Human Rights Protection Forum KPK Pakistan
30/01/2026
*شانگلہ: عوام برف میں محصور، ڈپٹی کمشنر دفتر میں گرم انگیٹھی کے مزے لیتے رہے*
شانگلہ
ضلع شانگلہ میں شدید سردی اور برف باری کے باعث عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں، مگر ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی ترجیحات کچھ اور ہی نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر شانگلہ اپنے سرکاری دفتر میں سردی سے بچنے کے لیے انگیٹھی کے ساتھ بیٹھے ہیں، جبکہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
تحصیل مارتونگ کی یوسی نصرت خیل، جہاں تیس ہزار سے زائد آبادی رہائش پذیر ہے، خراؤ روڈ سمیت وہاں کئی اہم رابطہ سڑکیں برف باری کے باعث بند پڑی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق کسی بھی قسم کی سرکاری مشینری برف ہٹانے کے لیے نہیں پہنچی، جس کے باعث ایمرجنسی مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
صوبائی صدر ہیومن رائٹس پروٹیکشن فورم خیبر پختونخوا
پاکستان تحریک انصاف ویلفیئر ونگ سینئر نائب صدر مالاکنڈ ڈویژن تاج شریف کا کہنا ہے کہ ایک طرف ڈپٹی کمشنر اپنے دفتر میں گرم ماحول میں بیٹھ کر سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف عوام شدید سردی، بھوک، علاج کی کمی اور راستوں کی بندش جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر ضلع کا مالک ہے یا عوام کا خادم؟ یا پھر وہ کسی سیاسی نمائندے کی طرح شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں؟
شہریوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لے اور پوچھے کہ ایسے حالات میں شانگلہ جیسے حساس اور پہاڑی ضلع میں اس نوعیت کے افسر کی تعیناتی کس بنیاد پر کی گئی۔ عوامی حلقوں کے مطابق موجودہ صورتحال شانگلہ کے عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔
اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ برف ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، ایمرجنسی میڈیکل سہولیات بحال کی جائیں اور ضلعی انتظامیہ کو عوام کے درمیان موجود ہو کر مسائل حل کرنے کا پابند بنایا جائے، نہ کہ بند کمروں میں بیٹھ کر سہولیات سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دی جائے۔
12/12/2025
شانگلہ کے برف پوش پہاڑوں میں انسانیت کا چراغ — ایک داستانِ خدمت
شانگلہ کی بلند و بالا پہاڑیوں کے بیچ ایک چھوٹا سا بستی نما علاقہ ہے *خراو*—ایک ایسا مقام جہاں تک پہنچنا عام انسان تو درکنار، کوئی سرکاری افسر بھی آج تک نہ جا سکا تھا۔ دسمبر کی کاٹتی ہوئی سردی، پہاڑوں کی ڈھلوانیں، کھڈوں میں اترتی برفانی ہوائیں، اور ایسے راستے جن پر قدم جمائے رکھنا بھی دشوار ہو—یہ سب کچھ اس وادی کو اُن علاقوں میں شمار کرتا ہے جہاں زندگی ہر روز اپنی بقا کا امتحان دیتی ہے۔
ان مشکلات کے بیچ سب سے زیادہ محرومی کا شکار وہ معصوم بچے ہیں جو اسکول اور مدرسے کے راستے سرد ہواؤں کو چیرتے ہوئے نکلتے ہیں—پھٹے ہوئے جرابیں، بغیر جیکٹ کے، بغیر سویٹر کے، بغیر کسی حفاظتی لباس کے۔ ان کی یہ حالت دل کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔
اسی دوران جب یہ خبر اسسٹنٹ کمشنر مارتونگ، شادمان صافی تک پہنچی تو اُن کے لیے یہ محض خبر نہیں تھی—یہ ایک پکار تھی۔ انہوں نے فوری سرکاری سطح پر مدد کی کوشش کی، مگر انتظامی پیچیدگیاں اور حالات کی کشیدگی کے باعث نتیجہ نہ نکل سکا۔ اس دوران خوش قسمتی سے اُن کی ملاقات *مسز تاج آفریدی اور تاج شریف* سے ہوئی—دو ایسے دل کے امیر انسان جنہوں نے بغیر کسی تاخیر کے سیکڑوں بچوں کے لیے گرم کپڑے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا تھا—کیونکہ خراوو تک پہنچنا آسان نہ تھا۔ اُس وقت شانگلہ میں امن و امان کی صورتحال نہایت نازک تھی، مختلف مقامات پر عسکریت پسندوں کے حملے ہو رہے تھے، اور راستے نہ صرف دشوار بلکہ غیر محفوظ بھی تھے۔ کسی سرکاری افسر کا وہاں جانا تقریباً ناممکن قرار دیا جا رہا تھا۔
مگر شادمان صافی نے فیصلہ کر لیا تھا: “اگر وہ بچے ہر روز ان راستوں سے گزر کر پڑھنے جاتے ہیں… تو میں ان تک پہنچنے سے کیسے رک سکتا ہوں؟”
اور پھر یہ سفر شروع ہوا—کچھ راستہ گاڑی سے، کچھ پیدل، اور کچھ حصے پہاڑوں کے پتھریلے سینے پر چڑھتے ہوئے۔ گھنٹوں کی مسلسل مشقت کے بعد آخرکار وہ خراوو پہنچ گئے۔
وہاں کے لوگوں نے اپنی غربت کے باوجود دل کھول کر مہمان نوازی کی۔ شادمان صافی نے لوگوں کے مسائل سنے، خاص کر روڈ کی تعمیر ، انہیں تحریر کیا، حکومت تک پہنچایا، اور ہمدردی کے ساتھ بچوں میں مسز تاج آفریدی اور تاج شریف کی جانب سے بھیجے گئے گرم کپڑے تقسیم کیے۔ یہ لمحہ صرف بچوں کی خوشی کا نہیں تھا، بلکہ شانگلہ کی تاریخ میں پہلی بار کسی سرکاری افسر کی اس علاقے تک رسائی کا اعزاز بھی تھا۔
لوگوں نے کہا:
“ہم نے ایسی توجہ اور محبت کبھی نہیں دیکھی۔”
یہ سفر صرف ایک دور دراز علاقے کی معاونت نہیں تھا—یہ اس سوچ کی جیت تھی کہ اگر نیت سچی ہو، تو پہاڑ بھی راستہ دے دیتے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ سال شانگلہ، بالخصوص پورن میں آنے والے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کے دوران شادمان صافی اُس وقت وزیرستان میں تعینات تھے، مگر پھر بھی وہاں سے این جی اوز کو متحرک کر کے شانگلہ کے متاثرین کے لیے امداد اور فری میڈیکل کیمپس کا انتظام کیا—گویا انسانیت کا رشتہ پوسٹنگ سے نہیں، دل سے بنتا ہے۔
آخر میں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسز تاج آفریدی، تاج شریف اور اسسٹنٹ کمشنر شادمان صافی جیسے ہمدرد اور فرض شناس لوگوں کو سلامت رکھے، ان کے قدم مضبوط کرے، اور ہمارے علاقوں میں ایسے افسران تعینات ہوں جو خدمت کو اختیار نہیں، عبادت سمجھتے ہیں۔
پاکستان زندہ باد
23/08/2025
وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کے دوران بہترین اور پیشہ وارانہ خدمات فراہم کرنے پر ملک شیر دل خان ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر شانگلہ کو خراج تحسین
23/08/2025
سوات سے تعلق رکھنے والے مرحوم محمد ابرار چٹان کی دختر نیلم چٹان اور پسر فہد چٹان سیلاب کے متاثرین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ دونوں ہر لحاظ سے کوشش کررہے ہیں۔ کہ اپنے بنائے ہوئے ٹیم کے ساتھ گھر گھر جا کر خوراک اور ضروریات کا سامان پہنچائے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Haripur