FAQR E IQBAL

FAQR E IQBAL

Share

17/04/2021

🇸‌🇺‌🇳‌🇩‌🇦‌🇾‌

*ᒍᗩᗯEᗪ* ♦️♦️♦️♦️ *ᑎᗩᗰᗩ* ( *ᖴᗩᖇᔕI* )

⭕ * #کُلیاتِ_اقبال_اتوار* ⭕
* #جـاویــدنـامــہ( #فــروری1932ء)*
💠 *فصل دہم فلکِ زحل* 💠
⁦♦️⁩⁦♦️⁩⁦♦️⁩⁦♦️⁩

💠 *فریاد یکے از ز ورق نشینان قلزم خونیں*
💠 *خون کے سمندر کی کشتی نشینوں میں سے ایک کی فریاد*

⁦♦️⁩⁦♦️⁩⁦♦️⁩⁦♦️⁩

⭕ * #شــعرنمبر9*⭕

*اے ہواۓ تند ! اے دریاۓ خوں !*
*اے زمیں ! اے آسمان نیلگوں !*

اے ہواۓ تند! اے دریاۓ خون! اے زمین ! اے آسمان نیلگون !

O stormy wind! O river (full) of blood! O Earth! O blue sky!

⭕ * #شــعرنمبر10*⭕

*اے نجوم ! اے ماہتاب ! اے آفتاب !*
*اے قلم ! اے لوحِ محفوظ ! اے کتاب !*

اے نجوم ! اے ماہتاب ! اے آفتاب! اے قلم! اے لوحِ محفوظ! اے کتاب!

O stars! O full moon! O sun! O Pen! O the Protected Holy Script! O Kitab (Qur’an)!

اے ستارو ! اے چاند اور اے سورج ! اے قلم ، اے لوحِ محفوظ اور اے کتاب !

🔸🔸🔸🔸

⭕ * #شــعرنمبر11*⭕

*اے بتان ابیض ! اے لردان غرب !*
*اے جہانے در بغل بے حرب و ضرب !*

اے سفید بُتو ! اے روسائے غرب !
تم جنہوں نے بغیر لڑائی کے ایک ایک جہان پر قبضہ جما لیا ہے۔

O Whiteman! O lords of the West! You who have conquered many lands without fighting a battle.

اے سفید بُتو ! یعنی مغرب کے امراء و رو رٶسا ! اے وہ کہ تم نے ایک دنیا کو کسی جنگ و جدل کے بغیر، اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے۔

🔸🔸🔸🔸

⭕ * #شــعرنمبر12*⭕

*ایں جہاں بے ابتدا بے انتہاست !*
*بندۂ غدار را مولا کجاست ؟*

ہمیں بتاؤ کہ تمہاری اس وسیع و عریض دنیا میں بندہ ء غدار کا سرپرست کہاں ملتا ہے۔

Tell us where can we find the patron of traitors.

یہ جہان بے ابتدا بھی ہے اور بے انتہا بھی (بے حد وسیع ہے) اس میں ایک غدار بندے کا آقا و مولا یا سرپرست کہاں ہے ؟

🔰🔰🔰🔰

⭕ * #شــعرنمبر13*⭕

*ناگہاں آمد صداۓ ہولناک*
*سینۂ صحرا و دریا چاک چاک !*

ایک دم صدائے ہولناک بلند ہوئی جس سے صحرا و دریا کا سینہ چاک چاک ہو گیا۔

Suddenly, a scaring thunder fell upon that split the desert and the sea into pieces.

اچانک ایک بھیانک آواز سنائی دی جس سے صحرا اور سمندر کا سینہ پھٹ کے رہ گیا۔

🔸🔸🔸🔸

⭕ * #شــعرنمبر14*⭕

*ربط اقلیم بدن از ہم گسیخت*
*دمبدم کہ پارہ بر کہ پارہ ریخت*

جس سے بدن کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے ؛ ہر لمحہ چٹانیں ایک دوسری پر گرنے لگیں۔

Body limbs limped because of that; the rocks started falling on each other continuously.

اس آواز سے جسم کی سلطنت کے باہمی ربط ٹوٹ کر رہ گئے (بدن کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے) اور مسلسل چٹان پر چٹان گرنے لگی۔

🔸🔸🔸🔸

⭕ * #شــعرنمبر15*⭕

*کوہ ہا مثل سحاب اندر مرور*
*انہدام عالمے بے بانگ صور !*

پہاڑ بادلوں کی مانند اڑنے لگے ؛ نفخِ صور کے بغیر ہی دنیا تہ و بالا ہونے لگے۔

Mountains started floating like clouds; the universe was turned upside down without blowing of Soor.

پہاڑ بادلوں کی طرح اڑنے لگے اور صور (وہ صور جو قیامت کے دن اسرافیل پھونکے گا) کی آواز کے بغیر ہی جہان تہ و بالا ہونے لگا۔

🔸🔸🔸🔸

⭕ * #شــعرنمبر16*⭕

*برق و تند راز تب و تاب دروں*
*آشاں جستند اندر بحر خوں*

برق و رعد بھی اپنی اندروں تپش کی وجہ سے اس بحر خون کے اندر امان ڈھونڈنے لگی۔

Because of the heat even lightening and the thunder started looking for refuge in the river of the blood.

آسمانی بجلی اور کڑک (بادل کی گرج ، رعد) اپنی اندرونی چمک دمک کی بنا پر خون کے سمندر میں اپنا آشیانہ (ٹھکانہ) تلاش کرنے لگی (اماں ڈھونڈنے لگی)۔

🔸🔸🔸🔸

⭕ * #شــعرنمبر17*⭕

*موج ہا پر شور واز خود رفتہ تر !*
*غرق خوں گردید آں کوہ و کمر !*

پر شور اور پر زور موجیں اٹھنے لگیں؛ اور وہ کوہ و کمر قُلزمِ خونیں میں غرق ہو گئے۔

Noisy waves started ragging and inundaunted the vallies and the mountains.

سمندر کی موجیں پر شور اور بے قابو ہو رہی تھیں وہاں کے پہاڑ اور گھاٹیاں خون میں ڈوب گئیں۔

🔸🔸🔸🔸

⭕ * #شــعرنمبر18*⭕

*آں چہ بر پیدا و ناپیدا گزشت*
*خیل انجم دید و بے پروا گزشت !*

عدم و وجود پر جو گزری ستاروں کے کاروان نے اسے دیکھا اور لا پروائی سے گزر گیا۔

The stars watched all that happerned to being and not-being and passed by unconcerned.

وہاں جو کچھ ظاہر و باطن پر گزرا اسے ستاروں کے لشکر نے دیکھا اور بے پرواہ ہو کر وہاں سے گزر گیا۔

🔰🔰🔰🔰

*اپــــنامــقــام_پــیـداکـــر*
*https://www.facebook.com/apnamukam

Want your school to be the top-listed School/college in Gujrat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Gujrat