز 3 سے چار اے سی اور تقریبا 4 ہی سی ای اوذ ھیلتھ تبدیل ہوئے اور بھت قریب سے مختلف محکموں میں کرپشن اور سیاسی مداخلت دیکھ کر اس نتیجہ پے پہنچا ھوں
1-میرٹ صرف پیسے کا ہے ایک نائب قاصد سے لے کر ایڈہاک کنسلٹنٹ 18 سکیل تک کی پوسٹنگ جو کچھ ڈسٹرکٹ کمیٹی کے پاس ہوتا سب نام پہلے سے ڈیسائیڈ ھو چکے ھوتے ھیں اور اس سیلیکشن کا criteria پیسہ ھے جو کے اس سیٹ کے مطابق یا تو متعلقہ DC آفس میں کچھ مخصوص ٹاوٹ کے ذرئیے لیا جاتا یا اس حلقے میں موجود حکومتی MPA یا MNA کے مخصوص بندے سے طے کیا جاتا ھے اور سب سے شرم کی با ت تب ھوتی ھے جب چند سیٹوں پے ہزاروں امیدوار کے کئ کئ دن تک دھوپ میں قطاریں لگوا کر انٹرویوز لے رھے ھوتا اور ھر امیدوار ایک امید لے کر آتا لیکن شائد ان کو نہیں پتا ھوتا کے لسٹ تو ایک رات پہلے ہی متعلقہ DC اور متعلقہ MPAاور MNAs کی "باہمی مشاورت" سے بن چکی ہوتی ھے.
2.محکموں میں کرپشن کی ایک اور صورت کسی بھی مھکمہ میں کوئ نیا project ہوتا جس میں جس میں یے لوگ بہت ٹیکنیکل کمییٹیاں بنا کر وہ project یا تو ایک مخصوص percentage جو کے عمومی طور پر 50 ففٹی ھوتی اس کو دی جاتی یا پھر متعلقہ MPA اور MNA صاحب کی کمپنی کو دی جاتی جو کہ اس نے اپنے کسی ایجنٹ کے نام پر بنائ ھوتی اور اگر غلطی سے کوئ ایماندار افسر تھوڑی مظاہمت کر لے تو اسے "administrative tools" مطلب ٹرانسفر انقوائریز وغیرہ میں پھنسا دیا جاتا
3. محکمانہ کرپشن کی تیسری شکل آفس میں فائل ورک میں رکاوٹ ہے اس کی مثال ایسے ہے آپکا اگر جائز کام بھی ہے اور آپ ایک عام آدمی ہیں آپ جتنا قانونی کاروائ مکمل بھی کر لیں آپکا کام وقت پر تب تک نہیں ہو سکتا جب تک متعلقہ کلرک وغیرہ کو "خوش" نہیں کرتے اور اسکے برعکس آپکا بظاہر نجائز کام بھی نوٹوں کی مدد سے گھر بیٹھ کر کروا سکتے اور یہ سب اس آفس میں موجود" آفیسر"کے علاوہ سبکو پتا ھوتا..
4 اس سب سے زیادہ کرپشن کسی بھی ملازم کی اپنی زمہ داریوں اور ڈیوٹی سے کام چوری ہے اور بد دیانتی ھے..
میں تو شائد اللہ کا شکر کرتا ہوں کے شائد میری جان چھوٹ گئ لیکن ھم نے ہی اس سسٹم کو ٹھیک کرنا ھم نے ہی اس سسٹم کے خلاف کھڑا ہونا. نہیں تو یہ نطام کب تک ایسے رھے گا آپ جیسے بھی حکمران لے آؤ لیکن یہ چیز یں ھم سب نے خود ٹھیک کرنی ھم نے اپنے آپکو ٹھیک کرنا اور یہ باور کروانا ہے خود کو کہ اگر کوئ بھی نا دیکھے تو اللہ کی ذات ہمیشہ دیکھ رہی ھے.
ڈاکٹر حامد رضا
کنسلٹنٹ چائلڈ سپیشلسٹ میئو ہسپتال لاہور.
23/03/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Lahore
Opening Hours
| Monday | 16:00 - 22:00 |
| Tuesday | 16:00 - 22:00 |
| Wednesday | 16:00 - 22:00 |
| Thursday | 16:00 - 22:00 |
| Friday | 16:00 - 22:00 |
| Saturday | 16:00 - 22:00 |