Inner Light
Dear ladies
If you have a good man, hold on to him.
And when I say a good man, I don’t mean a man who is perfect. But a man who tries. He’s hardworking, will go above and beyond to make you happy. Imperfect but is working toward being a better man. He’s not out here to make you look dumb. He’s your best friend and you can run to him with and for everything.
Yes, he’s going to mess up here and there but if he’s trying to be a better man for you, love that man, keep that man, celebrate that man because that man is hard to find. ❤️
ﺍﯾﮏ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼﺳﮩﯿﻠﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﭽﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﺎ ؟؟؟
ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽﻧﮩﯿﮟ!!!!
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟؟؟
ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ؟؟؟
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺯﮨﺮﯾﻼ ﺑﻢ ﮔﺮﺍﮐﺮ ﻭﮦ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻄﺎﮞ ﻭ ﭘﯿﭽﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻠﺘﯽ ﺑﻨﯽ!!!!
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮﺑﻌﺪ ﻇﮩﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﺎﺷﻮﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﭩﮑﺎ ﮨﻮﺍﭘﺎﯾﺎ، ﭘﮭﺮﺩﻭﻧﻮﮞﮐﺎ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﮨﻮﺍﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﮭﯿﺠﯽ ﻣﺎﺭﭘﯿﭧ ﮨﻮﺋﯽﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮﺩﯼ!!!!
ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ؟؟؟
ﺍﺱ ﻓﻀﻮﻝ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﺋﯽ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ!!!!
اسی طرح زید نے حامد سے پوچھا!!
تم کہاں کام کرتے ہو؟؟
حامد : فلاں دکان میں!!
ماہانہ کتنی تنخواہ دیتاہے؟؟
حامد:18000 روپے!!
زید: 18000 روپے بس،تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟؟
حامد ۔گہری سانس کھینچتے ہوئے ۔ بس یار کیا بتاوں!!
میٹنگ ختم ہوئی!!
کچھ دنوں کے بعد حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا ، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی، جسے مالک نے رد کردیا، نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا!!!
ایک صاحب نے نے ایک شخص سے کہا جو اپنے بیٹے سے الگ رهتا تها!!
تمہارا بیٹا تم سے بہت کم ملنے آتا هے کیا اسے تم سے محبت نہیں؟؟
باپ نے کہا:: بیٹا مصروف رهتا هے، اس کے کام کا شیڈول سخت ہے .اسکے بیوی بچے هیں.اسے بہت کم وقت ملتا ہے!!
پہلا آدمی بولا:: واہ یہ کیا بات هوئی.تم نے اسے پالا پوسا اسکی هر خواهش پوری کی اب خود کو خوامخواہ سمجهاتے هو کہ اس کو مصروفیت کی وجہ ملنے کا وقت نہیں ملتا یہ تو نہ ملنے کا بہانا ہے!!
اس گفتگو کے بعد:: باپ کے دل میں بیٹے کے لئے خلش سی پیدا هوگئی.بیٹا جب بهی ملنے آتا وہ یہ هی سوچتا رهتا کہ اسکے پاس سب کے لئے وقت هے سوائے میرے!
یاد رکهیے!زبان سے نکلے الفاظ دوسرے پر بڑا گہرا اثر ڈال سکتے هیں!
ﺑﮯ ﺷﮏﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ!
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﻟﮕﺘﮯ
ﮨﯿﮟ!
ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟﺧﺮﯾﺪﺍ؟
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟
ﺗﻢ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻞﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ؟
ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺑﯿﺸﺘﺮﺳﻮﺍﻻﺕ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﻼﻣﻘﺼﺪ ﮨﻢ ﭘﻮﭼﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ ﯾﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺑﯿﺞ ﺑﻮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ!
آج کے دور میں ہمارے ارد گرد یا گھروں میں جو فسادات ہو رہے ہیں، ان کی جڑ تک جایا جائے تو اکثر اس کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ ہوتا ہے ،وہ یہ نہیں جانتے کہ نادانی میں یا جان بوجھ کر بولے جانے والے جملے کسی کی زندگی کو تباہ کر سکتے ہیں!
ﻓﺴﺎﺩ ﭘﮭﯿﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ نہ ﺑﻨﻮ!!
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟﺍﻧﺪﮬﮯ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺟﺎؤ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﻮﻧﮕﺎ ﺑﻦﮐﺮ ﻧﮑلو
21/01/2024
I wanna be in love with someone who is equally in love with me and I don’t want it to just be love. I want us to be best friends and to adore and respect each other. I want us to fit together like puzzle pieces.
20/01/2024
Be with someone who is proud to have you and with someone who is willing to let you have your own time & space and grow as a person.
*جو بیٹیاں شادی کے بعد بھی ماؤں کی دہلیز نہیں چھوڑتیں وہ کس کس کا نقصان کرتی ہیں؟؟*
ہمارے معاشرے میں جب تک بیٹیاں بیاہی نہ جائیں تب تک ماں باپ کے سینے پر بوجھ رہتی ہیں۔ اور وہی بیٹیاں شادی ہوجانے کے بعد اماں ابا خصوصاً اماں کی منظورِ نظر بن جاتی ہیں۔
📞 مائیں لاڈ کے مارے خود شادی شدہ بیٹیوں کو گھر بلاکر یا فون کر کر کے اپنے مسئلوں میں اتنا الجھا دیتی ہیں کہ نہ بیٹیوں کا گھر بس پاتا ہے اور نہ ہی ماں کے گھر میں بیاہ کر آنے والی اس کی اپنی بہو اپنا گھر بسا پاتی ہے۔
نیچے ہم بیان کریں گے وہ وجوہات جن کی وجہ سے اچھے بھلے بسے بسائے گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔
بھابھی سے مقابلہ:
شادی شدہ بیٹیاں بار بار گھر آکر اپنی زندگی کا موازنہ اپنے بھائی بھابھی سے کرتی ہیں مثال کے طور پر اگر بھائی بھابھی کے مقابلے میں ان کی مالی حالت اچھی ہے تو وہ اس کا بلند آواز میں اظہار کریں گی جیسے کہ ارے ہم تو کل فلاں ہوٹل کھانا کھانے گئے تھے،
بھئی ہم تو چھٹیاں منانے فلاں مقام پر جائیں گے۔
اس طرح کی باتوں کا مقصد اپنی امارت جتانا اور اگلے کو نیچا دکھانا ہوتا ہے
جس کی وجہ سے بھاؤجوں کے دل میں نفرت، حسد اور رقابت کے جذبات بیدار ہوجاتے ہیں۔
اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یعنی بیٹیوں کے مالی حالات بھابھیوں کے مقابلے میں خراب ہوں تو پھر وہ بھابھی کے پاس موجود ہر چیز سے حسد کرتی ہیں۔
ماں اور بھائی سے اسی چیز کی ضد کرتی ہیں جو ان کی بھابھی کے پاس موجود ہو۔
نہیں تو اسی چیز کا مطالبہ اپنے شوہر سے بھی کرتی ہیں جو اگر ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو لڑائی جھگڑے کا سبب بن جاتی ہے۔
نجی معاملات میں مداخلت:
کون کہاں کھانا کھانے گیا
کب واپس آیا
امی کھانا آپ نے کیوں بنایا
بھابھی اتنی دیر تک کیوں سوتی ہیں
بھائی نے بھابھی کو سر پر چڑھایا ہوا ہے
یہ وہ سوالات اور اعتراضات ہیں جو شادی شدہ بیٹیاں اپنے میکے آکر اپنی ماں اور گھر والوں کے گوش گزار کرتی ہیں۔
اور ظاہر ہے اپنے نجی معاملات میں مداخلت سگے بہن بھائیوں کو برداشت ہو بھی جائے تو بھابھی کو کیونکر ہوگی۔
ساس اور نندوں کو یہ بات سمجھنی چاہئیے کہ بہو ہو یا بھابھی ایک آزاد انسان ہے جس کے اپنے خیالات اور زندگی گزارنے کے طریقے ہوتے ہیں
ان پر بات کرنے، روکنے ٹوکنے یا بلاوجہ ان کے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے بدمزگی ہی پیدا ہوتی ہے۔
کہیں نند بھاوج کے آپس میں اختلافات اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنے کی روادار نہیں رہتیں ۔
تو کہیں نند ، بھائی اور بھابھی کے درمیان ناچاقی کی وجہ بن جاتی ہے۔
ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں نندوں کے کان بھرنے سے بھابھیوں کا بسا بسایا گھر اجڑ گیا اور نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلا۔
اپنے گھر، شوہر اور سسرال سے لاتعلق ہوجانا:
اس تمام صورتحال میں جب لڑکیاں اپنے میکے سے لو لگالیتی ہیں تو ان کی توجہ ان کے اپنے گھر یا سسرال سے پوری طرح ہٹ جاتی ہے۔
شوہر دفتر کب گیا،
اس نے ناشتہ کیا یا نہیں ،
رات میں آکر کیا کھائے گا،
سسرال میں ان کی اپنی ذمے داریاں کیا ہیں ،
توجہ ان باتوں سے ہٹ کر صرف میکے پر ہی مرکوز رہتی ہے۔
جن کی وجہ سے وہ دھیرے دھیرے سسرال میں اپنا مقام کھو دیتی ہیں، اور شوہر کے دل سے بھی اتر جاتی ہیں۔
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا:
شادی شدہ بیٹی یا نند کبھی کبھار میکے جائے تو ماں کے ساتھ ساتھ بھابھی بھی خوب آؤ بھگت کرتی ہیں ۔
طرح طرح کے کھانے اور پکوان دسترخوان پر سجائے جاتے ہیں ۔
دل میں نند کے لئے کیسے بھی جذبات ہوں لیکن یہ سوچ کر کہ چلو تھوڑی دیر کے لئے آئی ہے منہ پر میٹھی مسکان سجائے بھابھی نند سے خوب نرمی اور اخلاق سے پیش آتی ہیں جس سے بیٹی کو عزت اور مان کا احساس ہوتا ہے۔
جبکہ روز روز کے جانے سے یہ قدر ماند پڑجاتی ہے اور اکثر گھر کا دال دلیہ بھی خود جا کر باورچی خانے سے نکالنا پڑتا ہے اور اس دوران اگر شوہر بھی ساتھ ہو تو رہی سہی عزت بھی جاتی رہتی ہے۔
بچوں کی بربادی:
میکے میں ہمیشہ آباد رہنے کی چاہ کرنے والی لڑکیوں کے بےحسی والے رویے کا اصل بھگتان ان کے اپنے بچے بھگتتے ہیں۔
بچے جو ہر وقت ماں باپ کی توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں وہ بھی ماں کی لاپروائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
جس کا نتیجہ یا تو خراب صحت یا خراب تعلیمی کاردرگی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یا پھر ماں کی دیکھا دیکھی وہ بھی دنگے فساد اور بد زبانی والی روش اپنا لیتے ہیں۔
📞اس مسئلے کی اصل ذمہ دار لڑکیوں کی اپنی مائیں ہوتی ہیں جو بیٹیوں کو بار بار فون کر کے یا گھر بلا کے ان کی توجہ ان کے گھر سے بھٹکاتی ہیں ۔
ماؤں کو کوشش کرنی چاہئے کہ شادی شدہ بیٹیوں کو ان کے اپنے گھر ، شوہر اور بچوں پر توجہ دینے کی نصیحت کریں ،
نہ کہ ان کو اپنے گھر کے مسائل اور ساس بہو کے جھگڑوں میں شامل کر کے ان کو ذہنی طور پر پریشان کریں۔
مائیں اس بات کی اہمیت سمجھیں کہ شادی کے بعد ان کی بیٹیوں کا اصل گھر ان کے شوہر کا گھر ہے۔
نہ کہ میکہ جبکہ بطورِ ساس ان کو اس لڑکی پر توجہ دینی چاہئیے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان کے گھر آگئی ہے۔
اس کے علاوہ بیٹیوں کو بھی سمجھنا چاہئیے کہ زندگی کا مقصد اپنے سفر کو آگے بڑھانا ہے۔
اور یہ تبھی ممکن ہے جب وہ دوسروں کے بجائے اپنے معاملات پر دھیان دیں۔
اپنی توجہ کا مرکز اپنے گھر اور بچوں کو بنائیں۔
زندگی کو بہتر انداز میں جیئیں نا کہ دوسروں کے مسائل میں کھو کر اپنے قیمتی لمحات کو ضائع کریں...!!!
ہیں
15/01/2024
Love is not just a feeling, it's an action. It's the choice to put someone else's happiness before your own. It's the willingness to sacrifice and the determination to make it work. Remember, true love is not easy, but it is always worth it.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Islamabad