SM Tution Institute

SM Tution Institute

Share

27/05/2026

23/03/2026

06/03/2026

اس تصویر کو غور سے دیکھیں۔
ایک بچے نے 52 فیصد نمبر حاصل کیے اور وہ کلاس میں پہلی پوزیشن (فرسٹ) آیا۔
اس کی ماں اسے فخر سے گلے لگا رہی ہے اور اس کی پوزیشن کا جشن منا رہی ہے۔
بالکل ان کے برابر میں ایک اور بچی کھڑی ہے۔
اس نے 79 فیصد نمبر لیے ہیں، مگر وہ اپنی کلاس میں 10 ویں نمبر پر آئی ہے۔
اس کے چہرے کو دیکھیں... وہ مسکرا نہیں رہی۔
اس نے اپنا رزلٹ کارڈ اس طرح پکڑا ہوا ہے جیسے اسے یقین ہو کہ وہ ناکام ہو گئی ہے۔
لیکن آئیے ایک لمحے کے لیے خود سے سچ بولتے ہیں۔
79 فیصد کا مطلب ہے کہ اس بچی نے اسباق کو کہیں زیادہ بہتر سمجھا ہے۔
52 فیصد کا مطلب ہے کہ ابھی بہت کچھ ایسا ہے جس پر بچے کو مہارت حاصل نہیں۔
پھر بھی، ہمارا معاشرہ اکثر علم سے زیادہ پوزیشن کا جشن مناتا ہے۔
بہت سے والدین جو بات بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے:
ایک بچہ ایک کمزور کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے،
جبکہ دوسرا بچہ ایک بہت ہی مشکل اور مقابلے والی کلاس میں 10 ویں پوزیشن پر آ سکتا ہے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:
"میرے بچے نے کون سی پوزیشن لی؟"
بہتر سوالات یہ ہیں:
• میرے بچے نے اصل میں کتنا سیکھا ہے؟
• کیا میرا بچہ بہتری کی طرف جا رہا ہے؟
• میرے بچے کو کہاں مدد اور سہارے کی ضرورت ہے؟
کیونکہ جب زندگی کلاس روم سے باہر ان کا امتحان لینا شروع کرے گی،
تو زندگی ان سے کلاس میں ان کی پوزیشن نہیں پوچھے گی۔
زندگی ان کے فہم، علم اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا امتحان لے گی۔
پیارے والدین، ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ ہم محنتی بچوں کو صرف پوزیشن کی وجہ سے ناکامی کا احساس نہ دلائیں۔
کبھی کبھی وہ بچہ جو آج 10 ویں نمبر پر آیا ہے،
ہو سکتا ہے حقیقت میں وہی ہو جس نے سب سے زیادہ سیکھا اور سمجھا ہو۔
تو مجھے ایمانداری سے بتائیں...
کیا ہمیں علم سے زیادہ پوزیشن کا جشن منانا چاہیے؟

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Rajkot Street
Karachi