Human Resource Development Welfare Organization

Human Resource Development Welfare Organization

Share

15/04/2026

روٹی، کپڑا، مکان، بس اتنا ہی ہے پرانا پاکستان۔!

04/04/2026
27/03/2026

ہمارے ایک اُستادِ محترم ہوا کرتے تھے۔ بچوں پہ تشدد کرنا اُن کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور اس تشدد کی وجہ سے بہت سے بچے اسکول سے بھاگ چکے تھے۔
آپ ایک بار اپنی زمین میں گندم بوائی کے دوران جب ٹریکٹر والے کو پیسے دینے لگے تو اس نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ ماسٹر جی کیوں شرمندہ کر رہے ہیں، آج میں جس مقام پر ہوں صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔ اگر آپ اُس دن میری پٹائی نہ کرتے تو نہ میں اسکول سے بھاگتا اور نہ ٹریکٹر ڈرائیور بنتا۔😁

آپ ایک بار بس میں سفر کر رہے تھے، کرایہ دیتے ہوئے کنڈیکٹر نے یہ کہتے ہوئے لینے سے انکار کر دیا کہ “سر کیوں شرمندہ کرتے ہیں، آج میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی وجہ سے ہوں”۔
سر نے ادھر اُدھر دیکھا لیکن کسی نے نہیں سنا۔

کنڈیکٹر طوطے کی طرح بولے جا رہا تھا۔ سر یاد ہے میرا کلاس فیلو فرید؟ آج کل وہ فریدا استاد کے نام سے مشہور ہے اور وہ جو شاہ زیب ہوتا تھا ناں آج کل شاکا بدمعاش مشہور ہے۔ ہم سب آپ ہی کی وجہ سے اس مقام پر ہیں۔😁

اُستادِ محترم نے ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھا، اپنا بستہ اٹھایا اور یہ سوچتے ہوئے چلتی بس سے چھلانگ لگا دی کہ ایسا نہ ہو راستے میں کوئی ڈاکو سوار ہو اور لوٹ مار کے دوران جب میرے پاس پہنچے تو بولے کہ سر آپ کیوں اپنا بٹوہ نکال کر شرمندہ کر رہے ہیں، آج میں جس مقام پر بھی ہوں صرف آپ کی وجہ سے ہوں۔🤣😜🙏

💬 اب آپ بتائیں…
کیا مار پیٹ سے واقعی بچے “انسان” بنتے ہیں؟
یا صرف ڈر کے سائے میں اپنی راہیں بدل لیتے ہیں؟

👇 اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں
🔁 اور اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ حقیقت سب تک پہنچے

03/01/2026

📅 2 جنوری 1492 اگر مسلمان اپنی تاریخ پڑھ لیں تو کبھی دین سے بیزار، سیکولر فتنوں کے اسیر اور اہلِ حق کے مخالف نہ بنیں۔
تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہم اپنے نظریات پر قائم رہے، دشمنوں کو مات دی — اور جب جھکے، تو صرف زمین نہیں، وقار بھی چھن گیا۔

کیا کسی کو یاد ہے…؟
اندلس کبھی ہمارا تھا۔
آج بھی غرناطہ کی مٹی کسی نئے طارق بن زیاد کی منتظر ہے۔

📅 2 جنوری 1492
یہ دن مسلمانوں پر قیامت بن کر ٹوٹا۔
ہسپانیہ میں مسلمانوں کی 800 سالہ شاندار تاریخ کا خاتمہ ہوا
اور اسی دن امریکہ کے عروج کا سورج طلوع ہوا۔

اس رات غرناطہ میں وہ مناظر تھے جنہیں تاریخ بھی کانپ کر لکھتی ہے:
جہاں صدیوں تک اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی تھیں،
وہاں ظلم، بے بسی اور چیخوں نے جگہ لے لی۔

شراب میں ڈوبے دشمن جشن منا رہے تھے،
اور غرناطہ کی زمین پر آگ بھڑک رہی تھی —
یہ آگ درختوں کی نہیں تھی،
یہ آگ مسلمانوں کی علمی میراث کو لگی تھی۔

🔥 عبدالرحمن الداخل کے عظیم کتب خانے کو نذرِ آتش کر دیا گیا
جہاں تین لاکھ سے زائد کتابیں علم کی روشنی بن کر محفوظ تھیں۔

اور اس قیامت کے عالم میں…
کچھ منافق حکمران
غرناطہ کی چابیاں
ملکہ ازابیلا اور فرڈیننڈ کے ہاتھوں میں تھما رہے تھے۔

تاریخ صرف ماضی نہیں،
یہ آئینہ ہے —
سوال یہ ہے:
کیا ہم آج بھی اس میں اپنا چہرہ دیکھنے کو تیار ہیں؟

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Karachi
75300