Legal Rights Insight

Legal Rights Insight

Share

08/03/2026

مرد کے لیے نئی کار پہلی گرل فرینڈ کی طرح ہوتی ہے :
لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے کاریں بنانے والی کمپنی انڈس موٹرز کو حکم دیا ہے کہ صارف کو ناقص گاڑی فراہم کرنے پر ہرجانہ ادا کیا جائے۔
جسٹس سہیل ناصر نے 18 صفحات کے فیصلے کے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ ’نئی کار پہلی گرل فرینڈ کی طرح ہوتی ہے جو آپ کو زندگی کے خوشگوار احساسات سے متعارف کراتی ہے مگر اس کے دور ہو جانے پر اس کی یاد ستاتی ہے۔‘

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صارف ملک اشفاق احمد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جن کی نئی ٹویوٹا کرولا کار جو انہوں نے انڈس موٹرز کے ڈیلر سے ملتان میں خریدی تھی فیوز باکس میں نقص کے باعث مکمل طور پر جل گئی۔
ملک اشفاق احمد نے کار جل جانے پر کمپنی کے خلاف ڈیرہ غازی خان کی صارف عدالت (کنزیومر کورٹ) سے رجوع کیا جس نے مارچ 2014 میں ان کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے انڈس موٹرز کو حکم دیا کہ 12 لاکھ 69 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرے۔
عدالت نے کار بیچنے والے ڈیلر کو بھی صارف کے قانونی چارہ جوئی پر اٹھنے والے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
کار بنانے والی کمپنی نے صارف عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔
ہائیکورٹ کے فیصلے میں مقدمے کے حقائق درج کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صارف ملک اشفاق نے 15 جنوری سنہ 2010 میں نئی کار خریدی تھی جو صرف 15 دن بعد یکم فروری کو اس وقت جل کر خاکستر ہو گئی جب وہ مظفر گڑھ میں اپنی زمینوں پر کام کر رہے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا تھا کہ کار میں آگ فیوز باکس کے ناقص ہونے کے باعث لگی۔ اور اس کی بجھانے کی کوشش میں صارف کا ہاتھ بھی جل گیا۔
دوران سماعت عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق کار میں آگ ایسے وقت لگی جب اس کا انجن بند تھا۔

مظفر گڑھ کے پولیس سٹیشن شاہ جمال میں مقدمہ درج کرنے کے بعد صارف ملک اشفاق جلی ہوئی کار کو ڈیلر کے پاس لے گئے جنہوں نے سروس ایڈوائزر (مکینک) سے معائنہ کرایا اور رپورٹ دی کہ گاڑی میں آگ فیوز باکس میں نقص کے باعث نہیں لگی تھی۔
عدالتی فیصلے کے ساتھ منسلک ریکارڈ کے مطابق صارف نے ڈٰیلر کے مکینک کی رپورٹ کو کنزیومر کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ہرجانے کی درخواست دائر کی۔
درخواست میں صارف ملک اشفاق نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کمپنی کو کار کی قیمت کے 13 لاکھ جبکہ ہاتھ جلنے کے علاج پر خرچ ایک لاکھ اور ذہنی اذیت کا شکار ہونے کے پانچ لاکھ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
کمپنی نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ کار کے فیوز باکس میں نقص نہ تھا اور یہ کہ صارف نے کار میں مقامی الیکٹریشن کی مدد سے تبدیلی کی تھی جس کے باعث آگ لگی۔
صارف عدالت کے حکم پر گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ملتان کے سینیئر انسٹرکٹر فار وہیکلز ملک بشیر احمد نے کار جلنے کے معاملے پر اپنی ماہرانہ رپورٹ بھی جمع کرائی تھی۔
عدالت نے فیصلے میں انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک بین الاقوامی کار ساز کمپنی کے خلاف دیے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سہیل ناصر نے انڈس موٹرز کی اپیل مسترد کرنے اور صارف عدالت کے حکمنامے کو برقرار رکھنے کے فیصلے میں سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے صارفین کے حقوق کے حوالے سے کانگرس میں کی گئی تقریر کے اقتباس بھی تحریر کیے ہیں۔
جسٹس سہیل ناصر کے فیصلے کے مطابق سابق امریکی صدر نے صارفین کے چار اہم حقوق گنوائے تھے جن میں حفاظت یا محفوظ رہنے کا حق، آگاہ کیے جانے کا حق، چننے کے اختیار کا حق اور سنے جانے کا حق شامل ہیں۔

اردو نیوز

25/12/2025

The Lahore High Court has given a very important decision on workplace harassment and it’s good news, especially for working women.

The court said something very clear : Harassment is about misuse of power, not about location. If a boss or senior harasses a junior employee through messages, phone calls, visits, or pressure outside the office, it is still workplace harassment. Abusers can no longer say, “It didn’t happen in the office, so it doesn’t count.”

Facts of the Case :
In this case, a government officer was removed from service for harassing a subordinate. He tried to challenge the decision, but the court rejected his plea and supported the findings of the Punjab Ombudsperson.

The court also made two important points:

1. Harassment inquiries are disciplinary, not criminal; so they can continue even if a criminal case is also going on.
2. Victims should not be forced to meet impossible standards of proof. Messages, patterns of behavior, and digital evidence matter.

This decision strengthens the Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010 and closes loopholes often used by powerful people to escape accountability.

10/12/2025

Thrilled to introduce an incredible member of our Round Table Dialogue Management Team.

Meet Aqsa Zahra, a brilliant Zoology student from Multan who somehow manages to balance her studies with her passion for creativity and community work. Aqsa has joined us at Legal Rights Insight Round Table Dialogue as part of the Management Team, and honestly, she has already become such an important part of what we do.

She’s the creative mind behind our branding and designs, the posters, the visuals, the little details that make our work stand out. Aqsa brings fresh ideas, positive energy, and a sense of ownership that truly makes a difference.

We’re really lucky to have her on board, and I can’t wait to see what we’ll create together in the coming days.

Round Table Dialogue is organized under Legal Rights Insight, with gracious sponsorship support from the National Alliance of Youth Associations and the Chanan Development Association, in collaboration with the Law College, University of Peshawar.

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Islamabad