Muavia Azad

Muavia Azad

Share

17/10/2025

کرب کے شہر میں رہ کر نہیں دیکھا تو نے
کیا گزرتی رہی ہم پر، نہیں دیکھا تو نے

کانچ کا جسم لئے شہر میں پھرنے والے
دستِ حالات میں پتھر نہیں دیکھا تو نے

اے مجھے صبر کے آداب سکھانے والے
جب وہ بچھڑا تھا، وہ منظر نہیں دیکھا تو نے

بے کراں کیوں نہ لگیں تجھ کو یہ جوہر تیرے
بات یہ ھے کہ سمندر نہیں دیکھا تو نے

جانے والوں کو صدائیں نہیں دیتا میں بھی
تو بھی مجھ سا ھے کہ مُڑ کر نہیں دیکھا تو نے

تو نے دیکھا ھے مقدر کا ستارہ خاؔور
پر ستارے کا مقدر نہیں دیکھا تو نے

Muavia Azad

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Karachi