Job.Professional

Job.Professional

Share

16/01/2020

Please raise voice for Obaid Ali....

یہ عبید علی ہیں۔ پی ایچ ڈی ہیں۔ ادویہ ساز شعبے میں قانون سازی پر ان کے لکھے مقالہ جات انتہائی موقر جریدوں کی زینت بنتے ہیں۔ پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ برسہا برس سے بطور افسر وابستہ تھے۔

ادویہ ساز اداروں، کرپٹ افسران کے گٹھ جوڑ، جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافے کے پیچھے چھپی ملی بھگت کو بےنقاب کرنے پر انہیں نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے۔

آپ پاکستان کی کسی بھی ادویہ ساز فیکٹری یا ڈریپ کے کسی ملازم سے پوچھیں، وہ بتائینگے کہ یہ واحد (اور میں بہت وثوق سے واحد کہہ رہا ہوں) افسر تھے جنہوں نے اپنی ساری عرصہ ملازمت میں ایک روپے کی کرپشن نہ کی،نہ ہونے دی، نہ کسی کی سفارش کسی فارما انڈسٹری میں کی نہ کسی فارما انڈسٹری کی پیشکش کبھی قبول کی۔

عبید علی اور ان کی اہلیہ جو اسی شعبہ سے ہیں، اتنے کوالیفائیڈ ہیں کہ انہیں کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی یا ملک ہاتھوں ہاتھ لے گا۔ عبید علی کراچی کے انتہائی لوئر مڈل کلاس طبقے سے ہیں اور ان کی کوئی سیاسی وابستگی کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔ اس شخص نے دن رات محنت کرکے خود کو اس مقام پر پہنچایا ہے کہ آج ان کے اصولوں کی خاطر نوکری سے نکالے جانے پر ان کو جاننے والا ہر شخص دل گرفتہ ہے۔ کل میں نے انہیں ملک چھوڑ کر جانے کا مشورہ دیا تھا۔ آج ان سے درخواست کرتا ہوں کہ مت جائیں۔ اسی ملک میں رہیں، اعلی عدلیہ کے پاس جائیں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس مافیا کو بےنقاب کریں جن کی جڑیں ہر سیاسی جماعت میں اتنی مضبوط ہیں کہ نواز، زرداری ہو یا عمران، ان کے مفادات پر کوئی ضرب نہیں لگاسکتا۔

عبید علی کو اسی ملک میں رہ کر اپنی جنگ لڑنی ہوگی۔ ہمارے پاس بھگوڑے پہلے ہی بہت ہیں، اب ہمیں یہاں ٹھہر کر لڑنے والے وارئیر چاہئے۔ پلیز سٹے عبید علی❤🙏

ڈان میں انکی برخاستگی پر شائع خبر کا لنک۔
https://www.dawn.com/news/1528309

Want your restaurant to be the top-listed Restaurant in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Karachi