The Rising Karak
25/04/2026
گلوں کاروں کے حوالے سے پختون خوا کی سر زمین بڑی زرخیز ہے لیکن پچھلے دو دہائیوں میں کئی خواتین گلوکاروں کو بڑے بے دردی اور سفا ک طریقے سے قتل کر دیا گیا جن کی تفصیل کچھ یوں ہے
گلوکارہ ثنا کو ضلع سوات میں پشتو موسیقاروں کے مشہور مرکز بنڑ میں چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم مقتولہ کا حقیقی بھائی ہے جو ارتکاب جرم کے بعد فرار ہو گیا۔ خیبر پختونخوا پشتو فنکاروں کے لیے کبھی بھی محفوظ جگہ نہیں رہا کیونکہ متعدد خواتین گلوکاروں کو ان کے رشتہ داروں نے قتل کیا ہے۔ 7 مئی 2019 کو مقامی گلوکارہ مینا کو سوات میں قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق سوات کے علاقے بنڑ میں مینا کو اس کے شوہر نے قتل کیا۔پشتو موسیقی کی مشہور گلوکارہ غزالہ جاوید کو اپنے شوہر کے ہاتھوں کھو دیا۔ ایک اور فنکارہ ایمن اُداس کو مبینہ طور پر اس کے بھائیوں نے خاندان کی بے عزتی کے دعووں پر قتل کر دیا تھا۔ گلوکارہ رابعہ تبسم کو زہر دے دیا گیا۔ چارسدہ میں 18 سالہ پشتو گلوکارہ کرشمہ شہزادی کو مبینہ طور پر جعلی انجکشن لگانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ایک اور 18 سالہ اداکارہ بشریٰ کے چہرے پر اس وقت جھلس گئی جب ان پر نوشہرہ میں تیزاب پھینکا گیا۔سٹیج اداکارہ سنبل کو مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گولی مار دی گئی تھی۔پشتو فنکارہ گلناز عرف مسکان کو پشاور کے علاقے بھانہ ماڑی میں گولی مار دی گئی۔ اگست 2018 میں ایک اور پشتو گلوکارہ ریشم خان کو ان کے شوہر نے ضلع نوشہرہ میں بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Esak
Karak
AKASH