Kashi Rent a Car
26/06/2024
میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں۔ لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے" کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں۔ قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن سج جاتے ہیں۔ آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے پہلے ہی خشک ہو جاتے ہیں۔۔۔ "چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔"
مرنے والا تو چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں؟
فرسودہ روایات کو بدلو۔ خیرات و ایصالِ ثواب کی حد تو ٹھیک ہے۔ لیکن یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو "روٹی کھا کے آنا؟"
قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں۔ دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں۔
خوشی، غمی ہر انسان کے ساتھ ہے۔ لیکن روایات کو بدلیں۔
فوتیدگی پر کھانے کی رسومات کو بند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں(k H)
29/09/2022
I agree with that
آج سے ٹھیک سو سال پہلے 1922 میں ایک برطانوی رائٹر نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ دوبارہ جب کیلنڈر پر 22 کا ہندسہ آئےگا تو یقیناً نہ اپ ہونگے نہ میں ہوں گا"
پھر مزید لکھا کاش عمر اتنا لحاظ رکھ لے کہ میں دوبارہ یہ ہندسہ دیکھ سکوں۔
ان لوگوں کو دیکھ سکوں جو 2022 میں ہونگے اس زمانے کو دیکھ سکوں
جو 2022 میں ہوگا مگر میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہے تب ہماری خبریں گمنام ہو چکی ہوں گی "
ساحر لدھیانوی جب بستر مرگ پر تھے، تو بند آنکھوں اپنے ڈاکٹر سے کہا "ڈاکٹر کپور میں جینا چاہتا ہوں"
زندگی نے بیشک غم دیے ہیں مگر دنیا خوبصورت جگہ ہے"
یہاں یاروں کی محفلیں ہیں" یہاں زندگی کا شور ہے" میں جینا چاہتا ہوں ڈاکٹر کپور"
22 کا ہندسہ جب سو سال بعد 2122 میں دوبارہ آئیگا " تو دوستوں یقیناً ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا"
ہماری قبریں قبرستانوں کے گنجان حصوں میں گم ہوچکی ہونگی، کچھ دھنسی ہوئی، کچھ اٹی ہوئی، دبی ہوئی۔
"لہٰذا کوشش کریں کہ یہ مختصر سا قیام خوشگوار گزر جائے"
کوئی روح کوئی جسم، ایسا نہ ہو جو زخم ساتھ لے کر جائے"
اور ان زخموں کا الزام ہمارے سر ہو"
سیاست کا میدان ہو یا خونی رشتوں کی کہانی، جہاں دیکھو وہیں نفرتوں، عداوتوں، عدم برداشت اور ایک دوسرے کی ناقدری کا جذبہ شدت سے زور پکڑتا نظر آتا ہے۔
احساس، محبت، چاہت اور خلوص سے عاری کھوکھلے رویے ہمیں نہ صرف خود سے بلکہ زندگی سے بھی دور کرتے جارہے ہیں۔
بقول شاعر:
*دھجیاں اڑنے لگیں انسانیت کی چارسو*
*دل درندہ ہوگیا انسان پتھریلے ہوئے*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
246 G B PurtapPura
Gojra
362100