H.Q_Writes

H.Q_Writes

Share

01/01/2024

ان کی آواز سنے اِک سال بیت گیا
یوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو
(A.M)م

31/12/2023

اور پھر ایک دن ہم انہیں بس پکارتے ہی رہ جائیں گے🙂💔
(A.M) م

07/12/2023

دیکھ لیا تم لوگوں نے،،، وہ کس قسم کی نیچ لڑکی تھی۔۔۔ غفران سکندر تلخی سے بولے جبکہ وہ دونوں حیرت زدہ سے اس کاغذ کو ہی دیکھ رہے تھے

یہ تو بہت غلط کیا درشہوار نے۔۔۔۔ مشال نے بے ساختہ کہا جس پر عمر اور نادیہ نے سر نفی میں ہلایا
اس نے کچھ غلط نہیں کیا تھا،،، جانتے بھی ہو اس کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کیا گیا تھا۔۔۔ہمیں اس تحریر پر بالکل بھی یقین نہیں تھا۔۔۔ عمر نے نادیہ کو دیکھ کر کہا
اور یہ ہی حال بہرام کا بھی تھا۔۔۔۔۔ وہ اس سے محبت کرتا تھا،،، پاگلوں کی طرح چاہتا تھا اسے۔۔۔۔۔۔ وہ کیسے یقین کرلیتا کہ اسے چیٹ کیا گیا ہے۔۔۔خیر۔۔سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا تھا،، وہ ہی یونی،،، وہ ہی لائف بس بہرام۔۔۔۔بہرام وہ بہرام سکندر نہیں رہا تھا،،، وہ بہت بدل گیا تھا،،، وہ بالکل خاموش رہنے لگا تھا،،، ہر وقت کہیں کھویا سا رہتا تھا،،،،، پھر اچانک سے اس کے فادر کا ایک ایکسیڈنٹ ہوا،،،، ان لوگوں کے ساتھ عجیب واقعات ہونے لگے،،،، حالات کافی خراب ہو گئے تھے،،، بہت کچھ ہوا تھا لیکن بہرام واپس نہیں گیا۔۔۔وہ اپنے گھر نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔پھرررر۔۔۔۔ اس نے توقف کیا
پھر؟؟؟؟؟؟؟ خیام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا اور پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا
پھر یونی لائف ختم ہو گئی اور اسے نا چاہتے ہوئے بھی گھر جانا پڑا،،، وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے کر گیا تھا،،، اس کے پیرنٹس کی حالت کافی خراب تھی،،، انہوں نے اپنی کافی زیادہ پراپرٹی بیچ دی تھی اور اپنا سارا بزنس اقرار بھائی کو دے دیا،،، اپنے سارے شئیرز انہیں بیچ دیے،،، اب بس ان کے پاس واحد وہی گھر تھا جہاں وہ رہتے تھے

ایک دن جب ہم آؤٹنگ سے واپس گھر آئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ خط،،، وہ سب کہانی تھی،،، جھوٹی کہانی بس شہوار کو بہرام سے دور کرنے کے لیے۔۔۔ اصل میں حقیقت وہ نہیں تھی جو ہمیں دکھائی گئی تھی۔۔۔دھوکہ شہوار نے نہیں،،، بہرام کے اپنے والدین نے اسے دیا تھا

ان تینوں کے کمرے سے باہر نکلنے کے بعد وہ اپنی کلائی دیکھ کر مسکرائی اور بیڈ پر لیٹ کر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی جہاں مہندی سے بہرام لکھا ہوا تھا،،،، مہندی کا رنگ کافی گہرا تھا،،، خوشی سے اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔۔۔۔ کتنے عرصے سے وہ بہرام کی محبت کو محسوس کر رہی تھی،،، اسے تو پتا بھی نہیں چلا کہ وہ بھی اسے پسند کرنے لگی ہے۔۔۔ کتنا عرصہ انتظار کیا تھا اس نے اس دن کا۔۔۔ اب بالآخر وہ اس کی ہونے جا رہی تھی،،، بس ایک دن ہی تو رہ گیا تھا اس کا انتظار ختم ہونے میں۔۔۔ وہ بس یہ ہی سوچ رہی تھی جب کمرے میں نفیسہ بیگم داخل ہوئیں
آنٹی۔۔۔آپ۔۔۔ وہ فوراً اٹھی
ہاں میں۔۔۔وہ بہرام تمہیں نیچے بلا رہا ہے۔۔۔ وہ نارمل سے انداز میں بولیں
اچھا۔۔۔ہم آتے ہیں۔۔۔ وہ بیڈ سے اترتے ہوئے بولی
شہوار۔۔۔جلدی کرو،،، اسے جانا بھی ہے۔۔۔ وہ بیزاریت سے بولیں
جی۔۔۔۔ وہ دوپٹہ گلے میں ڈالتی دروازے کی طرف بھاگی،،،، سیڑھیوں کے پاس پہنچ کر جیسے ہی اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو کسی نے پیچھے سے اسے دھکا دیا اور وہ سیڑھیوں سے گرتی چلی گئی
آاااااہ۔۔۔۔ اس نے زخمی نگاہوں سے اپنے سامنے کھڑے دونوں نفوس کو دیکھا،،، وہ ہمت کرتی کھڑی ہوئی
آااااپ لوووگ۔۔۔۔ اس کے سر اور بازؤں سے خون بہہ رہا تھا،،، دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا جبکہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا رہا تھا،،، ایسے میں وہ اپنا چکراتا سر تھامے اتنا ہی بول پائی
نفیسہ۔۔۔دیکھو یہ لڑکی کتنی ڈھیٹ ہے،،، ہمارے سامنے بالکل ٹھیک ٹھاک کھڑی ہے،،، سیڑھیوں سے گرنے کے بعد بھی اسے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ غفران سکندر نے ناگواری سے اسے دیکھا
آاااپ لوگ ایسا۔۔ایساااا ککک۔۔۔کیوں کر رہے ہیں؟؟؟ اس نے اٹک اٹک کر جملہ مکمل کیا
تاکہ تم کبھی ہمارے بیٹے کی زندگی میں واپس نہ آ سکو۔۔۔تم خود سوچو کہاں ہم اور کہاں تم۔۔۔تم اس قابل ہو کہ اتنے بڑے گھر میں ہمارے اکلوتے بیٹے کی بیوی کی حیثیت سے رہو،،،، تم جیسوں کو تو میں اپنا نوکر بھی نہ رکھوں۔۔۔۔ انہوں نے انتہائی نفرت سے کہا جبکہ وہ سرخ پڑتی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی
بہرام کی باتوں اور رویے سے بالکل نہیں لگتا کہ وہ تمہیں چھوڑے گا اور تم بھی اس کی جان نہیں چھوڑنے والی اور چھوڑو گی بھی کیوں آخر وہ اتنی بڑی جائیداد کا اکلوتا وارث جو ہے۔۔۔۔ نفیسہ بیگم نے سرد و سپاٹ لہجہ میں کہا
ننن۔۔۔نہیں۔۔ہم۔۔ہم۔۔لالچی نہیں ہیں۔۔۔ہم۔۔ہم ان سے محب۔۔۔محبت کرتے ہیں۔۔۔سچی محبت۔۔۔ اس نے بھیگی آواز میں کہا
خاموش رہو۔۔۔آپ نے اس کا جو کرنا ہے جلدی کریں۔۔۔وہ لوگ واپس نہ آ جائیں۔۔۔۔ نفیسہ بیگم انہیں دیکھ کر بولیں
مجھے لگا تھا کہ سیڑھیوں سے گرنے کے بعد یہ بچے گی نہیں پر اسے تو کوئی اثر ہی نہیں ہوا،،، لگتا ہے دوسرے پلان پر عمل کرنا پڑے گا۔۔۔۔ وہ اس کے قریب آئے اور اس کے کھلے ہوئے سیاہ لمبے بالوں کو ہاتھ میں جکڑ کر کھینچتے ہوئے باہر نکل آئے
انکل۔۔۔پپپ۔۔۔پلیزززز ہم۔۔۔ہمیں چھوڑ دیں۔۔۔جیسا آااا۔۔۔آپ سمجھ رہے ہیں۔۔ایسا۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ہم۔۔ہم ان کی دولت کے لیے شاادی نہیں کر رہے۔۔۔ اس کی ایک نہ سنتے ہوئے وہ اسے باہر درخت کے پاس لے آئے
رحیم۔۔۔۔ انہوں نے دور کھڑے ملازم کو آواز دی تو وہ ان کی طرف دوڑا چلا آیا
جیسا میں نے کہا تھا تم سے ویسا ہی کیا ہے نااا۔۔۔ وہ اس ملازم کو دیکھ کر بولے جبکہ شہوار کے بال ابھی تک ان کی گرفت میں تھے،،، انہوں نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کی کلائی سختی سے پکڑ لی
جی صاحب۔۔۔جیسا آپ نے کہا میں نے کر دیا۔۔۔سب ملازموں کو چھٹی دے دی ہے۔۔۔۔ رحیم مؤدبانہ کھڑا تھا
گڈ۔۔۔میں چاہتا تو تمہیں بھی چھٹی دے سکتا تھا پر تم میرے وفادار ہو۔۔اعتبار کرتا ہوں میں تم پر،،، مجھے امید ہے تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گے۔۔۔ رحیم نے ہاں میں سر ہلایا تو انہوں نے شہوار کو دیکھا جو اپنے بال اور بازو آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی
جاؤ۔۔۔۔اب جلدی سے رسی،،، پٹرول اور ماچس لا کر دو۔۔ اسے تو یہیں آگ لگاتے ہیں۔۔۔ انہوں نے حکم دیا تو وہ فوراً پلٹ گیا
اور تم جاکر جیویلر کو فون کرو کہ پانچ،،، چھے گھنٹے سے پہلے دکان پر نہ پہنچے۔۔۔ انہوں نے سامنے کھڑی نفیسہ کو دیکھ کر کہا تو وہ فوراً اندر گئیں

رات کی سیاہی ہر سوں پھیل چکی تھی،،، آسمان پر چاند آج کہیں نہیں تھا،،، وہ اپنی بند ہوتی آنکھوں سے اپنے ساتھ ہونے والا ظلم دیکھ رہی تھی،، اس نے بہت مزاحمت کی،،، چیخی،، چلائی لیکن اس کی سننے والا وہاں کوئی نہیں تھا،،، اس کو درخت کے ساتھ باندھ کر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی

عمر نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کیں،،، نادیہ کی آنکھوں سے پانی رواں تھا
ہم نے اپنے کانوں سے سنا تھا وہ اپنا جرم قبول کر رہے تھے،،، اس بات سے انجان کہ کوئی ان دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔۔۔ عمر نے اپنی آنکھیں کھولیں
بہت ظلم کیا تھا ان لوگوں نے شہوار پر۔۔۔۔ نادیہ بھاری آواز میں بولی جوکہ رونے کی وجہ سے ہو گئی تھی
پھر بہرام کے پیرنٹس کا کیا ہوا؟؟؟؟ ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا تو عمر نے سرد آہ بھری
برا کرنے والوں کے ساتھ کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا،،، جب ان لوگوں نے یہ سب کیا اور ہمیں ایک کور اسٹوری سنائی،،، اس کے بعد ہم تو واپس یونیورسٹی آ گئے لیکن ان کی تباہی کا آغاز ہوگیا،،،، ان کے بزنس میں مسلسل نقصان ہو رہا تھا،،، سب ڈیلز ختم ہو گئیں،،، غفران سکندر کا ایکسیڈنٹ ہوا جس سے وہ وہیل چیئر پر آ گئے،،، اس گھر میں چیخوں کی آوازیں آنے لگیں اور بھی بہت کچھ تھا،،، وہ رحیم خوف کی وجہ سے نوکری چھوڑ کر بھاگ گیا،،، انہوں نے کسی عامل وغیرہ سے مل کر پڑھائی کروائی اور پتا نہیں کیا کیا،،، تب جاکر تھوڑا سکون ہوا تھا لیکن جب پانی سر سے گزر چکا تھا،،، حالات کافی خراب ہو چکے تھے،،، جب ہم نے ان دونوں کی باتیں سنی تو بہرام ضبط کھوتا ان کے سامنے جاکر کھڑا ہو گیا

تو یہ تھی حقیقت۔۔۔۔اس نے مجھے نہیں چھوڑا بلکہ آپ لوگوں نے۔۔۔۔۔ بہرام نے بات ادھوری چھوڑی
مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں آپ لوگوں کا بیٹا ہوں۔۔۔مجھے پہلے بتا دیتے کہ آپ لوگ اسے اس گھر میں نہیں لانا چاہتے تو میں اسے کبھی بھی یہاں نہ لاتا،،، ہم کہیں اور چلے جاتے۔۔۔دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جاتے پر آپ دونوں کو اپنی شکل نہ دکھاتے۔۔۔ایک تو آپ لوگوں نے اس معصوم پر ظلم کیا اوپر سے فیک اسٹوری بنا کر میرے سامنے پیش کر دی۔۔۔صرف اس لیے کہ آپ لوگ اسے میری نظروں میں گرا سکیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔ اس نے سر نفی میں ہلایا ضبط سے اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو چکی تھیں
نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہوا۔۔۔مجھے یقین تھا وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی،،، میرے دل میں اس کی وہی حیثیت وہی مقام ہے جو پہلے تھا بلکہ آج۔۔۔آج میرے دل میں اس کا مقام اور بلند ہو گیا،،،، آپ نے اسے میری نظروں میں نہیں گرایا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آج میں اپنی ہی نظروں میں گر گیا ہوں۔۔۔کیا منہ دکھاؤں گا میں اسے،،، کیا جواب دوں گا اس کو؟؟؟ اس کا جرم کیا تھا؟؟؟؟؟ جو اسے اتنی بڑی سزا دی گئی۔۔۔۔ وہ چلا رہا تھا جبکہ وہ دونوں نظریں جھکائے ہوئے تھے
بولیں۔۔۔۔چپ کیوں ہیں،،،، جواب کیوں نہیں دے رہے؟؟؟ کوئی جواب نہیں ہے ناااا۔۔۔ وہ دھاڑا تھا،،، عمر نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
بہرام۔۔۔
کیااااا بہرام؟؟؟؟ اس نے عمر کا ہاتھ جھٹکا اور اس کی طرف مڑا
تو،،،، تو جانتا ہے ناااا،،، وہ تو مان ہی نہیں رہی تھی،،، کتنی مشکل سے،،، کتنے وقت کے بعد وہ مانی تھی۔۔۔ وہ عمر کو دیکھ کر بولا،،، اب اس کے ضبط نے جواب دے دیا تھا،،، لال انگارہ آنکھوں سے نمکین پانی نکل رہا تھا
کااااش۔۔۔۔کاش عمر۔۔۔وہ کبھی مانتی ہی نہ،،، میری وجہ سے،،، صرف اور صرف میری وجہ سے اس کا یہ حال ہوا۔۔۔میں۔۔۔میں اس کا قصوروار ہوں،،، میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا،،،، کبھی نہیں۔۔۔اس نے مجھ پر بھروسہ کیا تھا،،، اسے مجھ پر اعتماد تھا جب ہی تو وہ یہاں میرے ساتھ آئی تھی،،، میں ہی پاگل تھا جو ان کا فریب سمجھ نہ سکا۔۔۔ اس نے غصیلی نگاہ ان دونوں پر ڈالی اور بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیے
ٹھیک ہے۔۔۔میں بہرام سکندر آج بلکہ اسی وقت اس گھر سے جا رہا ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے،،،، کبھی پلٹ کر یہاں نہیں آؤں گا،،، میں آپ دونوں سے اپنا ہر تعلق ختم کرتا ہوں۔۔۔۔ وہ مضبوط لہجے میں بولا
بیٹاااااا۔۔۔۔ نفیسہ بیگم نے اسے بے بسی سے پکارا تو اس نے اپنا ہاتھ فضا میں بلند کیا
نہیں ہوں۔۔۔۔میں نہیں ہوں آپ کا بیٹا اور نہ ہی آپ لوگ میرے ماں باپ۔۔۔۔ وہ سرد و سپاٹ لہجہ میں کہتا وہاں سے نکل گیا،،، عمر بھی اس کے پیچھے بھاگا

بہرام اس جلے ہوئے درخت کے سامنے کھڑا تھا،،، آج کتنے عرصے بعد اس نے اس درخت کو غور سے دیکھا تھا وہاں لال رنگ کی چوڑیاں لٹکی ہوئی تھیں وہی چوڑیاں جو اس نے آخری بار اسے اپنے ہاتھوں سے پہنائی تھی۔۔۔۔اس رات تو وہ جلدی جلدی میں سیدھا اندر پہنچا تھا اور اس رات کے بعد اسے اپنا ہی ہوش نہیں تھا وہ اس درخت کو کیا دیکھتا۔۔۔
شہوار۔۔۔۔۔شہوار۔۔۔ وہ اسے پکارتا تھکا ہارا سا زمین پر گٹھنوں کے بل بیٹھ گیا
بہرام۔۔۔میرے یاااررر۔۔۔۔ عمر نے بھی اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا،،، اس نے اپنی بھیگی پلکیں اٹھائیں اور عمر کو زور سے گلے لگاکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
عمر۔۔۔۔عمر۔۔۔اس کی کیا غلطی تھی،،، کیوں ہوا اس کے ساتھ ایسا؟؟؟؟؟ اس نے تو کچھ نہیں کیا تھا،،، سب کچھ تو میں نے ہی کیا تھا،،، اصل میں اگر کسی کو سزا ملنی چاہیے تو وہ میں ہوں۔۔۔صرف میں۔۔۔میں نے بہت غلط کیا اس کے ساتھ۔۔۔ وہ اس کے گلے لگ کر زور زور سے چلا رہا تھا
بہرام۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔جو کچھ بھی ہوا اس میں تیرا کوئی قصور نہیں ہے یاااررر۔۔۔۔تو۔۔تو خود کو بلیم مت کر۔۔۔
ایسا ہی ہے۔۔۔ایسا ہی ہے عمر۔۔۔۔میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گا۔۔۔میری وجہ سے ایک معصوم لڑکی کی جان گئی ہے۔۔۔اگر مجھے پہلے پتا ہوتا تو میں اسے اس جہنم میں کبھی نہیں لاتا۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔ وہ اس سے الگ ہوا اور جھٹکے سے زمین سے اٹھا
شہوار۔۔۔۔شہوار۔۔۔تم۔۔تم مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔ وہ اس درخت کو دیکھ کر کہہ رہا تھا جبکہ آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے،،، وہ مسلسل خود کو قصوروار ٹھہرا رہا تھا،،، وہ بہرام سکندر جو کبھی کسی کے آگے جھکا نہیں،،، جس کے آگے پیچھے لڑکیوں کی لائن لگی ہوتی تھی،،، جس کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہوتی تھی،،، جس کی بھوری آنکھیں ہمیشہ مسکرا رہی ہوتی تھیں،،، جن میں ڈھیروں شرارتیں ہوتی تھیں،،، آج آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں،،، وہ ایک جلے ہوئے درخت کے سامنے کھڑا بچوں کی طرح رو رہا تھا،،، گڑگڑا رہا تھا اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگ رہا تھا جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں،،،، زندگی میں پہلی بار وہ ایسا ہارا تھا کہ اس کے آنسو تھم ہی نہیں رہے تھے،،، وہ پہلی بار ایسے رویا تھا،،، پیچھے کھڑے عمر سے اپنے جگری دوست کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی پر وہ اسے اس وقت رونے دینا چاہتا تھا،،، یہ سوچ کر کہ اس کا غم واقعی بہت بڑا ہے،،، یہ غم کبھی ختم نہیں ہو سکتا شاید آنسو بہہ جانے سے تھوڑا کم ہی ہو جائے،،،، نا جانے کتنی دیر عمر کھڑا اسے روتا ہوا دیکھتا رہا،،، پھر تھوڑا آگے آیا
بہرام۔۔۔۔ عمر نے اسے پکارا وہ مڑا نہیں
عمر۔۔۔۔مجھے روکنا مت۔۔۔تو وعدہ کر۔۔۔ وہ اس کی طرف مڑا اور آنسو صاف کیے مگر پھر بھی وہ بہتے رہے
تو مجھ سے وعدہ کر۔۔۔تو مجھے پیچھے سے آواز نہیں دے گا۔۔۔ اس نے نم آنکھوں سے عمر کو دیکھا،،،، عمر نے اسے غور سے دیکھا وہ کیا تھا اور کیا ہو گیا تھا

وعدہ کر عمر۔۔۔۔ بہرام اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا اور اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا
بہرام۔۔۔۔
عمر۔۔۔تو میرا بہت اچھا دوست ہے۔۔میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ میری زندگی میں یہ لمحہ بھی آئے کہ میں تجھ سے دور ہونے کا تصور بھی کروں لیکن۔۔۔لیکن اب حالات کچھ اور ہیں،،، میں اب کسی سے ملنا نہیں چاہتا،،، میں اس دنیا سے،،، دنیا والوں سے فرار چاہتا ہوں،،، ہر چیلنج قبول کرنے والا،،، کبھی نہ ہارنے والا بہرام سکندر آج خود سے ہار گیا،،، بس اب اور نہیں۔۔۔میں یہاں سے بہت دور جانا چاہتا ہوں،،، بہت دووور۔۔۔ بہرام بے بسی سے بولا
ٹھیک ہے۔۔۔میں تجھے نہیں روکوں گا،،، تجھے پیچھے سے آواز بھی نہیں دوں گا۔۔۔ عمر اپنے تاثرات چھپاتے ہوئے بولا
نہیں۔۔۔ایسے نہیں،،، تو وعدہ کر۔۔۔وعدہ کر عمر۔۔۔۔بس یہ آخری وعدہ۔۔۔۔ بہرام نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا،،، وہ اپنے دوست کو بخوبی جانتا تھا،،، وہ جانتا تھا کہ دونوں کی جان ایک دوسرے میں ہے مگر اسے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی تھا،،،، عمر نے نا چاہتے ہوئے بھی اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا،،، اب عمر اپنا ضبط کھو چکا تھا

دوست سے جدائی کا لمحہ بہت اذیت ناک ہوتا ہے اور دوست بھی ایسا جس کے بغیر ہم ایک پل نہ رہ سکتے ہوں اس سے دوری تو انسان کو آدھا مار دیتی ہے۔۔۔

یاررر جگررر۔۔۔اب کیا آخری بار اپنے دوست کو گلے بھی نہیں لگائے گا؟؟؟؟ بہرام نے مبہم سا مسکراتے ہوئے کہا،،، وہ فوراً بہرام سے لپٹ گیا اور بری طرح رونے لگا
بہرام۔۔۔میرے دوست توو۔۔۔تو ایسا کیوں کر رہا ہے؟؟؟؟
عمر کچھ مت کہہ۔۔۔کوئی ایسا سوال نہ کر جس کا جواب میں دے نہ سکوں۔۔۔
بہرام۔۔۔تو مت جا ناااا یا پھر مجھے بھی اپنے ساتھ ہی لے جااا۔۔۔ہم دونوں ساتھ رہیں گے،،، یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے۔۔۔
نہیں۔۔۔تو اپنی زندگی میرے لیے خراب مت کر۔۔۔۔ اس نے اپنے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلا اور اس سے الگ ہوا
چل بس اب بہت ہوا۔۔۔۔ یہ رونا دھونا بند کر،، میں تجھے ہمیشہ کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں،،، خوش دیکھنا چاہتا ہوں،،، تو ہمیشہ خوش رہنا۔۔۔ بہرام اس کی آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولا
بہراااام۔۔۔۔ عمر نے اسے پکارا
دیکھ تو ابھی مڑا نہیں۔۔۔میں نے تجھے پیچھے سے آواز نہیں دی،،، تو سامنے ہے میرے۔۔۔
بووول۔۔۔
یاااررر۔۔۔تو جا کہاں رہا ہے؟؟؟؟
ابھی بتایا ناااا۔۔یہاں سے دور،،، بہہت دوور۔۔۔
پر کوئی نام،،، کوئی جگہ۔۔۔۔
میں خود نہیں جانتا۔۔۔تجھے کیا بتاؤں گا۔۔۔ دونوں کے لہجوں میں بے بسی ہی بے بسی تھی،،، وہ دونوں آج ایک دوسرے سے نظریں چرائے کھڑے تھے،،، اگر ملا لیتے تو خود کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا
اچھاااا۔۔۔ٹھیک ہے پھر۔۔۔میں چلتا ہوں،،، تونے اپنا بہت سارا خیال رکھنا ہے اور ہمیشہ خوش رہنا ہے۔۔۔۔اللہ تجھے ہمیشہ خوش رکھے اور تیرے ساتھ کبھی بھی ایسا نہ ہو جیسا میرے ساتھ ہوا۔۔۔اللہ حافظ۔۔۔۔ وہ اسے کہتا مڑ گیا،،، وہ پلٹ کر اسے دیکھے بنا دھیمے قدم اٹھاتا باہر کی جانب بڑھ رہا تھا اور عمر اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا،،، آنکھوں سے پانی رواں تھا،،، اس نے تو کبھی یہ نہیں چاہا تھا وہ تو اپنے دوست کو ہمیشہ خوش ہی دیکھنا چاہتا تھا،،، بہرام کے لیے گھر سے باہر نکلنا بہت مشکل ہو رہا تھا،،، وہ آنسو بہاتا اپنی یونی لائف یاد کر رہا تھا جہاں کوئی دکھ،،، کوئی غم نہیں تھا،،، صرف دو دوست تھے،،، خوشیاں تھیں،،، پھر وہ دو سے چار دوست ہو گئے۔۔۔ بہرام،،، درشہوار،،، عمر اور نادیہ۔۔۔۔ چاروں بہت خوش تھے مگر انہیں یہ خوشیاں راس نہیں آئیں۔۔۔۔۔

اس کے جانے کے کچھ دن بعد اس گھر میں آگ لگ گئی اور اس کے والدین جل گئے لیکن وہ آگ شہوار نے نہیں لگائی تھی،،، وہ کسی کو کبھی نقصان پہنچا ہی نہیں سکتی۔۔۔ عمر نے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا،، وہاں موجود سب کی آنکھیں نم تھیں

اور بہرام،،، اس کا پتا نہیں چلا کچھ؟؟؟ خیام نم آواز میں بولا
نہیں۔۔۔میں نے اسے بہت ڈھونڈا تھا پر وہ نا جانے کہاں چلا گیا تھا؟؟؟ مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔۔میں کتنا بد قسمت ہوں ناااا مجھے اپنے دوست کی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔۔۔ اس نے سرد آہ بھری
کچھ تو ہوگا۔۔۔کوئی گھر،،، فارم ہاؤس،،، کوئی ایڈریس،،، کچھ بھی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے دیکھ کر کہا جبکہ عمر نے سر نفی میں ہلایا
وہ چوڑیاں جو درخت پر تھیں انہیں چھیڑنے سے منع کیا گیا تھا،،، ان بچیوں نے انہیں اتار کر اپنی دوست کو پہنا دیا،،، جس کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے لیکن شہوار۔۔۔میں گارنٹی دیتا ہوں اس کی،،، وہ ایسی لڑکی نہیں ہے جو دوسروں کو تکلیف پہنچائے۔۔۔ہاں لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ وہ یہاں دوبارہ کیوں آئی ہے۔۔۔
وہ یہاں بہرام کے لیے آئی ہے،،، وہ جانتی ہے کہ وہ کہاں ہے۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے اطمینان سے کہا جبکہ ان سب نے ڈاکٹر صاحب کو دیکھا
مطلب۔۔۔بہرام۔۔۔
ہاں وہ زندہ ہے۔۔۔جب ہی تو وہ یہاں ہے ورنہ وہ کبھی نہیں آتی،،، اس کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں جس کے لیے وہ یہاں آئے۔۔۔۔بہرام کے والدین تو پہلے ہی مر چکے ہیں،،، پھر وہ دوبارہ یہاں کیوں آئی؟؟؟ سوچیں ذرا آپ لوگ۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے عمر کی بات کاٹ کر نہایت شائستگی سے کہا،،، اب ساری بات ان لوگوں کو سمجھ آگئی تھی
••••••••••••

ہم جانتے ہیں آپ کہاں ہیں۔۔۔ہم جلد ہی آپ کے پاس آئیں گے،،، ہم نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا پر۔۔۔پر ہمیں دھوکہ دیا گیا تھا،،، برسوں پہلے،،، بہت غلط کیا تھا ہمارے ساتھ،،، اس گھر کے لوگوں نے،،، ہمیں آپ سے دور کر دیا تھا پر ہم نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ہم نے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔۔۔ہم نے اس رات خود کو بچانے کی بہت کوشش بھی کی تھی لیکن ہماری ساری کوششیں بیکار رہیں۔۔۔ہم آپ کے پاس آرہے ہیں۔۔۔بہرام۔۔۔۔ وہ اس کھنڈر،،، ویران حویلی کے سامنے کھڑی بلند آواز میں کہہ رہی تھی،،، آج آسمان پر چاند جگمگا رہا تھا
••••••••••

یاد کرنے کی کوشش کریں۔۔کچھ تو ہوگا،،، کوئی تو سراغ ہوگا،،، ہمارے لیے بہرام کے پاس پہنچنا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ وہاں ہی ہوگی
خیام بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے وہ بہرام کے پاس ہی گئی ہوگی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے خیام کی بات سے اکتفاد کیا اور انہیں دیکھا جو سر نفی میں ہلا رہے تھے پھر عمر کو جیسے کچھ یاد آیا تھا تو اس نے فوراً نادیہ کو دیکھا
نادیہ۔۔۔شہوار۔۔۔شہوار کا گھر۔۔۔ عمر کے کہتے ہی نادیہ کے دماغ میں جھماکہ ہوا جبکہ اب سب کی نگاہوں کا مرکز نادیہ تھی
ہاں۔۔۔اس کا گھر۔۔۔اس کا گھر گاؤں میں تھا۔۔

بس ایک یہ ہی جگہ ہے جہاں میں نہیں گیا کبھی،،، شاید وہ وہیں ہے۔۔۔ عمر نے بے ساختہ کہا اور بس یہ ہی ایک لمحہ تھا جب خیام اٹھ کھڑا ہوا اور باہر بھاگا،، باقی سب بھی اس کے پیچھے باہر نکلے
لڑکیوووو۔۔۔تم سب یہیں رہو۔۔۔زین تم ان کے ساتھ رہنا۔۔۔ عمر نے زین کو دیکھ کر کہا اور گاڑی میں بیٹھ گیا،،،، خیام زن سے گاڑی بھگاتا سڑک پر لے آیا،،، ڈاکٹر صاحب،، نادیہ اور عمر اس کے ہمراہ تھے
آپ لوگ کبھی وہاں گئے تھے؟؟؟؟ خیام نے گاڑی موڑتے ہوئے پوچھا
نہیں لیکن مجھے ایڈریس معلوم ہے،،، ایک بار اس نے بتایا تھا۔۔۔۔ بیک سیٹ پر بیٹھی نادیہ نے فوراً جواب دیا،،، خیام نے سر اثبات میں ہلایا اور گاڑی کی رفتار مزید بڑھا دی وہ جلد از جلد وہاں پہنچنا چاہتا تھا،،، سڑک پر رش نہ ہونے کے برابر تھا،، اس کا پورا دھیان ڈرائیونگ پر تھا
••••••••••

ہمارا قصور کیا تھا،،، ہمیں کیوں اتنی بڑی سزا دی گئی،،، کیوں ہمیں آپ سے دور کر دیا گیا؟؟؟؟ وہ اس سنسان حویلی کے سامنے کھڑی نا جانے کس سے اپنے سوالوں کے جواب مانگ رہی تھی
غفران سکندر کو اپنی دولت پر بہت غرور تھا نااا۔۔۔کہاں گئی وہ دولت،،، کہاں گیا وہ غرور اور کہاں گیا وہ غفران سکندر۔۔۔جس کو۔۔جس کو اپنے بیٹے کی خوشی سے زیادہ اپنی دولت عزیز تھی۔۔۔ اس نے اپنا سر جھٹکا اور اس پرانی،،،، بے رونق سی حویلی کو دیکھ کر مبہم سا مسکرائی
ہماری اوقات دکھا رہے تھے ہمیں۔۔۔ وہ زخمی سا مسکرائی
لیکن اپنی اوقات بھول گئے تھے۔۔۔اکلوتے بیٹے نے،،، اتنی بڑی جائیداد کے اکلوتے وارث نے خود آپ لوگوں سے تعلق ختم کر دیا،،، سارے رشتے ختم کر دیے،،، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں رہا آپ لوگوں کے پاس،،، ہمیں سزا دی تھی لیکن آپ کا بیٹا آپ سے دور چلا گیا،،، اس سے بڑی سزا آپ لوگوں کے لیے کیا ہو سکتی تھی۔۔۔ اس نے تھوڑا توقف کیا
آج ہم ان سے ملیں گے۔۔۔ہمیں کوئی نہیں روک سکتا،،، ہم جس ادھورے کام کے لیے آئے تھے،،، آج وہ پورا کریں گے اور ہمیشہ۔۔۔ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گے،،، آج سے یہ وجود تو شفق کا ہوگا مگر روح درشہوار کی ہوگی۔۔ وہ حتمی انداز میں کہتی گیٹ کی جانب مڑی

وہ سفید لباس میں ملبوس ایک بہت ہی بڑے اور گھنے درخت کے سائے میں اس کے سامنے کھڑی تھی،،، وہاں ہر طرف اجالا تھا،،، وہ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
بس اب ہم جا رہے ہیں۔۔۔۔ہم جلد ہی آپ کے پاس آئیں گے۔۔۔ آپ اب بھی ہم سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں ناااا بہرام۔۔۔۔ بہرام نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں چھپا رکھے تھے
ہاں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں میں تم سے۔۔۔ کب آؤ گی،،،، تم ہمیشہ مجھ سے یہ ہی کہتی ہو۔۔۔مت جاؤ نااااا۔۔۔ بہرام نے بیچارگی سے کہا جس پر وہ مسکرا دی
بہرام ہمیں دیر ہو رہی ہے،،، جانا ہوگا۔۔۔۔
شہوار۔۔۔۔ بہرام نے اسے پکارا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گئی،،، بہرام نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا جو خالی تھے،،، اس نے دائیں بائیں دیکھا،،، وہاں بالکل اندھیرا تھا،،، وہ روشنی،،، وہ درخت سب کچھ غائب ہو چکا تھا یہاں تک کہ درشہوار بھی جا چکی تھی،،، وہ گٹھنوں کے بل زمین پر بیٹھا اور اپنا سر جھکا لیا

شہواااررررر۔۔۔۔۔شہوااارر۔۔۔۔۔ اس نے اپنی بھوری آنکھیں کھولیں،،، اس کی پیشانی پسینہ سے چمک رہی تھی،،، وہ جھٹکے سے زمین سے اٹھ بیٹھا،،،، اس مٹی کے چھوٹے سے گھر میں صرف ایک موم بتی کی روشنی تھی،، اس نے اپنی بڑھی ہوئی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرا
پھر وہی خواب۔۔۔ اس کے سفید ہونٹوں نے حرکت کی،،، اس نے ہاتھ سے اپنی پیشانی پر آیا پسینہ صاف کیا،،، پیشانی پر موجود سیاہ نشان واضح ہوا
تم ہمیشہ مجھ سے ہاتھ چھڑوا کر دور چلی جاتی ہو۔۔۔۔ کیوں جاتی ہو؟؟؟ شہوار،، کیوں چلی جاتی ہو،،، مجھے چھوڑ کر،،، تم مجھے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جاتیں،،، مجھے اس دنیا کے اندھیرے میں کیوں چھوڑ جاتی ہو؟؟؟؟ اس نے جذبات سے عاری لہجہ میں کہا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں،،، پھر اٹھا اور مٹی کے برتن سے تھوڑا پانی نکالا
میری نماز نہ رہ جائے اس لیے چلی جاتی ہو ناااا۔۔۔ وہ مبہم سا مسکرایا اور ہاتھ میں موجود پانی کو دیکھنے لگا

اوووووو نووووو۔۔۔۔آگے راستہ بند ہے۔۔۔۔ خیام نے گاڑی روکی اور ایک نظر ہاتھ پر بندھی گھڑی پر ڈالی جو رات کا ایک بجا رہی تھی
شارٹ کٹ سے چلتے ہیں۔۔۔۔ عمر نے بے ساختہ کہا
میں نہیں جانتا شارٹ کٹ۔۔۔۔ اس نے سر نفی میں ہلایا
میں جانتا ہوں۔۔۔گاڑی ریورس لو۔۔۔۔۔ عمر نے مضبوط لہجے میں کہا تو خیام نے سر ہاں میں ہلایا اور گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی

اس نے سلام پھیر کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آ گرا
اللہ جی آپ مجھے معاف کر دیں۔۔۔میری وجہ سے ایک لڑکی کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا،،، اس کو بہت بڑی سزا دی گئی،،، اللہ جی۔۔مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے۔۔۔میں آپ سے کافی عرصے سے اپنے اس کبیرہ گناہ کی معافی مانگ رہا ہوں،،، جو جانے انجانے میں مجھ سے ہوگیا تھا،،، نا جانے کیوں میں اپنے ماں باپ کو سمجھ نہیں سکا اور شہوار کو وہاں لے گیا۔۔۔مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے،،، اس کی بھوری آنکھیں،،، اس کی بھوری ویران آنکھیں آج بھی برس رہی تھیں،،، وہ جائے نماز پر بیٹھا اپنے کانپتے ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنا چہرہ چھپا گیا اور زار و قطار رونے لگا
شہوار۔۔۔شہوار۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔میں تمہارا مجرم ہوں،،، ایسا مجرم جو اتنے سال بعد بھی اپنے جرم کی سزا نہ پا سکا۔۔۔ وہ ہاتھ منہ پر رکھے روتے ہوئے کہہ رہا تھا،،، جب دروازے پر دستک ہوئی اس نے ہاتھ چہرے سے ہٹا کر دروازے کی طرف گردن گھمائی
اس وقت۔۔۔ااس وقت کون ہوگا؟؟؟؟ وہ بڑبڑایا،،، چہرہ صاف کرکے جائے نماز ایک طرف رکھی اور دروازے کی طرف بڑھا،،، دروازے پر دستک اب تک جاری تھی
کون؟؟؟؟ اس نے کہتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا،،، اس کا ماضی لوٹ آیا تھا،،، وہ ماضی جس میں خوشیاں تھیں،،، شرارتیں تھیں پر حقیقت تو یہ تھی کہ وہ بہت تلخ تھا،،، بہت بے رحم تھا

ہر گزرتا پل ماضی بنتا جاتا ہے،،، ماضی ہماری آنکھوں میں زندہ رہتا ہے،،، یادیں بن کر اور کچھ یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں اور وہ یادیں اکثر تلخ ہوتی ہیں

عمرررر۔۔۔۔ اس کے لب بے اختیار ہلے
بہرام۔۔۔ عمر کہتے ہی اس کے گلے جا لگا جبکہ وہ پیچھے کھڑے تینوں لوگوں کو نا سمجھی سے دیکھنے لگا
تو کیسا ہے؟؟؟ ٹھیک تو ہے نااا۔۔۔ عمر نے اس سے الگ ہو کر اس کا جائزہ لیا
ٹھیک۔۔۔۔ وہ زخمی سا مسکرایا اور سرد آہ بھری
یہ سب؟؟؟؟ بہرام نے سوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا
بہرام۔۔۔ہمیں تیری مدد چاہیے۔۔۔۔ عمر نے اپنے سامنے کھڑے بہرام کو دیکھ کر کہا
آپ لوگ اندر آ جائیں۔۔۔۔ بہرام نے لائٹ کا بٹن آن کیا تو وہاں زرد روشنی پھیل گئی
میں نے تجھے منع کیا تھا عمر۔۔۔۔ بہرام شکوہ کن نظروں سے اسے دیکھا
کیا منع کیا تھا؟؟؟ تو نے بس ایک وعدہ مانگا تھا اور میں نے وعدہ پورا کیا۔۔۔تجھے نہیں روکا اور نہ ہی آواز دی تھی۔۔۔۔
ہاں لیکن یہاں اچانک۔۔تجھے یہاں کا کیسے معلوم ہوا؟؟؟ بہرام اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
ایکچوئلی۔۔۔ہمیں آپ کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔۔۔ خیام نے آس بھری نظر سے بہرام کو دیکھا جبکہ وہ نا سمجھنے والے انداز میں اپنے سامنے بیٹھے سب لوگوں کو دیکھنے لگا
••••••••••

وہ لان میں ٹہلتے ہوئے مسلسل کسی کا نمبر ڈائل کر رہی تھیں
کیا ہوا ماما؟؟؟؟؟ آپ یہاں اس وقت۔۔۔ لان میں آتی رباب نے پریشانی سے پوچھا
ہانی۔۔ابھی تک گھر نہیں آئی بہت رات ہو گئی ہے،،، اس کا نمبر بھی نہیں لگ رہا۔۔۔ سلطانہ بیگم بے چین سی بولیں
آپ فکر مت کریں اپنی فرینڈز کے ساتھ ہوگی،، آجائے گی۔۔۔کافی وقت ہوگیا ہے آپ جاکر سو جائیں۔۔آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ رباب نے نرمی سے کہا
ہمممم۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔ویسے بھی وہ رات کو دیر سے ہی گھر آتی ہے۔۔۔۔ سلطانہ بیگم نرمی سے بولیں اور وہ دونوں اندر چل دیں
•••••••••••

کیاااااااا؟؟؟؟؟ تمہیں پتا بھی ہے،،، تم لوگ کیا کہہ رہے ہو۔۔۔ بہرام حیرانگی سے بولا
یہ بالکل سچ ہے۔۔۔اس کی روح،،، شفق کے وجود میں ہے۔۔۔اس کا لا حاصل مقصد تم ہو،،، وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے یہاں آئی ہے۔۔۔وہ تمہارے پاس آئے گی۔۔۔تمہارے ساتھ ہمیشہ رہنے کے لیے اور جانتے ہو ایسا ہونے سے کیا ہوگا؟؟؟؟ ڈاکٹر صاحب نے بغور اسے دیکھا جو ان ہی کی طرف متوجہ تھا
شفق کی شناخت کھو جائے گی،،، اس کے وجود پر درشہوار کا مکمل طور پر قبضہ ہو جائے گا،،، شفق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی بات مکمل کی اور اپنے سامنے ساکت بیٹھے شخص کو دیکھا اچانک دروازہ زوردار آواز کے ساتھ کھلا،،، سب کی نگاہیں دروازے کی طرف اٹھیں،،،،،، سیاہ لباس میں ملبوس،،، بکھرے ہوئے سیاہ بال،،، چہرے پر جا بجا جلنے کے نشان،،، لال چوڑیاں پہنے آج وہاں شفق نہیں بیس سالہ درشہوار تھی،،، وہی نیلی آنکھیں،،، سیاہ لمبے بال وہ بہرام کو دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی جبکہ وہاں موجود سب لوگ شاکڈ سے کھڑے اسے دیکھ رہے تھے
بہرام۔۔۔۔۔تم ہی سب کچھ ٹھیک کر سکتے ہو۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے آرام سے کہا
بہرام۔۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی طرف بڑھ رہی تھی،،،، وہ شاکڈ سا اسے دیکھ رہا تھا
شہوااارررر۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے بولا
بہرام۔۔۔دیکھیں ہم آگئے آپ کے پاس،،، اب ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔۔۔۔
بہرام۔۔۔اس کی چوڑیاں اتار دو،،، یہ چوڑیاں تم نے ہی پہنائی تھیں۔۔۔یہ اتار دو۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے ساتھ کھڑے بہرام کو دیکھ کر کہا
شہوار۔۔۔۔مجھے معاف کر دو۔۔۔میں نہیں جانتا تھا کہ میرے ماں باپ میرے ساتھ،،،،، تمہارے ساتھ ایسا سلوک کریں گے۔۔۔۔ اس نے بھیگی آواز میں کہا،،، وہ اب اس کے مقابل کھڑی تھی
آپ ہمیں شرمندہ مت کریں۔۔۔انہوں نے ہمارے ساتھ جو کیا وہ اچھا نہیں تھا پر جو ان کے ساتھ ہوا وہ بھی برا نہیں تھا لیکن دیکھیں وہ ہمیں آپ سے جدا کرکے بھی جدا نہ کر سکے۔۔۔ہم آگئے آپ کے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ وہ مبہم سا مسکرائی
کسی اور کے وجود پر قابض ہو جانا غلط ہے،،، جس طرح تم بہرام سے محبت کرتی تھیں،،، اسے چاہتی تھیں بالکل اسی طرح خیام بھی شفق کو بہت چاہتا ہے۔۔کیا تم یہ چاہتی ہو کہ جس طرح بہرام تمہارے لیے تڑپتا رہا ہے ویسے ہی خیام بھی شفق کے لیے تڑپتا رہے؟؟؟؟کیوں اتنی سنگدل بن رہی ہو؟؟؟؟چلی جاؤ اس کا وجود چھوڑ کر۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کی بات سن کر اس نے انہیں زوردار دھکا دیا جس سے وہ دور جا گرے
شہوار۔۔۔شہوار۔۔۔دیکھو ایسا مت کرو۔۔۔میں تمہاری دوست ہوں ناااا۔۔۔میں جانتی ہوں تم بہت اچھی ہو،،، کسی کو تکلیف نہیں دے سکتیں،،، تمہارے اس طرح سے قابض ہونے پر شفق کو بہت اذیت پہنچتی ہے۔۔۔پلیزززز تم چلی جاؤ۔۔۔۔ نادیہ نے التجا کی
دوست۔۔۔تم خود کو ہمارا دوست کہہ رہی ہو اور ہمیں یہاں سے جانے کا بھی کہہ رہی ہو۔۔۔۔
شہوار جو تم کر رہی ہو یا کرنے جا رہی ہو۔۔۔ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ہم جانتے ہیں تم بھی بہرام کو بہت چاہتی تھیں لیکن۔۔۔۔۔ عمر کی بات ادھوری رہ گئی،،، جب اس چھوٹے سے گھر میں موجود سارا سامان ہوا میں اڑنے لگا،،، بہرام کھڑا حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہا تھا
دیکھیں بہرام۔۔۔پہلے آپ کے والدین نے ہمیں آپ سے الگ کر دیا تھا اور آج یہ سب۔۔۔عمر اور نادیہ۔۔۔یہ تو ہمارے دوست ہیں۔۔۔یہ بھی ہمیں یہاں سے جانے کا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ شہوار درد بھری آواز میں بولی اور ہاتھ کے اشارے سے سامنے پڑا میز ہوا میں بلند کرکے پوری قوت سے اسے عمر اور نادیہ کی طرف پھینکا،،، میز لگنے سے وہ دونوں نیچے گر گئے
بس کرو۔۔۔بند کرو یہ سب،،، چلی جاؤ یہاں سے،،، چھوڑ دو شفق کو۔۔۔ خیام دھاڑا تھا،،، سامنے دیوار پر لگے آئینہ میں دراڑیں پڑیں اور وہ اڑتا ہوا خیام کی طرف آیا تو اس نے جلدی سے اپنے چہرے کو بازؤں کے پیچھے چھپایا لیکن کچھ کانچ کے ٹکڑے اس کی پیشانی پر جا لگے اور اس کی سفید رنگ کی شرٹ کی آستین خون سے لال ہو گئیں
شہواااررر۔۔۔۔ بہرام اچانک چلایا جس سے یکدم چیزیں اپنی جگہ پر واپس آ گئیں،،، وہ تینوں زمین بوس تھے،،، خیام کھڑا بہرام اور شہوار کو دیکھ رہا تھا،،، ان دونوں کی محبت کی کوئی انتہا نہ تھی،،، ان کی کہانی بہت افسردہ تھی لیکن یہاں سوال شفق کا تھا،،، وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا،،، وہ ان دونوں کے لیے بہت برا محسوس کر رہا تھا،،، اسے یہ بھی سمجھ آ گیا تھا کہ محبت کرنے والوں کا بچھڑ جانا کس قدر اذیت دیتا ہے
یہ تم کیا کر رہی ہو؟؟؟؟ تم ایسی تو نہیں تھیں۔۔۔۔۔ پھر یہ سب کیوں؟؟؟ بہرام سپاٹ لہجے میں بولا
کیا مطلب،،، یہ کیسا سوال ہے؟؟؟؟ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سب کی وجہ آپ ہیں۔۔۔۔۔ اس نے بے ساختہ کہا جبکہ بہرام نے سر نفی میں ہلایا
نہیں۔۔۔مجھے یہ سب کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ایسے کسی کو نقصان پہنچا کر،،، کسی کو درد اور تکلیف دے کر۔۔۔تم یہ سب نہ کرو۔۔۔تم یہ چاہتی ہو ناااا کہ ہم ایک ساتھ رہیں۔۔۔۔ بہرام اس کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا جبکہ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
درشہوار۔۔۔میں بہرام سکندر تیس سال پہلے بھی تمہارا تھا،،، اب بھی تمہارا ہوں اور ہمیشہ تمہارا ہی رہوں گا۔۔۔میں نے بھی تم سے محبت کی ہے،،، تمہیں چاہا ہے،،، تم جانتی ہو تمہارے بنا میں نے یہ زندگی کیسے گزاری ہے،،، میں روز مرتا تھا،، روز جیتا تھا،، بہت رویا،،، بہت تڑپا ہوں پر میں نے کسی کو تکلیف نہیں دی،،، میں نے سب سے چھپ کر تمہارے اس چھوٹے سے گھر میں پناہ لی۔۔۔تمہاری یہ خواہش میرے ساتھ رہنے والی ضرور پوری ہوگی پر ایسے نہیں،،، کسی کو نقصان پہنچا کر نہیں۔۔۔۔ بہرام نے شہوار کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی
پھر کیسے؟؟؟؟ اس نے بے اختیار پوچھا،، بہرام نے نگاہ اس کی چوڑیوں پر ڈالی وہ کچھ سمجھتے ہوئے سر نفی میں ہلانے لگی
نہیں بہرام۔۔۔ایسا مت کریں۔۔۔ بہرام کی گرفت اس کے بازو پر مضبوط ہو گئی
شہوار۔۔۔میں تمہارا ہی ہوں۔۔۔تم مجھ پر آخری بار بھروسہ کر سکتی ہو۔۔۔۔ پانی سے بھری بھوری آنکھوں نے بارش برساتی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
بہرام۔۔۔
شہوار۔۔۔تم مجھ پر بھروسہ کرتی ہو یا نہیں؟؟؟؟ بہرام نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا،، خیام کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا،،،، وہ اپنا درد بھول چکا تھا اسے یہ سوچ کر بہت دکھ ہو رہا تھا کہ آج پھر بہرام اور شہوار مل نہیں سکیں گے،،،،، شہوار نے ہاں میں سر ہلایا تو بہرام اس کے ہاتھ سے چوڑیاں اتارنے لگا،،، ساتھ وہ آخری بار پہنائی جانے والی چوڑیوں والا منظر بھی دونوں کی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا وہ دونوں بے بس تھے،،، بہرام بے بسی سے اپنی پہنائی ہوئی چوڑیاں اتار رہا تھا اور وہ بے بسی سے کھڑی آنسو بہا رہی تھی،،، چوڑیاں اتر کر زمین سے ٹکراتی ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہی تھیں،،، آخری دو چوڑیوں پر بہرام نے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور زخمی سا مسکرا دیا
تم فکر مت کرو،،، اب کی بار ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔۔۔۔ اس نے کہتے ہی وہ دو چوڑیاں بھی اتار دیں یکدم وہاں شہوار کی جگہ شفق آ گئی جو چکرا کر گرنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے خیام کے زخمی بازؤں نے اسے فوراً سنبھالا تھا
شفق۔۔۔شفق۔۔۔۔ وہ اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا،،، بہرام ایک بار پھر بچوں کی طرح رو رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھا اور زمین پر جا گرا اس نے سچ کہا تھا انہیں اس بار کوئی جدا نہیں کر سکتا تھا وہ دونوں ہمیشہ کے لیے مل چکے تھے
خیام نے ایک نظر پورے گھر کو دیکھا،،، جہاں وہ چاروں زمین پر پڑے ہوئے تھے،،، پھر ایک نگاہ اپنے حصار میں موجود شفق پر ڈالی اور اپنی آنکھیں بند کرلیں
•••••••••••

شافی۔۔۔۔شااافی۔۔۔۔ وہ اسے پکارتا کچن میں آیا جہاں وہ کھڑی کچھ بنا رہی تھی
جی بولیں۔۔۔۔ اس نے مڑتے ہوئے کہا،،، بلیو فراک،،، بلیو چوڑیاں پہنے،، اپنے سنہری بالوں کو جوڑے میں قید کیے وہ کافی دلکش لگ رہی تھی
کیا کر رہی ہو؟؟؟ وہ ٹائی کی نوڈ ڈھیلی کرتا اسے بغور دیکھتا ہوا بولا

میں اپنے ہسبنڈ کے لیے چائے بنا رہی ہوں۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا
اچھاااا۔۔۔۔میرے لیے بھی بنا دو ایک کپ پلیزززز۔۔۔ وہ وہاں سینے پر ہاتھ باندھے فرصت سے کھڑا ہو گیا
خیام۔۔۔۔آپ پہلے ہی لیٹ ہیں۔۔۔جائیں جاکر جلدی سے ریڈی ہو جائیں۔۔۔۔ وہ جھنجھلاتے ہوئے بولی
اچھا چلا جاتا ہوں لیکن وہ چااااائے۔۔۔۔
خیااااااام۔۔۔۔ اس نے اسے آنکھیں دکھائیں
اچھا ٹھیک ہے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ وہ مڑا اور تیزی سے سیڑھیاں عبور کرنے لگا جبکہ وہ چائے کپ میں نکالنے لگی

شفق۔۔۔شفق۔۔۔۔۔ وہ چولہا ابھی بند ہی کر رہی تھی کہ ایک بار پھر اسے پکارا گیا
جی آ رہی ہوں۔۔۔ اس نے بلند آواز میں کہا اور کپ اٹھاتی سیڑھیاں چڑھنے لگی
کیاااا ہوااا؟؟؟ وہ اندر آئی اور کپ میز پر رکھا
شہوار کہاں ہے؟؟؟؟؟ خیام نے ابرو اچکائی
وہ بہرام کے پاس ہوگی۔۔۔آپ جانتے تو ہیں وہ مجھ سے زیادہ اس کے پاس ہی رہتی ہے۔۔۔ابھی بھی اسی کے پاس ہوگی۔۔۔۔ شفق اطمینان سے بولی
اچھاااااا۔۔۔۔ وہ کہتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا
پررر۔۔۔آپ چینج تو کر لیں۔۔۔۔ وہ اس کی سنے بغیر وہاں سے نکل چکا تھا
•••••••••

سفید،،، گلابی رنگت،،، بھوری آنکھوں کے ساتھ چھ ماہ کی درشہوار بیڈ پر پڑی ہوئی تھی،،، ساتھ میں بیٹھا چار سالہ بھوری آنکھوں والا بہرام اس کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ اس کو آج سکول میں گزرے اپنے دن کے بارے میں بھی بتا رہا تھا

کہاں ہے میری بیٹی؟؟؟؟ کمرے میں داخل ہوتا خیام بلند آواز میں بولا
ماموں۔۔۔۔اسے۔۔پلیز۔۔۔میرے پاس رہنے دیں۔۔۔ وہ معصومیت سے بولا،،،، خیام اب اس کے مقابل کھڑا تھا
کیوں بہرام صاحب؟؟؟ پورا دن تو یہ تم لوگوں کے پاس ہی ہوتی ہے۔۔۔تھوڑا ٹائم اپنے بابا کے ساتھ بھی گزارنے دیا کرو اسے۔۔۔۔ خیام نے شہوار کو بیڈ سے اٹھایا،،، بہرام بھی فوراً کھڑا ہوا
ماااموووں۔۔۔۔۔ وہ اپنی آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے بولا
نوووو ماموووں۔۔۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی شہوار پر نگاہ ڈالی اور مسکرا دیا
مامااااا۔۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوتی رباب کی طرف بھاگا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا
مامااا۔۔۔دیکھیں ناااا۔۔۔۔ماموں نے۔۔۔۔شہوار کو مجھ سے چھین لیا۔۔۔ بہرام منہ پھلاتے ہوئے بولا
بہراام۔۔۔۔وہ ماموں کی بیٹی بھی تو ہے ناااا۔۔۔سارا دن تو وہ آپ کے پاس رہتی ہے ابھی وہ تھوڑا وقت اپنے بابا کے ساتھ رہے گی،،، پھر واپس آپ کے پاس آ جائے گی۔۔۔ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی
نوووووو۔۔۔وہ رونے لگے گی اور پھر وہ جلدی چپ بھی نہیں ہوتی اور سارا دن نہیں سکول سے آنے کے بعد۔۔۔۔ وہ اس سے الگ ہو کر ناراض سا بولا،،، جس پر خیام اور رباب دونوں ہی ہنس دیے
اچھا۔۔اب آپ چینج کر لو،،، بابا انتظار کر رہے ہیں،،، سالار کی برتھ ڈے ہے نااا۔۔۔ اس نے سر زور سے ہاں میں ہلایا
چلو۔۔۔اب میں بھی کر لیتا ہوں چینج،،، کافی ٹائم ہوگیا ہے اور تمہیں اب یہ نہیں ملے گی کل سے پہلے۔۔۔ خیام شہوار کی طرف اشارہ کرکے بہرام سے مخاطب ہوا اور کمرے سے باہر نکل گیا
ماما۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا
•••••••••••

اذان چلا گیا؟؟؟؟؟ کمرے میں آتے ہی اس نے پوچھا
ہاں۔۔۔وہ صبح ہی آنٹی،،، انکل کے ساتھ چلا گیا تھا،،، اس کا دل تو لاہور ہی لگتا ہے۔۔۔۔۔
اووورررر میرا بھی۔۔۔۔ وہ بے ساختہ بولا،،، وارڈراب سے کچھ نکالتی شفق نے چہرہ وارڈراب سے نکال کر ابرو اچکائی
میرا مطلب لگا تھا۔۔۔لگا تھا نااااا۔۔۔۔ جلدی سے وضاحت پیش کی گئی،،،، شہوار کو احتیاط سے بیڈ پر لٹا کر اپنے کپڑے اٹھاتا وہ چینجنگ روم میں گھس گیا
•••••••••••

کوئی ہے کیا گھر میں؟؟؟؟ مشال لاؤنج کے وسط میں کھڑی تھی
مشی۔۔۔کیا کر رہی ہو؟؟؟؟ پہلاج نے اسے ٹوکا
پہلاج میں تو بس پوچھ رہی ہوں،،، گھر میں کوئی ہے بھی یا ایسے ہی گھر کے دروازے کھلے ہوئے چھوڑ دیے ہیں۔۔۔۔ وہ منہ بسورتے ہوئے بولی
مامااااا۔۔۔۔ بھوری آنکھوں والا بچہ روتا ہوا بولا
ہریرہ۔۔۔۔ مشال نے سبز آنکھوں والے بچے کو آنکھیں دکھائیں،،، جو صوفہ پر آرام سے بیٹھا چاکلیٹ کھا کم رہا تھا اور چہرہ زیادہ خراب کر رہا تھا
کیا کروں میں تمہارا؟؟؟؟ بھائی کی چاکلیٹ تھی وہ۔۔۔ مشال جھنجھلا سی گئی
دونوں ٹونز لگتے نہیں ہو،،، بس شکلیں ہی سیم ہیں حرکتیں بالکل بھی سیم نہیں۔۔۔ایک اتنا سیدھا اور دوسرا اتنا ہی ٹیڑھا۔۔۔ پہلاج یہ ہریرہ نا تم پر ہے اور حذیفہ تو بالکل میری کاپی ہے۔۔۔۔ مشال کی بات پر وہ اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا،،،، پچھلے تین سال سے دن میں ہزار دفعہ وہ یہ جملہ سنتا آ رہا تھا،،، اب تک اسے یہ فقرہ حفظ ہو چکا تھا مگر وہ اس بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتا تھا اس لیے خاموشی ہی بہتر تھی
مشی۔۔۔تم کب آئیں؟؟؟؟ نیچے آتی شفق اسے دیکھ کر بولی
اٹھائیس سال پہلے۔۔۔۔ وہ بے ساختہ بولی
مشی۔۔۔۔ پہلاج نے اسے گھورا
بس ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آئے تھے۔۔۔ پہلاج مسکراتے ہوئے بولا
اچھا۔۔۔ابھی تک کھڑے کیوں ہیں۔۔۔بیٹھیں ناااا۔۔۔۔
مجھے تو لگا تھا گھر میں کوئی نہیں ہے اس لیے،،، قسم سے اگر تم نہ آتی تو ہم نے چلے جانا تھا۔۔۔بھئی میرا بھانجا کہاں ہے؟؟؟؟ اتنی آوازیں دیں کوئی آیا ہی نہیں،،، اگر اذان ہوتا تو سب سے پہلے آتا ویلکم کرنے۔۔۔ہے کہاں وہ؟؟؟؟؟ مشال نے اردگرد نظر دوڑائی
وہ تو لاہور صبح ہی چلا گیا تھا
اچھا اور شہوار۔۔۔۔
وہ سو گئی ہے۔۔۔۔

ہیلو۔۔۔ایوری ون۔۔۔۔۔ خیام نیچے آتے ہوئے بولا
آگئے تم لوگ۔۔۔۔ صارم بھی ایک سبز آنکھوں والی بچی کو اٹھائے ان کی طرف آیا
تم نے تیار نہیں ہونااا؟؟؟؟ مشال نے شفق سے پوچھا،، صارم،،، پہلاج اور خیام اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے تھے
ہاں۔۔۔ابھی ہو جاتی ہوں۔۔۔مجھے کون سی دیر لگتی ہے۔۔۔ وہ اٹھتے ہوئے بولی
لو شفق۔۔۔۔شہوار اٹھ گئی۔۔۔ رباب روتی ہوئی شہوار کو پکڑے نیچے آ رہی تھی،،، بہرام بھی خوش خوش سا اس کے پیچھے آ رہا تھا،،، شفق نے خیام کو دیکھا جو باتوں میں مگن تھا
مماانی۔۔۔کین آئی؟؟؟؟ بہرام دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجاتے ہوئے بولا تو شفق نے خوشدلی سے سر ہاں میں ہلا دیا
ییییییییے۔۔۔۔ بہرام نے خوشی سے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیے،،، رباب نے شہوار کو صوفہ پر لیٹا دیا
ماما۔۔۔ہریرہ۔۔۔مجھے زویا سے کھیلنے نہیں دے رہا۔۔۔۔ حذیفہ معصومیت سے بولا،،،، اس کا جڑواں ہم شکل بھائی زمین پر بیٹھی زویا کے ساتھ کھیل رہا تھا
ہریرہ۔۔۔اسے بھی ساتھ کھیلاؤ۔۔۔
ممی۔۔۔۔
ہریرہ۔۔۔۔۔۔ مشال نے اسے غصے سے دیکھا تو وہ تھوڑا راضی ہو گیا
شفق۔۔۔میں بھی آتی ہوں تمہارے ساتھ،،، اب یہ لوگ مل گئے ہیں ناااا،،، ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا اور نہ ہی کسی کو کسی بچے کی فکر ہوگی۔۔۔نا جانے کیا باتیں کرتے رہتے ہیں۔۔۔ مشال جل کر ان تینوں کو دیکھ کر بولی جن کے قہقہہ پورے لاؤنج میں گونج رہے تھے،،،، زویا،،، ہریرہ،،، حذیفہ آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے،،، وہ تینوں ہم عمر بھی تھے جبکہ بہرام زمین پر گٹھنوں کے بل بیٹھا صوفہ پر لیٹی روتی ہوئی شہوار کو چپ کروانے میں مشغول تھا،،، وہ تینوں ان سب کو لاؤنج میں ایسے ہی چھوڑ کر اوپر جانے لگیں
••••••••••

بلیک،،، گولڈن تھیم میں وہ بلیک میکسی زیب تن کیے خیام کے برابر ہی بیٹھی ہوئی تھی،،،، ایک بڑی سی میز پر اس وقت چھ جوڑے اپنے چھوٹے،،، چلبلے،،، معصوم اور کیوٹ سے بچوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے

وقت کا پتا ہی نہیں چلا،،، کب کیسے،، کتنی جلدی گزر گیا ناااا۔۔۔۔ زین سنجیدہ سا گویا ہوا،،، اس کی آنکھوں پر عینک لگی ہوئی تھی
ہممممم۔۔۔کتنی جلدی پانچ سال گزر گئے۔۔۔۔ زین کے مقابل بیٹھی نور فوراً بولی
آج ہماری فیملی کمپلیٹ ہے۔۔۔اگر ہانیہ وہ بے وقوفانہ حرکت نہ کرتی تو آج وہ بھی یہاں ہمارے ساتھ ہوتی۔۔۔۔ رباب نے سرد آہ بھری
ہممممم۔۔۔۔ سب اس کی بات سے متفق تھے
اور تمہارا کیا پلان ہے؟؟؟؟ نور نے ساتھ بیٹھی نایاب سے پوچھا
کس بارے میں؟؟؟؟ نایاب نا سمجھی سے بولی
بھئی۔۔۔تھرڈ اینیورسری کا۔۔۔دو ہفتے بعد۔۔۔۔ نور نے اسے یاد دلایا
اوووو اچھااااا۔۔۔ہاں۔۔ہم نے ابھی کچھ ڈیسائیڈ ہی نہیں کیا۔۔۔ویسے تم فائدے میں رہی ہو۔۔۔چار سالوں میں تین بار خود کی اینیورسری سیلیبریٹ کی اور اب سالار کی برتھ ڈے۔۔۔
ہمممم۔۔۔سیم ڈیٹ کا یہ ہی تو فائدہ ہے،،،، ویسے اچھا ہی ہے بجٹ آؤٹ نہیں ہوتا۔۔۔ نور مسکراتے ہوئے بولی
ویسے زندگی میں پہلی بار مشی کے کچھ اندازے بالکل ٹھیک ثابت ہوئے تھے۔۔۔ نور پر سوچ انداز میں بولی
ہاں یاااار۔۔۔۔میں نے خیام سے زیادہ جلد باز بندہ آج تک نہیں دیکھا،،، مطلب کہ شور کسی اور کی شادی کا تھا اور خیام صاحب سب سے آخر میں آئے اور سب سے پہلے اسے لے بھی گئے۔۔۔ نایاب نے فوراً اس کی تائید کی
کیااا باتیں کر رہی ہو تم لوگ؟؟؟؟ مشال بھی ان کی طرف متوجہ ہوئی
یہی کہ تم واقعی بہت جینئیس ہو،،، ہم ایسے ہی تمہیں انڈر اسٹیمیٹ کرتے تھے۔۔۔ نور نے جواب دیا
مطلب؟؟؟؟ مشال نے مشکوک نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھا
مطلب یہ کہ تم نے کہا تھا ناااا کہ تمہاری شادی سے پہلے ش

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Lahore