Nagarians
قربانی کے دنوں میں اگر قصائی کی کمی ہو جائے تو کمپنی سے رابط کر لینا ۔
انکا کھال اتارنے کا 76 سالہ وسیع تجربہ ہے ۔
25/05/2026
حلقہ 5، آخر تک لازمی پڑھیں۔
جو لوگ کل تک مجلس وحدت المسلمین کے ٹکٹ کو “نیٹو کی ٹکٹ” کہہ کر طنز کا نشانہ بناتے تھے, آج وہی اسی ٹکٹ کو اپنے سیاسی بیانیے کی بنیاد بنا کر عوام کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور اب اندازِ گفتگو یہ ہے کہ ووٹ یا تو “ٹرمپ کے یاروں” کو جائے گا یا “رہبر کے جانثاروں” کو۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کو واقعی اس نہج پر لے جانا ضروری تھا جہاں اختلافِ رائے کو عقیدے اور وفاداری کے پیمانوں سے ناپا جائے؟
سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مذہب کو انتخابی مہم کا ہتھیار بنایا گیا، وہاں دلیل کمزور اور بیانیہ محدود ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ یہ طرزِ سیاست انہی حلقوں کی جانب سے سامنے آ رہا ہے جو خود کو جدید سیاسی سوچ، شعور اور بصیرت کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔
اگر اسی منطق کو مان لیا جائے تو پھر جو شخص انہیں ووٹ نہ دے، وہ “ٹرمپ کا ساتھی” اور جو ووٹ دے، وہ “رہبر کا جانثار” ٹھہرتا ہے۔ جبکہ حلقے میں “ٹرمپ کے یاروں” اور “رہبر کا جانثار” کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی موجود ہیں، جن کے اپنے ووٹرز اور سیاسی مؤقف ہیں۔
مگر عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہی لوگ چند ماہ پہلے تک نون لیگ کے دروازوں پر سیاسی قربتیں تلاش کر رہے تھے، اور آج انہی کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ “مریم کے پاپا چور ہیں” جیسے نعروں پر جشن منایا جا رہا ہے، جبکہ رہبرِ معظم کی تدفین بھی ابھی تک نہیں ہوئی۔ سوال پارٹی بدلنے کا نہیں، سوال اصولوں کی مستقل مزاجی کا ہے۔
کیا واقعی رہبر معظم کے نام کا تقاضا یہ ہے کہ مذہبی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے؟ کیونکہ یہاں محسوس یہی ہوتا ہے کہ مذہب کو دلیل کے طور پر نہیں بلکہ ایک جذباتی دباؤ اور سیاسی ہتھیار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بات ان کی طرف سے بارہا نجی محفلوں میں کہی گئی ہے کہ مجلس وحدت المسلمین کی ٹکٹ لینے کا اصل مقصد صرف یہ تھا کہ کسی اور کے حق میں دستبردار ہونے سے بچا جا سکے۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا کل کو معمولی سیاسی اختلاف پر یہی سفر کسی اور سمت اختیار نہیں کرے گا؟ کیونکہ ماضی کا سیاسی رویہ یہی اشارہ دیتا ہے۔
اور اب ذرا ان “بڑی سیاسی سوچ” رکھنے والوں کے منشور پر بھی نظر ڈال لیجیے۔ کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی دور اندیش قانون ساز یا سنجیدہ سیاسی نمائندہ بات کر رہا ہے۔ بلکہ زیادہ تاثر ایک ایسے فلاحی ماڈل (NGO) کا ملتا ہے جہاں سیاست اور نمائندگی کے بنیادی فرق کو نظرانداز کر دیا گیا ہو۔
چلیے عوام مان بھی لیتی ہے آپ کے “Vision 2031” کو، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آپ کا منشور, MWM کے منشور سے کس حد تک مختلف ہے؟ کیونکہ عملی طور پر اگلے پانچ سال آپ نے اسی جماعت کے منشور اور پالیسی کے مطابق کام کرنا ہے۔ آئینی اور جماعتی حیثیت سے ہر وہ امیدوار جو کسی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہو، وہ اپنی جماعت کے منشور کا پابند ہوتا ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آزاد امیدوار کے علاوہ کوئی بھی شخص الگ منشور بنا کر عوام کو متاثر تو کر سکتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنی پارٹی پالیسی سے ہٹ کر نہیں چل سکتا۔
لہٰذا مذہب اور معزز شخصیات کے نام پر جذباتی فضا قائم کرنے کے بجائے عوام کے سامنے واضح پالیسی، قابلِ عمل منشور اور حقیقت پسندانہ روڈ میپ پیش کیا جائے۔ کیونکہ اگر کوئی رہنما عوام کو صرف جذباتی نعروں اور وقتی جذبات کے ذریعے قائل کر کے اقتدار حاصل کر لیتا ہے، تو پھر اس کی اعلیٰ تعلیم اور عالمی اداروں سے حاصل کردہ تمام کامیابیاں محض ایک سند تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ “Democracy and Public Policy” جیسے مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اگر سیاست کا مقصد صرف طاقت کا حصول بن جائے اور اس کے لیے ہر مذہبی یا طاقتور حلقے کے سامنے جھکنا پڑے، تو پھر ایسے رہنما کا شمار بھی انہی روایتی سیاستدانوں میں ہوگا جو اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اور یہی رویہ ان کی تمام تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی تصور ہوگی۔
نوٹ: یہ تحریر کسی فرد کی کردار کشی یا ذاتی حملے کے لیے نہیں، بلکہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے سامنے چند بنیادی سوالات رکھنے کی ایک کوشش ہے۔
آج صفدر مرزا نے اپنے واضح اور دوٹوک مؤقف سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں اعلان کیا کہ “ہم کسی کے لیے ڈرا نہیں ہو رہے”، جو ان کی خودداری، عوامی اعتماد اور مضبوط سیاسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے رہنما ہی عوام کے حقیقی ترجمان ہوتے ہیں جو دباؤ یا مفاد کے بجائے اپنے نظریے اور عوامی فیصلے کو ترجیح دیتے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Gilgit
1510