Asif Razzak,PSP
As received,
Assalamu Alaikum! I made a web-app for the elderly.
Backstory: my Nani used to be very punctual with her prayers but suddenly she stopped praying. My mom promptly noticed this change and asked her why she wasn’t praying and she said that it’s because she forgets the ayat, or what to say, or even the rakat. So my mom would sit with her and basically pray the whole namaz with her. Now years later my mom asked me to make an app that could assist the elderly with their namaz. So I made this web-app. If you guys know anyone that’s at an age where they’re starting to forget things and you think this could benefit them. Just let them know about it and let me get that sawab.
Thanks,
Sherry
Salah صَلاة A simple webapp to help you with your salah. You just select the number of rakat, press play, and read along with the imam while following the postures.
پاکستان سے سلیکون ویلی کا سفر
A vision of great philanthropist, Hazrat Bashir Farooqi
20/02/2026
ظلمتوں کا زہر، حسد کی کائناتی لہریں اور صبح کا دھماکہ: شر کے خلاف اعلانِ جنگ (سورہ الفلق: جادو، نظرِ بد، نفسیاتی گرہوں اور اندھیروں کے خوف کا لرزہ خیز مطالعہ) - بلال شوکت آزاد
کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی میں محسوس کیا ہے کہ آپ ایک ایسے دشمن سے لڑ رہے ہیں جسے آپ دیکھ نہیں سکتے؟
کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہو, صحت بھی ہو، پیسہ بھی، خاندان بھی, مگر اچانک ایک نامعلوم اداسی، ایک انجانا خوف، یا ایک ایسی رکاوٹ آ کھڑی ہو جس کی کوئی منطقی یا طبی وجہ سمجھ میں نہ آئے؟
آپ ڈاکٹرز کے پاس جاتے ہیں، ٹیسٹ کلیئر آتے ہیں؛ آپ بزنس پلان بناتے ہیں، مگر ہر کوشش ناکام ہو جاتی ہے۔
آج کا جدید انسان سی سی ٹی وی کیمروں، سکیورٹی گارڈز، فائر والز اور پاسورڈز کے حصار میں رہتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ تاریخ کا سب سے ”غیر محفوظ“ انسان ہے۔
کیوں؟
کیونکہ اس کا مقابلہ صرف نظر آنے والے چوروں یا ڈکیتوں سے نہیں، بلکہ ان ”ان دیکھی قوتوں“ سے ہے جو دیواروں کے پار سے وار کرتی ہیں۔
یہ قوتیں حسد کی لہریں ہیں، جادو کے اثرات ہیں، رات کی تاریکیوں میں پھیلنے والا شر ہے، اور انسانی نفسیات میں لگی ہوئی وہ گرہیں ہیں جو کھلنے کا نام نہیں لیتیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ایک مختصر، مگر معانی کے اعتبار سے سمندر جیسی سورت، ”سورہ الفلق“ میں ہمیں ان تمام نظر نہ آنے والے دشمنوں کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ ایک ایسا ”حفاظتی گنبد“ (Security Dome) عطا کیا ہے جس کے اندر داخل ہونے کے بعد کائنات کی کوئی منفی طاقت آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔
یہ سورت صرف چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ اللہ کی پناہ میں جانے کا وہ ”سیکرٹ کوڈ“ ہے جسے اگر شعور کے ساتھ ڈیکوڈ (Decode) کر لیا جائے تو انسان خوف کے پنجرے سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔
سورت کا آغاز ایک ایسے دھماکہ خیز اور پُرجلال لفظ سے ہوتا ہے جو مایوسی کے گھپ اندھیرے میں امید کی سب سے بڑی دلیل ہے:
”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“
(کہہ دیجیے! میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی)۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ (اور ان کے واسطے سے ہر انسان) کو حکم دیا کہ
”کہہ دیجیے!“
یعنی خاموش مت رہیے، اپنی زبان سے اعلان کیجیے کہ میں کمزور ہوں اور مجھے سہارے کی ضرورت ہے۔
لیکن یہاں اللہ نے اپنی صفت ”رَبِّ الْفَلَقِ“ کیوں بیان کی؟
ذرا لفظ ”الْفَلَقِ“ کی لغوی اور کائناتی گہرائی میں اتریں۔
عربی لغت میں ”فلق“ کا مطلب صرف ”صبح“ نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مادہ (Root) ہے ”پھاڑ کر نکالنا“ (To Split, Cleave or Tear asunder)۔
یہ وہ عمل ہے جب رات کی شدید اور خوفناک سیاہی کا سینہ چیر کر روشنی کی ایک باریک کرن نمودار ہوتی ہے۔
یہ وہ عمل ہے جب ایک سخت اور مردہ بیج کا سینہ پھٹتا ہے اور اس میں سے زندگی کی ہری بھری کونپل باہر آتی ہے۔
یہ وہ عمل ہے جب ماں کے رحم کا اندھیرا پھٹتا ہے اور ایک نئی زندگی دنیا میں آتی ہے۔
اللہ نے یہاں اس صفت کا انتخاب کر کے خوفزدہ انسان کو پہلا اور سب سے بڑا پیغام دیا ہے کہ
اے وہ شخص جو مصیبتوں کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے! اے وہ انسان جسے لگتا ہے کہ وہ کسی بند گلی (Dead End) میں کھڑا ہے! جس طرح میں (اللہ) کالی رات کا سینہ چیر کر دن نکال سکتا ہوں، جس طرح میں پتھر کو پھاڑ کر چشمہ نکال سکتا ہوں، اسی طرح میں تمہاری مشکلات، تمہاری بیماری، تمہارے اوپر کیے گئے جادو اور تمہارے خوف کے اندھیروں کو ”پھاڑ کر“ اس میں سے ”عافیت“ کا سویرا نکالنے پر قادر ہوں۔
جب انسان ڈپریشن یا جادو کے اثر میں ہوتا ہے تو اسے چاروں طرف صرف ”اندھیرا“ نظر آتا ہے۔ ایسے میں ”رب الفلق“ کا نام پکارنا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ
”یا اللہ! تو جمود کو توڑنے والا ہے، تو رکاوٹوں کو چیرنے والا ہے، میری اس مصیبت کی کالی رات کو بھی پھاڑ دے۔“
یہ امید کا وہ پہلا دروازہ ہے جہاں سے شیطان کی مایوسی شکست کھاتی ہے۔
اس زبردست تمہید کے بعد، اللہ تعالیٰ ہمیں ان دشمنوں کی ”لسٹ“ دیتا ہے جن سے ہمیں ہوشیار رہنا ہے اور پناہ مانگنی ہے۔
پہلا دشمن تو بہت وسیع اور ہمہ گیر ہے:
”مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ“
(ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی)۔
یہاں اللہ نے کسی خاص دشمن کا نام نہیں لیا۔ یہ نہیں کہا کہ ”شیطان کے شر سے“ یا ”کافر کے شر سے“۔
بلکہ فرمایا:
”مَا خَلَقَ“
(جو بھی مخلوق ہے)۔
اس میں کائنات کا ذرہ ذرہ شامل ہے۔ اس میں آپ کا اپنا نفس بھی شامل ہے، آپ کے دوست بھی، آپ کی بیوی بچے بھی، سانپ بچھو بھی، ہوائیں بھی، اور وہ وائرس و بیکٹیریا بھی جو مائیکروسکوپ سے بھی نظر نہیں آتے۔
اللہ کا نظام یہ ہے کہ اس نے ہر چیز میں ”خیر“ بھی رکھی ہے اور ”شر“ کی صلاحیت بھی۔
آگ کھانا پکاتی ہے (یہ خیر ہے)، مگر وہی آگ گھر جلا کر خاکستر کر سکتی ہے (یہ شر ہے)۔ پانی زندگی دیتا ہے، مگر سیلاب بن کر ڈبو بھی سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی فائدہ دیتی ہے، مگر یہی ٹیکنالوجی فحاشی اور تباہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
یہ آیت دراصل ایک ”جنرل ویکسین“ (General Vaccine) ہے جو ہمیں کائنات کے ہر ذرے کے ممکنہ نقصان سے اللہ کی پناہ میں لے جاتی ہے۔
یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ
”یا اللہ! میرا علم محدود ہے، میں نہیں جانتا کہ کس چیز میں، کس انسان میں، یا کس کھانے میں میرے لیے نقصان چھپا ہے، تو مجھے اپنی مخلوق کے ہر شر سے اپنے حفظ و امان میں لے لے۔“
یہ آیت انسان کو وہم (Paranoia) سے نکال کر اللہ کے توکل میں لے آتی ہے۔
پھر اس لسٹ میں تین ایسے ”خطرناک ترین“ اور ”مخصوص دشمنوں“ کا ذکر آتا ہے جو انسان کو تباہی کے دہانے پر لے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلا ہے:
”وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ“
(اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے)۔
رات کو کیوں خاص کیا گیا؟
کیا دن میں شر نہیں ہوتا؟
جدید سائنس، کریمنالوجی (Criminology) اور انسانی نفسیات تینوں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ”اندھیرا“ جرائم اور ڈپریشن کا سب سے بڑا ساتھی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں چوری، ڈکیتی، قتل اور عصمت دری کے زیادہ تر واقعات رات کے پہر ہوتے ہیں۔
درندے، زہریلے جانور اور موذی کیڑے رات کو اپنے بلوں سے نکلتے ہیں۔
جادوگر اور سفلی عمل کرنے والے اپنے ناپاک عملیات رات کے گھپ اندھیرے میں کرتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، انسانی ذہن پر غم، وسوسے، تنہائی اور مایوسی کے حملے رات کی تنہائی میں شدید ترین ہوتے ہیں۔
دن کی روشنی میں انسان کام کاج میں مصروف رہتا ہے، لوگوں میں گھرا رہتا ہے، مگر جب رات کا سناٹا (غاسق) چھا جاتا ہے (وقب)، تو انسان کا لاشعور ”غیر محفوظ“ (Vulnerable) ہو جاتا ہے۔
شیاطین اور جنات بھی اسی وقت سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ اہم ترین راز سکھا رہا ہے کہ رات کی تاریکی میں چھپے ہوئے جسمانی اور روحانی خطرات سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس رب کی پناہ لی جائے جو ”دن“ کا مالک ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جیسے ہی سورج غروب ہو، ہمیں اپنا ”روحانی حفاظتی سسٹم“ (اذکار اور دعاؤں کے ذریعے) آن کر لینا چاہیے۔
دوسرا مخصوص اور مہلک دشمن وہ ہے جس نے آج ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے اور گھروں کو اجاڑ دیا ہے:
”وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ“
(اور گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے)۔
یہ آیت بیک وقت جادو (Magic) اور نفسیاتی ہیرا پھیری (Psychological Manipulation) دونوں کا احاطہ کرتی ہے۔
روایتی اور تفسیری اعتبار سے یہ ان جادوگروں اور ساحراؤں کی طرف اشارہ ہے جو بالوں یا دھاگوں میں گرہیں لگا کر اور ان پر شیطانی اور کفریہ کلمات پھونک کر لوگوں کی زندگیوں کو ”باندھ“ دیتے ہیں۔
یہ جادو ایک حقیقت ہے اور اس کا اثر انسانی جسم اور ذہن پر ہوتا ہے (جیسا کہ خود نبی کریم ﷺ پر جادو کا اثر ہوا اور یہ سورتیں نازل ہوئیں)۔
جادوگر دراصل انرجی کو مینیپولیٹ (Manipulate) کر کے انسان کے اعصاب کو جکڑ لیتا ہے۔
لیکن اگر ہم اس کے وسیع تر اور جدید نفسیاتی مفہوم کو دیکھیں، تو ”عقد“ (گرہیں) سے مراد رشتوں کی مضبوط گرہیں اور انسان کے عزم و ہمت کی گرہیں بھی ہیں۔
آج کے دور میں کچھ ایسے ”فسادی لوگ“ (چغل خور، سازشی رشتے دار، زہریلے دوست) ہیں جو میاں بیوی، بھائی بھائی اور گہرے دوستوں کے مضبوط تعلقات میں اپنی زہریلی باتوں کی ”پھونکیں“ مار مار کر گرہیں لگا دیتے ہیں۔ وہ محبت کو نفرت میں، اور اعتماد کو شک میں بدل دیتے ہیں۔ اسے آج کی زبان میں ”Emotional Blackmail“ یا ”Gaslighting“ کہا جا سکتا ہے۔
اسی طرح شیاطین اور وسوسے ڈالنے والے آپ کے ذہن میں ناکامی کی پھونکیں مار کر آپ کے ”ارادے“ (Will Power) کو گرہ لگا دیتے ہیں، آپ کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں اور فیصلے نہیں کر پاتے۔
یہ آیت ہمیں ہر اس جادوگر، ہر اس سازشی اور ہر اس نفسیاتی حملہ آور سے اللہ کی پناہ مانگنے کا درس دیتی ہے جو ہمارے معاملات کو الجھانا چاہتا ہے۔
جب آپ یہ آیت پڑھتے ہیں، تو آپ اللہ سے فریاد کرتے ہیں:
”یا اللہ! یہ لوگ میرے راستے میں، میرے جسم میں اور میرے رشتوں میں گرہیں لگا رہے ہیں، تو ان گرہوں کو کھول دے، کیونکہ تو ہی مشکل کشا اور ’فتاح‘ (کھولنے والا) ہے۔“
اور آخر میں، اس سورت کا کلائمیکس ایک ایسے دشمن کے ذکر پر ہوتا ہے جو سب سے زیادہ خاموش ہے، نظر نہیں آتا، مگر سب سے زیادہ تباہ کن ہے:
”وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ“
(اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے)۔
غور کیجیے!
جادوگر کو نقصان پہنچانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، سامان لانا پڑتا ہے، منتر پڑھنے پڑتے ہیں، مگر حاسد۔۔۔؟
وہ کچھ نہیں کرتا، وہ صرف دور بیٹھ کر ”سوچتا“ ہے اور آپ یہاں تباہ ہو جاتے ہیں۔
جدید کوانٹم فزکس (Quantum Physics) اور بائیو فیلڈ سائنس (Bio-field Science) ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی سوچ (Thoughts) اور جذبات دراصل انرجی کی طاقتور لہریں (Waves) ہیں۔
جب کوئی شخص آپ کی نعمت (حسن، کامیابی، کاروبار، اولاد) کو دیکھ کر اندر ہی اندر جلتا ہے اور دل میں یہ شدید خواہش کرتا ہے کہ
”یہ نعمت اس سے چھن جائے“،
تو اس کی آنکھوں اور دماغ سے ایک انتہائی منفی اور تباہ کن انرجی (Negative Energy) خارج ہوتی ہے۔ جسے عام زبان میں ”نظرِ بد“ (Evil Eye) کہتے ہیں۔ یہ انرجی ایک ”لیزر بیم“ کی طرح ٹارگٹڈ انسان پر حملہ کرتی ہے۔ یہ اس کے اورا (Aura) کو پھاڑ دیتی ہے، اس کی صحت کو گرا دیتی ہے، اور اس کے چلتے ہوئے کاروبار کو روک دیتی ہے۔
حسد وہ آگ ہے جو لکڑیوں کو نہیں، بلکہ انسان کی تقدیر، صلاحیت اور خوشیوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ حاسد کا شر اتنا خطرناک ہے کہ اس سے بچنے کے لیے کوئی تالا، کوئی لوہے کی دیوار، کوئی باڈی گارڈ کام نہیں آتا کیونکہ یہ لہریں دیواروں کے پار آ جاتی ہیں۔
یہاں اللہ نے ایک شرط لگائی:
”إِذَا حَسَدَ“
(جب وہ حسد پر اتر آئے)۔
یعنی جب تک حسد دل میں ہے وہ حاسد کا اپنا نقصان کر رہا ہے، مگر جب وہ حسد کے تحت ”ایکشن“ لیتا ہے یا اپنی نظر گاڑتا ہے، تب وہ خطرناک ہو جاتا ہے۔
اس کا واحد اور حتمی توڑ یہ ہے کہ انسان اس رب کی پناہ میں آ جائے جو تمام انرجیز کا خالق ہے۔
جب آپ ”سورہ الفلق“ پڑھ کر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، تو آپ اپنے گرد ایک ایسا ”روبوٹک شیلڈ“ یا ”انرجی ڈوم“ بنا لیتے ہیں جس سے ٹکرا کر حاسد کی نظر واپس اسی پر پلٹ جاتی ہے (Return to sender)۔ اللہ کی حفاظت کے آگے کسی کی جلن کام نہیں کرتی۔
یہ سورت دراصل ہمیں یہ گہرا شعور دیتی ہے کہ
اے انسان! تو اس کائنات میں اکیلا، نہتا اور کمزور ہے۔ تیرے دشمن بہت طاقتور، بہت مکار اور چھپے ہوئے ہیں۔ تیری عقل، تیری جدید سائنس، تیرا بینک بیلنس اور تیری ٹیکنالوجی تجھے ان ”ان دیکھی بلاؤں“ سے نہیں بچا سکتی۔ تیری حفاظت کا واحد، حتمی اور آزمودہ راستہ یہ ہے کہ تو اپنی ”میں“ کو ختم کر کے، اپنے تکبر کو توڑ کر، خود کو ”رب الفلق“ کے حوالے کر دے۔
یہ سورت مایوسی کے گھپ اندھیرے میں امید کا وہ چراغ ہے جو آندھیوں میں بھی نہیں بجھتا۔
جب آپ یقین کے ساتھ یہ سورت پڑھتے ہیں، تو دراصل آپ کائنات کے سب سے بڑے ”پاور ہاؤس“ سے اپنی تار جوڑ لیتے ہیں، اور پھر دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا جادوگر، کوئی زہریلا حاسد، اور رات کی کوئی بھی تاریک قوت آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
یہ محض الفاظ نہیں، یہ مومن کا وہ ہتھیار ہے جس کے سامنے شیطان اور اس کا لشکر کانپتا ہے۔
#
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
LS-1, Shadman Lane, FL-12 , KDA Scheme 5, Opp West Wind Apartments Block 2, Clifton
Karachi
75500
Opening Hours
| Monday | 11:00 - 19:00 |
| Tuesday | 11:00 - 19:00 |
| Wednesday | 11:00 - 19:00 |
| Thursday | 11:00 - 19:00 |
| Friday | 11:00 - 19:00 |
| Saturday | 11:00 - 19:00 |