Khurram Azad
Imran Khan's Fake video? Iran attacks Bahrain & Kuwait | Smaj Dushman?
27/05/2026
25/05/2026
*جب ہیڈ بنا نگران!*
*تحریر: خرم آزاد*
کہتے ہیں کہ منصب صرف ایک کرسی یا عہدے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس وقار، احترام اور دائرہ اختیار کا آئینہ دار ہوتا ہے جو معاشرہ اور قانون کسی فرد کو دیتا ہے۔ ایک اسکول کا سربراہ خواہ وہ ایک چھوٹے سے پرائمری اسکول کا ہیڈ ٹیچر ہی کیوں نہ ہو، اپنے صحنِ چمن کا خود مختار بادشاہ ہوتا ہے۔ اس کے کمرے میں داخل ہونے والے اساتذہ ہوں یا طلبہ، سب کی آنکھوں میں ایک خاص احترام ہوتا ہے۔ اس کا ایک حکم، ایک اشارہ ابرو، اس کی ایک آواز پورے اسکول کو نظم و ضبط کے دائرے میں لے آتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم جیسے کئی ہیڈ ٹیچرز اپنے اسکول کی اس چھوٹی سی سلطنت میں اپنے آپ کو *"صدرِ معلم"* لکھنا اور کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اگرچہ قانونی اور سرکاری سکیلز کے ترازو میں تولا جائے تو "صدرِ معلم" (ہیڈ ماسٹر) کا اصل عہدہ 17ویں سکیل کا ہوتا ہے، اور پھر 18ویں یا 19ویں سکیل میں جا کر "سینئر ہیڈ ماسٹر" کا بڑا منصب آتا ہے۔ لیکن یہ اپنے منصب سے محبت اور اسکول کی سربراہی کا ایک ایسا خوبصورت احساس ہے جو گریڈ اور سکیل کی قید سے آزاد ہو کر ہر ہیڈ ٹیچر کو اپنے اسکول کے اندر ایک "صدرِ معلم" والا روایتی پروٹوکول اور وقار بخشتا ہے۔
مگر زندگی کبھی کبھی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اسے اپنے اس دائرہ اختیار سے نکل کر ایک بالکل مختلف اور تلخ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسا ہی کچھ اس وقت ہوا جب ایک معزز ہیڈ ٹیچر کو، جو اپنے اسکول کا "صدرِ معلم" تھا، امتحانی مرکز میں کسی کی غیر حاضری پر ایک معمولی 'نگران' (انویجیلیٹر) کی ڈیوٹی سنبھالنی پڑی۔
امتحان گاہ کی وہ فضا، جہاں وہ کبھی مہمانِ خصوصی یا نگرانِ اعلیٰ کی حیثیت سے معائنہ کرنے جاتا تھا، آج وہاں وہ خود ایک تین گھنٹے کی طویل ڈیوٹی پر مامور تھا۔
اس ڈیوٹی کے دوران جسمانی تھکن تو ایک طرف، ذہنی کوفت اس وقت مزید بڑھ گئی جب سامنے بیٹھے انٹر (انٹرمیڈیٹ) کے طلبہ کو دیکھا۔ حیرت اور افسوس کا مقام یہ تھا کہ *انٹر کے تقریباً 75 فیصد طلبہ کو یہ بنیادی شعور ہی نہیں تھا کہ امتحانی پرچہ حل کیسے کرنا ہے!* رول نمبر لکھنے کی جگہ کہاں ہے، حاشیے (Margins) کیسے لگانے ہیں، معروضی (MCQs) شیٹ کو کیسے پر کرنا ہے، اور سوالات کے جوابات کو کس ترتیب سے لکھنا ہے—میٹرک جیسے لیول کو پار کر چکے یہ طلبہ ان تمام بنیادی باتوں سے بالکل ناواقف نظر آئے۔ میں نے کسی کے پاس اچھا قلم نہیں دیکھا۔ ایک معلم کی نظر جب ان کی اس بے ترتیبی اور نااہلی پر پڑتی ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ڈگریاں تو بانٹ رہا ہے، لیکن طلبہ کو امتحانی ہال کا سلیقہ تک نہیں سکھا پا رہا۔
> **وہ تین گھنٹے، جو اسکول میں دفتری امور سنبھالتے اور اساتذہ کی رہنمائی کرتے ہوئے منٹوں میں گزر جاتے تھے، آج امتحانی ہال کی بے رحم گھڑی کی ٹک ٹک اور طلبہ کی انھی الجھنوں کو دور کرتے کرتے پگھلتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔**
>
کمرے میں کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں، سامنے پرچے کی تیکنیک سے ناواقف طلبہ اور پشت پر مسلسل تین گھنٹے کھڑے رہنے کی تھکن۔ ٹانگوں میں اترتی ہوئی وہ تھکن صرف جسمانی نہیں تھی، بلکہ وہ نفسیاتی بھی تھی۔ کیونکہ اس امتحانی ہال میں وہ 'صدرِ معلم' والا روایتی پروٹوکول، وہ احترام کی لہریں، اور وہ دائرہ اختیار کہیں غائب ہو چکا تھا جو ایک پرائمری اسکول کے ہیڈ کو بھی اپنے اسکول کی چار دیواری میں حاصل ہوتا ہے۔ وہاں وہ صرف ایک نگران تھا، جسے امتحانی قوانین کی سختی سے پابندی کرنی تھی اور کسی دوسرے افسرِ اعلیٰ کے احکامات کے تابع رہنا تھا۔
اس تجربے نے ایک گہرا سبق دیا۔ یہ سچ ہے کہ نگران کی ڈیوٹی میں وہ پروٹوکول اور شان و شوکت نہیں ہوتی جو ایک اسکول کے سربراہ کو حاصل ہوتی ہے۔ جب ایک ہیڈ ٹیچر اپنے اسکول سے باہر نکل کر ایک عام کارندے کی حیثیت سے کام کرتا ہے، تو اسے احساس ہوتا ہے کہ عہدے عارضی ہیں اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
مگر اس تھکن، پروٹوکول کی کمی اور طلبہ کی تعلیمی حالتِ زار پر کڑھنے کے باوجود، ایک سچے استاد کا وقار کبھی کم نہیں ہوتا۔ وہ چاہے 17ویں، 18ویں سکیل کا باقاعدہ صدرِ معلم ہو، یا اپنے اسکول کا نظم و نسق چلانے والا ایک مخلص ہیڈ ٹیچر—اس کی اصل طاقت اس کا وہ علم، اس کا اخلاص اور اس کی محنت ہے جو وہ نئی نسل کی آبیاری کے لیے صرف کرتا ہے۔ جسم تھک سکتا ہے، پاؤں شل ہو سکتے ہیں، پروٹوکول کی کمی کا احساس بھی ہو سکتا ہے، لیکن ایک استاد کا ضمیر ہمیشہ مطمئن رہتا ہے کہ اس نے فرض کی راہ میں کبھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔
Why does the US want a Nuclear deal with Iran?
https://youtu.be/AmaAO8Isg5U
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Address
Jaranwala