Midhat E Rasool

Midhat E Rasool

Share

24/05/2026

تو بڑا بزرگی والا
اعلی شان ہے 😔💞

14/02/2023

*22 رجب میں، کونڈے کی نیاز کی حقیقت کچھ اس طرح ہے*

22 رجب المرجب سیدنا امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز..
سن ھجری 122 رجب کی 22 تاریخ کی رات یعنی 21 کا دن گزار کر 22 کی رات بوقتِ نمازِ تہجد اللہ رب العزت نے سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو *مقامِ غوثِیت کبری* عطا فرمایا..
22 رجب کو عظیم نعمت مقامِ غوثِیت کبری حاصل ہونے کے بعد سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے صبح کے وقت اللہ رب العزت کے جانب بطورِ شکر ادا کرنے کے لیے نیاز بنوائی جو دودھ اور چاول ملاکر بنائی گئی جسے ہم *کھیر* کہتے ہیں..
سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ خاندانِ رسول صل اللہ علیہ والہ و سلم کے چشم و چراغ ہیں آپ کے گھر میں ٹوٹی چٹائی اور مٹّی کے برتن ہی تھیں اسی پر آپ شاکر و صابر تھیں آپ مٹی کے پیالے میں نیاز رکھ کر اپنے دوست و احباب کو بلا کر فرمایا کہ آج رات اللہ پاک نے مجھے مقامِ غوثِیت کبری عطا فرمایا اسی کا شکر ادا کرتے ہوۓ یہ نیاز آپ لوگوں کو بطورِ تبرّک پیش کرتا ہوں..
آپکے صاحب زادے سیدنا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور آپ کے دیگر مصاحبین (ساتھیوں) نے دریافت کیا (پوچھا) کہ اس نیاز میں ہمارے لیے (کیا) فائدہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم اللہ نے جو نعمت مجھے عطا فرمائی ہے جس کا میں شکر ادا کرتا ہوں نیاز کی شکل میں اسی طرح اسی تاریخ میں جو بھی شکر ادا کرےگا اور ہمارے وسیلے سے جو دعا مانگےگا تو اللہ رب العزت اس کی مراد ضرور پوری فرماۓ گا اور دعا ضرور قبول ہوگی کیوں کہ اللہ رب العزت اپنے شکر گزار بندوں کو مایوس نہیں فرماتا..

سیدنا امام جعفر صادق علیہ السلام کے پڑپوتے سیدنا امام حسن عسکری علیہ السلام سے کچھ دشمنانِ اہلِ بیت نے سوال کیا کہ جب ہمارے گھر میں پیتل،تانبے کے بہترین برتن موجود ہیں تو مٹی کے کونڈون کی کیا ضرورت ہے؟؟
اس پر سیدنا امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارے نانا جان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے مٹی کے برتن میں کھانا..
آج مسلمانوں نے ہمارے نانا جان کی سنتوں کو ترک کر دیا ہے..
ہم نے اس نیاز کو مٹی کے پیالوں میں اس لیے ضروری قرار دیا ہے تاکہ کم از کم سال میں ایک مرتبہ ہی مٹی کے کونڈوں میں نیاز کھا کر سنت رسول صل اللہ علیہ وآلہ و سلم ادا ہو جاۓ..

*♦️ کونڈے کی فاتحہ 22 رجب کو ہی کریں*

22 رجب ناہی آپ کے وصال کی تاریخ ہے اور نا ہی پیدائش کی تاریخ ہے یہ تو آپ کو مقام غوثِیت کبری ملنے پر ادا کی گئی شکر کی نیاز ہے..

* #حوالہ:*
1 : منہاج الصالحين
مصنف سیدنا امام محی الدین ابن ابو بکر بغدادی
2 : کشف الاسرار
مصنف سیدنا امام عبد اللہ بن علی اصفہانی
3 : معدم اسرارِ اہلِ بیت
سیدنا امام محمد بن اسماعیل متقی مکی
4 : مخزنِ انوارِ ولایت
سیدنا امام برہان الدین عسقلانی

18/09/2022

ِ_کربلا_کا_شام_میں_داخل_ہونا

شیخ جلیل اور عالم خبیر حسن بن علی طبری کتاب کامل بہائی میں اسیر اھل بیت علیہ صلواۃ و السلام کے شام میں آنے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اھل بیت کو کوفہ سے شام تک ہر بستی میں لیجایا گیا ہر بستی سے شہر تک کہ لوگوں نے ان پر چیزیں پھینکتے تھے۔ جب یہ قافلہ شام سے 4 فرسخ کی دوری پر دمشق کے داخلی دروازے پر پہنچا تو ان کو تین 3 دن تک وہاں روکا گیا کیونکہ شہر کو سجایا جا رہا تھا۔ شہر میں اس طرح آئینہ بندی کی گئی کہ پہلے کبھی نہ دیکھی گئی، پانچھ لاکھ کہ قریب مرد اور عورتیں دفوں کے ساتھ اور اومراء و رئیس طبلوں، بگلوں، باجوں اور نقاروں کے ساتھ نکلے۔ کئی ھزار مرد و عورتیں ناچتے ہوئے دف، چنگ اور رباب بجاتے ہوئے ان کے استقبال کے لیے آئے۔ سارے علائقے کے لوگوں کے ھاتھ و پیر مھندی سے رنگے ہوئے تھے اور آنکھوں میں سرمہ لگا تھا۔ لوگوں کی کثرت قیامت صغرا کا سا منظر پیش کر رہی تھی۔ جب سورج طلوع ہوا تو ملعونوں نے شہر کا رکھ کیا لوگوں کے ہجوم کے سبب قیدی زوال کے وقت کے قریب یزید کے گھر کے دروازے تک پہچے۔ یزید کا تخت، ایوان اور گھر سجایا گیا تھا۔ سونے و چاندی کے کرسیاں دائیں بائیں نصب کے گئی تھیں۔ جب دربان باہر آیا تو وہ ملعون سالاروں کو سروں کے ساتھ یزید کے پاس لے گیا اور ان سے حال احوال لینا شروع کیا جواب میں ملعونوں نے کہا کہ وقت کے بادشاہ کی مدد سے ہم نے ابو تراب کے خاندان سے بدلا لیا ہے اور سارا احوال دیا گیا۔

سھل بن سعد ساعدی سے نقل ہوا کہ میں حج اور بیت المقدس کی زیارت کے لیے گیا ہوا تھا جب دمشق پہنچا تو میں نے ایک ایسا شہر دیکھا کہ جو خوشی و شادمانی سے پر ہے پھر کچھ لوگ دیکھے جو مسجد میں چھپ کر رو رہے تھے اور دکھی لگ رہے تھے میں نے پوچھا کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اھلبیت رسول علیہ صلواۃ و السلام کے محب و موالی ہیں آج امام حسین علیہ صلواۃ و السلام کا سر مبارک اور اھلبیت رسول علیہ صلواۃ و السلام کو اسیر بنا کر شہر میں لایا جائے گا۔ سھل کہتا ہے میں صحرا کی جانب نکلا جہاں لوگوں و گھوڑوں کی کثرت تھی دف، باجا، بگل اور نقاروں کے سبب محشر مچا ہوا تھا میں نے دیکھا سواد اعظم(بڑا لشکر) آ پٹہچا اور سروں کو نیزوں پر لایا جا رہا ہے سب سے پہلے حضرت عباس علیہ صلواۃ و السلام کا سر لایا گیا باقی سروں کے پیچھے امام حسین علیہ صلواۃ و السلام کے اہل حرم تھے۔ میری نظر امام حسین علیہ صلواۃ و السلام کے سر پر پڑی جس میں سے ہیبت اور عظیم نور جاری تھا، داڑھی مبارک چاپؤین تھی جس میں کالے سفید بال نمایاں تھے نیر کے پتوں کا خضاب ہوا تھا، آپ علیہ صلواۃ و السلام کی آنکھیں زیادہ سیاہ تھیں آپ کی بھوئیں ملی ہوئی، ناک لمبی اور آنکھیں کھلی ہوئی، مسکراتی نگاہ آسمان کے طرف تھی, ھوا آپ علیہ صلواۃ و السلام کی داڑھی مبارک کو دائیں سے بائیں جانب لے جا رہے تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آپ امیرالمؤمنین علی علیہ صلواۃ و السلام ہیں۔

عمرو بن منذر ھمدانی کہتا ہے کہ میں نے سیدہ ام کلثوم سلام اللہ علیہا کو دیکھا آپ بالکل سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا کا عکس لگ رہیں تھیں آپ کے سر مبارک پر ایک پرانی چادر اور چہرا مبارک پر رو بند بندھا تھا۔ میں قریب گیا امام زین العابدین علیہ صلواۃ و السلام اور پاک بیبیوں کو سلام کیا تو آپ علیہ صلواۃ و السلام نے فرمایا اے مؤمن اگر ہو سکے تو اس شخص کو کہ جس کے پاس امام حسین علیہ صلواۃ و السلام کا سر ہے کچھ دے کہ وہ آگے چلے ہم نہایت مصیبت زدہ ہیں۔ میں نے اس لعین کو سو درھم دیے کہ وہ امام حسین علیہ صلواۃ و السلام کا سر مبارک آگے لیجائے اور عورتوں سے دور رہے۔ قافلہ یوں چلتا رہا جب تک کہ سر مبارک یزید کے سامنے نہ رکھا گیا..

بحوالہ منتہی الآمال

لعنۃ اللہ علی قوم الظالمین

Want your place of worship to be the top-listed Place Of Worship in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Karachi