Shirk___Hacker
شیعہ کے لیے ایک جھٹکے دار تحریر ملاحظہ 👇🏾👇🏾
**********************
شیعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے فقط سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ہی کیوں محبت کرتے ہیں؟
کیا آپ نے خود سے کھبی یہ سوال کیا ہے؟
کیا کھبی آپکو شیعوں کے اس فعل پہ تعجب ہوا؟
اس بارے میں ایسی معلومات آپ کے سامنے رکھ رہے کہ آپ دھنگ رہ جائیں گے، مسلم دنیا کیلئے یہ کسی جھٹکے سے کم نہیں، اور بالخصوص عرب کے شیعوں کیلئے حیران کن معلومات۔
سوال کا جواب دینے سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اولاد کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کے نام۔
🔴حسن بن علي بن أبي طالب
🔴حسين بن علي بن أبي طالب
🔴محسن بن علي بن أبي طالب
🔴عباس بن علي بن أبي طالب
🔴هلال بن علي بن أبي طالب
🔴عبدالله بن علي بن أبي طالب
🔴جعفر بن علي بن أبي طالب
🔴عثمان بن علي بن أبي طالب
🔴عبيدالله بن علي بن أبي طالب
🔴أبو بكر بن علي بن أبي طالب
🔴عمر بن علي بن أبي طالب
کیا آپ نے شیعہ کتب میں (یا حسن) لکھا دیکھا ہے؟ یا (یا محسن) (یا عباس) ؟ ہرگز نہیں۔!!!
کیوں (یا حسین) ہی پکارا جاتا ہے؟ اور کیوں حسین سے ہی مدد مانگی جاتی ہے؟
جبکہ یہ بھی علم میں ہے کہ حسن اور حسین دونوں بھائی ہیں ان کی ماں فاطمہ زھرا ہے اور انکے والد علی بن ابی طالب ہیں اور سب اہل بیت میں سے ہیں۔
اے عرب والو کیا یہ سوال کھبی اپنے آپ سے کیا ہے؟ اور اے عرب کی شیعو کیا یہ سوال اپنی ذات سے کھبی کیا ہے؟
اس سے پہلے اس سوال کا جواب دوں، پہلے چونکا دینے والی معلومات بھی لے لو۔
کیا تم جانتے ہو شیعوں کے ۱۲ امام صرف حسین کی نسل سے ہیں؟
اور شیعہ حسین رضی اللہ عنہ کا احترام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی کی بقیہ اولاد سے زیادہ کرتے ہیں کیونکہ حسین کی شادی فارسی ایرانی عورت سے ہوئی جو ایران کے بادشاہ (یزدگرد) کی بیٹی تھی جس کا نام شہربانو تھا، مسلمانوں نے فارسی ریاست کے زوال کے بعد کسری کے بادشاہ کو قتل کر دیا اور اسکی بیٹیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔
تو پھر خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے کسری کی بیٹیوں میں ایک بیٹی (شہربانو) حسین کو دے دی اور حسین نے اس سے شادی کر لی اور یہی وہ سبب ہے جسکی بنیاد پہ شیعہ حسین اور ائمہ سے زیادہ محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ سارے شہربانو کی اولاد میں سے ہیں اور اہل فارس ہیں اور شیعوں کا یہ کہنا کہ غلط ہے کہ وہ اہل بیت سے محبت عرب کی بنیاد پہ کرتے ہیں، نہیں (بلکہ یہاں معاملہ اہل فارس کا ہے)
اور صحیح بات یہ ہے کہ وہ اس اہل بیت سے محبت کرتے ہیں جو کسری کی اولاد میں سے اور ان ۱۲ ائمہ سے محبت کرتے ہیں جو سب کے سب فارسی عورت کی نسل سے ہیں اور وہ اس حسین سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے دادا ہیں، نہ کہ حسین کے دادا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
امام ابن کثیر نے البدائیہ جلد ۹ سن ٦١ ہجری میں سیدنا حسین کے ترجمہ میں کہا ابن خلقان نے کہا ام سلمہ ایران کے بادشاہ (یزدگرد) کی بیٹی تھی جو فارس کا آخری بادشاہ تھا زمخشری نے کہا (یزدگرد) کی تین بیٹیاں تھیں (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قیدی بنائی گئیں)
جن میں سے ایک عبداللہ بن عمر کو ملیں جس سے بیٹا پیدا ہوا جسکا نام سالم تھا۔
دوسری محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ملی جس سے قاسم بیٹا پیدا ہوا۔
تیسری حسین بن علی ضی اللہ عنہ کو ملی جس سے زین العابدین پیدا ہوئے۔ اور یہ سب آپس میں خالہ زاد ٹھرے۔
اور شیعہ جن ائمہ کی تکریم کرتے ہیں اور جنھیں انبیاء سے اعلیٰ درجہ دیتے ہیں اور انہیں معصوم جانتے ہیں یہ سب صرف حسین کی اس بیوی سے ہیں جو فارسیہ تھیں۔
اور شیعہ حسین اور ۱۲ ائمہ سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کیونکہ ان میں فارسی خون و پسینہ شامل ہے اور وہ کسری کے مالک ہیں۔
(اٹھو مسلمانو) لوگوں پر یہ اجاگر کرو کہ شعیہ اہلبیت کسری سے محبت کرتے ہیں نہ کہ اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ سلم سے۔
رمضان کا پہلا عشرہ... اور ہماری مساجد 👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤
دوسرا عشرہ اور مساجد. .. 👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤
تیسرا عشرہ اور مساجد.. 👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤
شب قدر.... 👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👥👥👥
عید الفطر... 👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👤👥👥 عیدالفطر ظہر كي نماز..
👤👤👤 انا للہ وانا الیہ راجعون😒 🍃🍃
رسول اللہﷺکا سایہ مبارک تھا
اور سایہ ہونا آپ ﷺ کے مرتبے کو کم نہیں کرتا
سیدالانیباء محمدؐ رسول اللہ ﷺ اللہ کے برگزیدہ اور انسان تھے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا سلسلہ انسانیت سے پیدا کیا تھا اور انسان ہونے کے اعتبار سے عیاں ہے کہ انسان کا سایہ ہوتا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر فرمایا ہے کہ
اور جتنی مخلوقات آسمانوں میں اور زمین میں ہیں خوشی اور نا خوشی سے اللہ کے سامنے سجدہ کرتی ہیں اور اُن کے سائے بھی صبح وشام سجدہ کرتے ہیں(الرعد15)
ایک اور مقام پر فرمایا
کیا انھوں نے اللہ کی مخلوقات میں سے کسی نے نہیں دیکھا کہ اس کے سائے دائیں اور بائیں لوتٹے ہیں یعنی اللہ کے آگے ہوکر سرججود ہوتے ہیں(النحل48)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین وآسمان میں اللہ نے جتنی مخلوق پیدا کی ہے اور سائے بھی اور یہ رسول اللہ ﷺ بھی تو اللہ کی مخلوق ہیں ۔لہذا آپ ﷺ کا بھی سایہ مبارک تھا آپ ﷺ کے سائے کے متعلق کئی احادیث موجود ہیں جیسا کہ
سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں ایک رات نبی کریم ﷺنے ہمیں نماز پڑھائی اور بالکل نماز کی حالت میں اپنا ہاتھ اچانک آگے بڑھایا مگر پھر جلدی سے پیھچے ہٹالیا.ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آج آپ نے خلافِ معمول نماز میں کوئی نئے عمل کا اضافہ کیا ہے آپ ﷺنے فرمایا نہیں بات یہ ہے کہ میرے سامنے ابھی ابھی جنت پیش کی گئی میں نے اس میں بہترین پھل دیکھے اور جی میں آیا کہ اس میں سے کچھ اُچک لو مگر فورا حکم ملا پیھچے ہٹ جاؤ میں پیھچے ہٹ گیا پھر مجھ پر جہنم پیش کی گئی یہاں تک کہ میں نے اس کی روشنی میں اپنا اور تمھارا سایہ دیکھا.دیکھتے ہی میں نے تمھاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ(متدرک حاکم 457/4)
سیدہ زینب ؓ اور سیدہ صفیہ ؓ ایک سفر میں رسول الله ﷺ کے ساتھ تھیں صفیہ ؓ کے پاس ایک اونٹ تھا اور وہ بیمار ہوگیا جب کہ زینب ؓ کے پاس دو اونٹ تھے رسول اللہ ﷺ نے زینب ؓ سے فرمایا کہ ایک اونٹ صفیہ ؓ کو دے دو تو انھوں نے کہا کہ میں اس یہود کو کیوں دوں؟ رسول اللہ ﷺ اُن سے ناراض ہو گئے تقریباً تین ماہ تک زینب ؓ کے پاس نہ گئے یہاں تک کہ زینب ؓ نے مایوس ہو کر اپنا سامان باندھ لیا.سیدہ زینب ؓ فرماتی ہے کہ اچانک دیکھتی ہوں کہ دوپہر کے وقت نبی ﷺ کا سایہ مبارک آرہا ہے اور پھر نبی کریم ﷺ میرے حجرے میں داخل ہوئے(مسنداحمد132/6 طبقات الکبری127/8)
لہذا قرآن و حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ تھا اور سایہ ہونا آپ ﷺ کے مرتبے کو کم نہیں کرتا
یہ پڑھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ آج کل لوگوں کو حق کی بات قرآن کی آیت اور صیح حدیث کی بات بھی فرقہ واریت لگتی ہے پھر ان کا مقصد یہ ہے کہ بس اندھے گونگے بہرے بن کر رہو.اور جہاں کوئی لگا ہے لگ رہنے دو سانوں کی بس جی کسے دے مذہب نوں نا چھڑو تے اپنے مذہب نوں نا چھوڑ. دو جمع دو چار بھی ٹھیک ہے دو جمع دو پانچ بھی ٹھیک ہے بس جی یہ سب مولا مولویوں کی باتیں ہیں بس آپ اللہ اللہ کیا کرو.اور یہ باتیں پڑھ اور سن کر مجھے وہ بنی اسرائیل کی ایک بستی کا واقعہ یاد آجاتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کو کہا کہ اس کو تباہ برباد کر دو اس پہاڑ کو آسمان پر اُٹھ کر زمین پر التا کر دو تو فرشتہ نے فرمایا کہ اے اللہ اس بستی میں آپ کا ایک بہت نیک بندہ رہتا ہے جو ایک غار میں آپ کی عبادت دن رات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بندے کو پہاڑ کی نوک پر رکھ کر التا دو اس کی پوری بستی اللہ کی نافرمانی کرتی رہی یہ ان کو سمجھنے کی بجائے اپنی عبادت کرتا رہا.میرے دوستو اپنے نظریہ دیکھو کہی ہم بھی اس بندے کی طرح تو نہیں اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور اسرف المخلوقات والا کام نیکی کی طرف بولنے اور برائی سے روکنے والا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Kasur
15/10/2015