Citizens Advisory Service
15/06/2024
#
17/03/2022
زرائع
صائمہ عربین ولاز 300 ایکٹر پر قبضہ، لیز منسوخ، اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خطرہ
کراچی (رپورٹ اسلم شاہ)کراچی کا ایک اور بڑا نام صائمہ بلڈر جعل سازی میں آگے، صائمہ عربین ولاز کی 67 ایکٹر لینڈ کے نام پر 300 ایکٹر اراضی پرقبضہ کرنے کا انکشاف،ہونے والی زمین پولٹری لینڈ نکلی، زمین 3 سال قبل 2018ء منسوخ ہوچکا ہے۔ڈپٹی کمشنر غربی کے اہلکاروں نے تصدیق کردی ہے۔زمین کے الاٹمنٹ میں توسیع کے بغیر منصوبہ میں تمام بنگلوز، سنگل اسٹوری، ڈبل اسٹوری، مکانات، فلیٹس اور تجارتی دکانین فروخت کرچکے ہیں۔ذیشان ذکی، محمود ٹرنک والا، نیاز ٹرنک والا کے ساتھ آصف پارنٹرز ہیں اور لیز منسوخ ہونے پر تمام الاٹیز کو لیز اور سب لیز کے ساتھ ٹرانسفر نہیں کررہے ہیں۔اس ضمن میں ریونیو آٖفس،ڈپٹی کمشنر غربی، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ساتھ دیگر تحقیقاتی اداروں کی آنکھیں و زبانیں بند ہیں۔غیر قانونی منصوبے پر عوام کے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوب جانے کا اندیشہ ہے۔اسٹنٹ ڈائریکٹر پلاننگ لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا حکمنامہ LDA/TP/298بتاریخ یکم ستمبر 2010ء کے دستخط سے جاری ہونے والے لیٹر،پلاننگ اور ریکارڈ پلان کے مطابق آوٹ پلان رقبہ63.499 یعنی 63.20 ایکٹراراضی تھا جس کا سروے نمبر 47/48/49/50 پارٹ، 51 پارٹ، 72 پارٹ،73 پارٹ، 74 اور76 پارٹ، 77 پارٹ،78 پارٹ، 79,80,81 پارٹ،4 ایکٹر اراضی ناکلاس نمبر54 اور کمرشل بی، سروے نمبر 83/84اور85 دیہہ جام چاکرو ٹپو منگھوپیر گڈاپ ٹاون ضلع غربی کراچی شامل ہیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق ڈسٹرکٹ افیسر(ریونیو)D.O(rev)/K.R.B/3385/2010 بتاریخ 31اگست2010ء لے آوٹ پلان لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کوارسال کیا گیا تھا۔ریوینو آفیسر کا کہنا تھا کہ اگر جمع شدہ دستاویزات میں غلط بیانی یا جمع کرائے گئے کاغذات غلط ثابت ہو گا تو لے آوٹ پلان منسوخ یا حکمنامہ واپس لے لیا جائے گا۔ریکارڈ میں محمد فاروق ولد محمد یعقوب، CNIC-42301-0902498-5 ناکلاس نمبر 54اور43 سروے نمبر پولٹری فارمز کے تحت 30 سالہ لیز کو صائمہ عربین ہومز کو پاور آف اٹارنی پر سید شہزاد علی ولد سید شوکت علی CNIC-4231-4529490-9 سلیم ذکی ولد ذکی عثمانی مرحوم،CNIC-4221-6029887-5، 4 ایکٹر اراضی ناکلاس 54 دیہہ جام چاکرو ٹپو منگھوپیر گڈاپ ضلع غربی کراچی پر منتقل ہوئے تھے اوربعد ازاں ذیشان سلیم ذکی ولد سلیم ذکیCNIC-42201-5124982-5،اختر علی ولد محبوب علیCNIC-42101-5169248-7،جنرل پاور جاوید رسول ولد رسول بخش شیخCNIC-42201-5946747-9،،اسلم ریاض ولدفیاض خانCINC-42301-4529490-9،سروے نمبر82رقبہ5ایکٹر،سروے نمبر83رقبہ4.20ایکٹر،سروے نمبر84رقبہ5ایکٹر، سروے نمبر85رقبہ 5.20ایکٹر، مجموعی طور پر 20ایکٹر اراضی کے علاوہ ناکلاس نمبر54 دیہہ جام چاکرو ٹپو منگھو پیر گڈاپ ضلع غربی کراچی، جنرل پاور انارٹی ذیشان ذکی ولد محمد سلیم ذکی رقبہ40ایکٹرناکلاس نمبر54دیہہ جام چاکروضلع غربی کراچی،جبکہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نمبرKBCA/DCB(D-II)/(Revised)939/adv-L/476/2011بتاریخ 2جولائی2011کو نقشہ جات پاس کرانے کی درخواست دائر کی اور صائمہ رئیل اسٹیٹ(بلڈرز اینڈ ڈلپرز)تاریخ تکمیل پروجیکٹ 23مئی 2011ء کی مدت تعین کیا تھا۔سینئر ڈائریکٹر ڈیزائن سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی انجینئر فرحان قیصر ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگز ڈیزائن سیکشن ٹو کی حیثیت سے دستخط کیئے تھے۔ منصوبہ میں 2 فیصد کارنر چارجز،2فیصد ویسٹ اوپن چارجز،1فیصد روڈ فیس چارجز،0.5 فیصد ٹرانسفر فیس وصول کی شرائط عائد کی گئی تھی۔لے آوٹ پلان کے مطابق زمین پر منصوبہ کے مطابق پلاٹس، سب پلاٹس، یونٹس، فلیٹس، premises، اپارٹمنٹس، فلورز، پینٹ ہاوس، دکانین، آفسز کی 1046 یونٹس شامل ہیں۔تعمیراتی صنعت میں جتنا بڑا نام اتنا بڑا فراڈ۔کراچی میں زمینوں کی جعل سازی کر کے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے صائمہ بلڈرز کے خلاف قومی احتساب بیور اور اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کی تحقیقات چمک کے آگے سرد خانے کی نذر کردی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مرحوم سلیم ذکی کے بعد ان کے بیٹے ذیشان ذکی پر بھی جعل سازی سے زمینوں کی الاٹمنٹ اور قبضوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ خاندانی جائیدادوں کا بٹورا کے ساتھ تعمیراتی منصوبہ سمیت دیگر پر غیر قانونی قبضہ کے متعلق مقدمات سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صائمہ عربین ولاز پروجیکٹ پر شہریوں کی 20 ارب سے زائد کی رقم داو پر لگی ہوئی ہے کیونکہ سندھ حکومت عدالت عالیہ کے حکم پر کسی بھی وقت پولٹری لینڈ کو خالی کراکر زمین اپنے قبضے میں لینے کا آپریشن کر سکتی ہے۔ایسی صورتحال میں زندگی بھر کی جمع پونجی سے آشیانہ بنانے کا خواب دیکھنے والے شہری دربدر ہو جائیں گے۔حیرت انگیز طور پر سلیم ذکی کے بعد ان کے بیٹے ذیشان ذکی نے بھی جعل سازی سے الاٹ زمینوں پر پروجیکٹ بنانے کا سلسلہ روکا نہیں بلکہ اس کام میں اپنے باپ کو بھی مات دے دی۔انہوں نے اپنے غیر قانونی کاموں میں انتہائی سرعت سے اس میں اضافہ کیا۔ایک اندازے کے مطابق صائمہ گروپ کے مخلتف پروجیکٹ میں شہریوں کے پچاس ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جو کہ کسی بھی وقت ڈوب سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صائمہ بلڈر اینڈ ڈویلپرز کے ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب صائمہ برج ویو پروجیکٹ کے کیس پر بھی نیب نے تیزی سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات اور پروجیکٹ کی اراضی کی منسوخی کے حوالے سے صائمہ بلڈرز کے مالک ذیشان ذکی سے متعدد بار رابطہ کیا گیا تاہم ان کے اسٹاف کی جانب سے رابطہ نہیں کرایا گیا اور نہ ہی پوچھے گئے سوالات کے جواب فراہم کئے گئے۔دلچسپ امر یہ کہ کورنگی کے رہائشی رضوان خان نے صاہمہ عربین ولاز کے خلاف درجنوں تحریری شکایات چیف سیکرٹری سندھ، سیکرٹری بلدیات سندھ،کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر غربی، ڈاہریکٹر جنرل لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ڈاہریکٹر جنرل سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی سمیت تمام اداروں کو جمع کرائی ہے اور مسلسل کوشش کے باوجود ادارے کاروائی سرد خانہ کے نذر کردیاگیا
15/03/2022
دیہہ ناگن اور دیہہ تیسر میں تجاوزات اور غیر قانونی گوٹھ کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا ڈسٹرکٹ پولیس ، اینٹی انکروچمنٹ فورس کے ہمراہ کاروائ۔
20/02/2022
محتاط اندازے کے مطابق چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں 75 فیصد تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے۔
اکثر گرفتار ڈکیتوں سے تفتیش کے بعد معلوم ہوتا ہے پہلے پہل مجرم نے نئے اور مہنگے موبائل، موٹر سائکل اور دیگر شوق کو پورا کرنے کے ڈکیتی مارنا اور لوگوں کو اسلحہ کے زور پر لوٹا شروع کیا اور بعد میں آسان آمدنی کی وجہ سے اسے اپنا پیشہ بنا لیا۔
ایسے حالات میں اپنے بچوں سے متعلق باخبر رہنا ضروری ہے کے کہیں آپ کا بچہ چور ڈکیت کے ساتھ آٹھ بیٹھ تو نہیں رہا۔
اگر آپ کے بچے کے اخراجات آپ کے دئیے گئے جیب خرچ یا آمدنی سے زیادہ ہے تو معلوم کریں کے آپ کا بچہ اپنے شوق کی تکمیل کے لئے ڈکیتی تو نہیں کررہا یا لوگوں کو اسلحہ کے زور پر لوٹ تو نہیں رہا۔
اگر آپ کا بچہ آپ سے پیسے لئے بغیر آئی فون خرید رہا ہے نئی نئی موٹر سائیکل لے رہا ہے اور گھر پر خوب پیسے لا کر دے رہا ہے تو خوش ہونے کے بجائے تحقیق کریں ورنہ ایسا نہ ہو کے جب آپ کا بچہ کہیں مارا جائے یا پکڑا جائے تو آپ رو رو کر اپنے بچے کو بے گناہ اور معصوم ثابت کرتے رہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the organization
Telephone
Address
Office No. 1, Plot No, A-102, Block 1 Gulshan-e-Iqbal
Karachi