Civil Engineering Works
02/09/2025
Old car
02/09/2025
02/09/2025
Old House 🏠
02/09/2025
ہم نے گھروں کو کنکریٹ کے قلعے تو بنا لیے ہیں، لیکن ان کے اندر رہنا اکثر گرمیوں میں جہنم اور سردیوں میں برف خانے سے کم نہیں ہوتا۔ وجہ صاف ہے: ہمارے انجینئرنگ ڈیزائن قدرت کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جب کوئی گھر بنتا ہے تو صرف دیواریں کھڑی نہیں کی جاتیں بلکہ رہائشی سکون کو یقینی بنانے کے لیے زمین کی فطری طاقتوں کو بھی ساتھ ملا لیا جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک شاندار طریقہ جیو تھرمل سسٹم ہے، جو زمین کے نیچے کے مستقل درجہ حرارت کو استعمال میں لاتا ہے۔ زمین کی ایک میٹر گہرائی میں درجہ حرارت تقریباً 15 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔ اگر اسی گہرائی پر ایک بڑا پائپ بچھا دیا جائے جس کا ایک سرا کھلی فضا میں اور دوسرا گھر کے کمرے سے جڑا ہو، تو ایک چھوٹے پنکھے کے ذریعے گزرنے والی ہوا نہ صرف سردیوں میں گرمائش فراہم کرے گی بلکہ گرمیوں میں ایسی ٹھنڈک دے گی جیسے کسی اے سی سے نکلی ہوا ہو۔
یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ہوا جب زیرِ زمین پائپوں سے گزرتی ہے تو اس کا درجہ حرارت مٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ یوں سردیوں میں ٹھنڈی ہوا معتدل ہو کر نسبتاً گرم ہو جاتی ہے، اور گرمیوں میں جھلسا دینے والی گرمی زمین کے نیچے کی ٹھنڈک سے ٹکرا کر خوشگوار ہو جاتی ہے۔ اگر اس نظام کو ہیٹ ایکسچینج وینٹیلیشن کے ساتھ ملا دیا جائے تو توانائی کے ضیاع میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آ سکتی ہے۔
فوائد
ایئر کنڈیشنرز اور بھاری بھرکم ہیٹروں پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔
بجلی اور ایندھن کی بچت ہوتی ہے، یوں کاربن فٹ پرنٹ بھی گھٹتا ہے۔
یہ نظام ہر موسم میں آرام دہ ماحول فراہم کرتا ہے۔
طویل مدتی اعتبار سے یہ سرمایہ کاری انتہائی منافع بخش ہے۔
چیلنجز
مانا کہ ابتدا میں کھدائی اور پائپ بچھانے پر لاگت زیادہ آتی ہے، لیکن یہ وقتی بوجھ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ دہائیوں سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے ہاں ابھی تک گھروں کو ایسے بنایا جاتا ہے جیسے پولخوانہ جیلیں ہوں، جہاں نہ ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی درجہ حرارت کو قابو کرنے کا کوئی انتظام۔
ہمارا راستہ
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے انجینئر اور ماہرین تعمیرات محض سیمنٹ اور لوہے کے ڈبے بنانے کے بجائے قدرتی اصولوں پر مبنی جدید ٹیکنالوجی کو گھروں کے ڈیزائن میں شامل کریں۔ اگر ہم اپنے گھروں کو زمین کی اس فطری ٹھنڈک اور حرارت سے جوڑ لیں تو نہ ہمیں لکڑی کھانے والی بڑی بخاریوں کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی بجلی چوسنے والے ایئر کنڈیشنرز کی۔
خلاصہ یہ ہے کہ زمین کے اندر چھپی یہ ٹھنڈک اور حرارت ہمارے گھروں کو جنت نظیر بنا سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنے انجینئرز سے سوال کریں اور ان سے تقاضا کریں کہ وہ گھروں کو زندان نہیں، مسکن بنائیں۔
02/04/2023
Demage in Roof
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Website
Address
Islamabad