Naseeb Raziq
20/07/2025
بلوچستان کی سرزمین، جہاں پہاڑوں کی خاموشی میں صدیوں کی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں، وہاں آج بھی ظلم اور جبر کی داستانیں لکھی جا رہی ہیں۔ ایک اور شادی شدہ جوڑے کو صرف اس "جرم" میں قتل کر دیا گیا کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، اور پسند کی شادی کی تھی۔
کیا اپنی مرضی سے جینا یا محبت کرنا جرم ہے؟
کیا اپنے دل کی بات سننا انسان کو مارنے کے قابل بنا دیتا ہے؟
کیا ایک بیٹی یا بیٹا اپنی زندگی کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے؟
یہ جوڑے دہشتگرد نہیں تھے — وہ تو صرف جینا چاہتے تھے، اپنی مرضی سے، اپنی خوشی سے۔
اور پھر انہی مظلوموں کو "دہشتگرد" کہا جاتا ہے۔
یہ کون سی منطق ہے؟
دہشتگرد تو وہ ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں۔
جو انہیں جینے نہیں دیتے، جو ان کی خوشی کو گناہ سمجھتے ہیں۔
دہشتگرد وہ ہیں جو خود لوگوں پر ظلم کرتے ہیں،
لیکن جب مظلوم فریاد کرے، تو ان پر "دہشتگرد" کا لیبل لگا دیتے ہیں۔
بلوچستان کے لوگ اگر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں تو انہیں دبا دیا جاتا ہے، ان پر طاقت کے ذریعے خاموشی مسلط کی جاتی ہے۔
وہ جو خود مظلوم ہیں، ان پر ظالم مسلط کر دیے گئے ہیں۔
ایسا نظام، ایسی سوچ – اصل دہشتگردی یہی ہے۔
ہمیں بولنا ہوگا۔
ہمیں سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
محبت کو، آزادی کو، اور حق کو دہشتگردی کہنے والوں کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi