JUI Answers Back

JUI Answers Back

Share

04/07/2026

ملاکنڈ پر ٹیکسوں کا نفاذ: کیا ریاست زمینی حقائق سے صرفِ نظر کر رہی ہے؟

سوات میں جمعیت علمائے اسلام (ف) خیبر پختونخوا کے صوبائی نائب امیر اور سابق رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا مفتی فضل غفور کی حالیہ پریس کانفرنس نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے کو ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اگرچہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں سے اس حساس مسئلے پر مؤثر ردعمل کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن عملی طور پر سب سے واضح اور منظم مؤقف جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے سامنے آیا۔ یہ پریس کانفرنس محض ایک جماعتی بیان نہیں بلکہ ملاکنڈ کے عوام کے ان خدشات کی ترجمانی تھی جو نئے مالی سال کے بجٹ کے بعد مسلسل شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

مولانا مفتی فضل غفور نے واضح کیا کہ اجلاس کا واحد ایجنڈا مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں ملاکنڈ ڈویژن پر مختلف اقسام کے ٹیکسوں کے نفاذ اور کسٹمز ایکٹ کی توسیع کا جائزہ لینا تھا۔ ان کے مطابق ان اقدامات نے پورے ملاکنڈ ڈویژن میں بے چینی، اضطراب اور شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک مالیاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کی آئینی، معاشی اور تاریخی حیثیت سے جڑا ہوا معاملہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ملاکنڈ ڈویژن آئینِ پاکستان کے تحت پروونشلی ایڈمنسٹرڈ ٹرائبل ایریا (PATA) کی خصوصی حیثیت رکھتا تھا۔ جب 27 مئی 2018ء کو فاٹا کے انضمام کے ساتھ اس خصوصی آئینی حیثیت کو بھی عملاً ختم کیا گیا تو جمعیت علمائے اسلام نے اس وقت بھی اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت دیگر سیاسی جماعتوں نے اس تبدیلی کی حمایت کی، لیکن آج اسی فیصلے کے نتائج ملاکنڈ کے عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں، جن میں کسٹمز قوانین کی توسیع اور نئے ٹیکسوں کا نفاذ نمایاں ہیں۔

یہ مؤقف اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی خطے میں ٹیکس نافذ کرنے سے پہلے وہاں کے معاشی حالات، عوام کی قوتِ خرید اور ریاست کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکس صرف اس لیے قبول کیے جاتے ہیں کہ ان کے بدلے شہریوں کو امن، بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع اور بہتر انفراسٹرکچر میسر آتا ہے۔ اگر ریاست اس سماجی معاہدے کو پورا نہ کر سکے تو ٹیکس عوام کی نظر میں مالی ذمہ داری کے بجائے اضافی بوجھ بن جاتے ہیں۔

مولانا فضل غفور نے ملاکنڈ کی معاشی تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اس خطے میں غربت کی شرح پچاس سے ساٹھ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کے لیے بیرونِ ملک مزدوری کرنے پر مجبور ہے، جبکہ گیارہ لاکھ سے زائد بچے آج بھی تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ 1947ء سے 1969ء تک جب ملک کے دیگر علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری ہو رہی تھی، ملاکنڈ ڈویژن ان وسائل سے محروم رہا، اور بعد ازاں دہشت گردی، فوجی آپریشنز، زلزلوں اور تباہ کن سیلابوں نے اس خطے کی معیشت کو مزید کمزور کر دیا۔

انہوں نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بھی تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، شاہراہوں پر مسافروں اور تاجروں کو خطرات لاحق رہتے ہیں، اور بونیر کی بین الصوبائی شاہراہ پر حالیہ وارداتیں اس عدم تحفظ کی واضح مثال ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں عوام پر مزید ٹیکس عائد کرنا نہ صرف معاشی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ اس سے عوام میں احساسِ محرومی اور ریاست پر عدم اعتماد بھی بڑھ سکتا ہے۔

پریس کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام کی پارلیمانی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مولانا عطاء الرحمٰن کی جانب سے سینیٹ میں اور محترمہ نعیمہ کشور کی جانب سے قومی اسمبلی میں اس معاملے پر توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرانے کو انہوں نے ملاکنڈ کے عوام کی مؤثر نمائندگی قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ملاکنڈ ڈویژن سے منتخب تمام گیارہ ارکانِ قومی اسمبلی اور اٹھائیس ارکانِ صوبائی اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اس مسئلے پر متحد ہوں اور عوام کی مشترکہ آواز بنیں۔

مولانا فضل غفور نے ملاکنڈ کے عوام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو معمولی نہ سمجھیں بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے منظم اور پُرامن جدوجہد کریں۔ انہوں نے پانچ تاریخ کو تاجروں کی جانب سے اعلان کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اور اس سے وابستہ بزنس فورم اس تحریک میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ مزید برآں، جماعت کی تمام ضلعی، تحصیل اور مقامی تنظیموں کو ہدایت دی گئی کہ وہ عوامی آگاہی مہم چلائیں اور آل پارٹیز کانفرنسوں کے ذریعے تمام سیاسی قوتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کریں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے محصولات میں اضافے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ پالیسی سازی زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔ ملاکنڈ جیسے علاقے، جو دہائیوں سے پسماندگی، بدامنی اور قدرتی آفات کے اثرات جھیل رہے ہیں، ان کے لیے یکساں مالیاتی پالیسی کے بجائے خصوصی حکمتِ عملی اختیار کرنا زیادہ دانشمندانہ معلوم ہوتا ہے۔

حکومت کے لیے بہتر راستہ یہی ہوگا کہ وہ اس معاملے کو محض ریونیو کا مسئلہ نہ سمجھے بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب نمائندوں، تاجروں، سیاسی جماعتوں اور مقامی قیادت سے بامعنی مذاکرات کرے۔ اگر ریاست ایک طرف ٹیکس نافذ کرے اور دوسری طرف اسی تناسب سے ترقیاتی پیکیج، روزگار کے مواقع، امن و امان کی بہتری، تعلیمی سہولیات اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی فراہم کرے تو عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ خدشہ برقرار رہے گا کہ یہ فیصلہ محض محصولات میں اضافے کا ذریعہ تو بن سکتا ہے، لیکن عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مزید وسیع کر دے گا۔
محمد امین اسد

Want your business to be the top-listed Media Company in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Islamabad