Haripur Update
ترقی، اصلاحات اور وژنری قیادت کی داستان
اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کامیابی کا انحصار ان کے عملی نتائج پر ہوتا ہے، نہ کہ محض دعوؤں پر۔ ایک یونیورسٹی اس وقت ترقی کرتی ہے جب وہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنائے، تحقیق کو فروغ دے، انتظامی نظام کو مؤثر بنائے اور اپنے طلبہ و اساتذہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرے۔ اس حوالے سے جامعہ ہری پور گزشتہ چند برسوں میں ترقی، اصلاحات اور ادارہ جاتی استحکام کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔قیادت کا کردار اور ادارہ جاتی بہتری جامعہ ہری پور کی ترقی میں متعدد عوامل کارفرما رہے، جن میں فیکلٹی، انتظامیہ، طلبہ اور گورننگ باڈیز کے ساتھ ساتھ سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی قیادت کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ان کے دور میں جامعہ نے تعلیمی پروگرامز میں توسیع، انتظامی اصلاحات، اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب نمایاں پیش رفت کی۔ ادارے میں شفافیت، کارکردگی اور ٹیم ورک کے کلچر کو فروغ دینے کی کوششیں کی گئیں، جس کے مثبت اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تحقیق اور جدت کا فروغ جدید جامعات میں تحقیق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کے دور میں اس امر پر خصوصی توجہ دی گئی کہ فیکلٹی کو تحقیق، اشاعت، اور علمی منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔
تحقیقی کلچر کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبہ کو علمی میدان میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع میسر آئے۔ اس سے نہ صرف جامعہ کا تعلیمی معیار بہتر ہوا بلکہ اس کی علمی ساکھ میں بھی اضافہ ہوا۔
انسانی وسائل کی ترقی کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس کے انسان ہوتے ہیں۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیکلٹی اور اسٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔
مختلف تربیتی پروگرامز، ورکشاپس اور سیمینارز کے ذریعے اساتذہ اور عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح طلبہ کے لیے بھی تعلیمی معاونت اور کیریئر ڈیولپمنٹ کے مواقع فراہم کیے گئے تاکہ وہ عملی زندگی کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی ترقی
جامعہ ہری پور میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور وسعت بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ کلاس رومز، لیبارٹریز، آئی ٹی سہولیات اور دیگر تعلیمی وسائل میں بہتری نے تعلیمی ماحول کو مزید مؤثر بنایا۔یہ تمام اقدامات طویل المدتی منصوبہ بندی اور ایک بہتر تعلیمی مستقبل کی طرف واضح اشارہ ہیں۔
کوالٹی ایشورنس اور معیار کی بہتری
اعلیٰ تعلیم میں معیار کی جانچ اور بہتری انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ جامعہ ہری پور نے اس حوالے سے کوالٹی ایشورنس نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی، جس کے مثبت اثرات تعلیمی معیار پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ادارے کی بہتر کارکردگی اور بڑھتی ہوئی ساکھ اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحات مؤثر سمت میں کی گئی ہیں۔تنقید کا مثبت اور متوازن پہلو
تعلیمی ادارے پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان میں تنقید کا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ تاہم تنقید ہمیشہ حقائق اور شواہد پر مبنی ہونی چاہیے۔ اگر کسی ادارے کو صرف منفی زاویے سے دیکھا جائے تو اس کی حقیقی پیش رفت اور کامیابیوں کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوتا۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ پاکستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں مالی، انتظامی اور پالیسی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں، جو کسی ایک فرد یا انتظامیہ سے منسوب نہیں کیے جا سکتے۔سابق وائس چانسلر کی خدمات پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی قیادت میں جامعہ ہری پور نے ایک ایسا سفر طے کیا جس میں ادارہ جاتی استحکام، تعلیمی ترقی اور انتظامی بہتری نمایاں رہی۔ان کی قیادت میں ٹیم ورک، شفافیت، اور ادارے کی مجموعی بہتری پر زور دیا گیا، جس کے نتیجے میں جامعہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔
ان کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب میں فیکلٹی اور اسٹاف کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہوں نے ادارے میں مثبت اثرات چھوڑے۔
مستقبل کا راستہ جامعات کی ترقی کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جامعہ ہری پور کو چاہیے کہ وہ ماضی کی کامیابیوں کو بنیاد بنا کر مزید جدت، تحقیق، اور معیار کی بہتری کی جانب سفر جاری رکھے۔مستقبل کا تعلیمی نظام تب ہی مضبوط ہوگا جب ادارے شواہد، میرٹ، شفافیت اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے۔نتیجہ جامعہ ہری پور کسی بحران کی کہانی نہیں بلکہ ترقی، استقامت اور بہتری کی ایک زندہ مثال ہے۔ سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی خدمات اس سفر کا ایک اہم حصہ ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جامعات اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ادارے شخصیات سے بالاتر ہو کر کام کریں، اور جب کامیابیوں کو تسلیم کیا جائے اور چیلنجز کو غیر جانبداری سے دیکھا جائے۔ یہی راستہ جامعہ ہری پور اور پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
ہری پور کے شہریوں نے پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ 12 سالہ کارکردگی پر سوال اٹھا دیے۔ متعدد ترقیاتی منصوبوں پر افتتاحی تختیاں تو لگا دی گئیں اور فنڈز بھی منظور ہوئے، مگر کام تاحال شروع نہیں ہوا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت صرف دو منٹ کی گفتگو میں بے نقاب ہو جاتی ہے کہ کس طرح دعوے اور وعدے کاغذی حد تک محدود رہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad