SPU Commandos

SPU Commandos

Share

19/06/2026

**پاکستان کی ڈرون ٹیکنالوجی**

پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں ڈرون (UAV/UCAV) ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ یہ پروگرام ملکی دفاعی خودمختاری کو مضبوط کرنے، انٹیلی جنس، نگرانی، ریکنیسنس (ISR) اور محدود حملوں کے لیے اہم ہے۔

# # # اہم مقامی ڈرونز:
1. **براق (Burraq)**
- پاکستان کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ **مسلح ڈرون** (UCAV)۔
- NESCOM اور پاکستان ایئر فورس کے تعاون سے تیار کیا گیا۔
- 2013 میں فوج اور ایئر فورس میں شامل کیا گیا۔
- لیزر گائیڈڈ میزائل "برق" (Barq) سے لیس۔
- 2015 میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف پہلی بار عملی طور پر استعمال کیا گیا۔
- پرواز کا وقت: تقریباً 10 گھنٹے، اونچائی 15,000 فٹ تک۔

2. **شہپر سیریز (Shahpar)**
- **شہپر-I**: نگرانی اور جاسوسی کے لیے، 2012-13 میں متعارف۔
- **شہپر-II**: زیادہ جدید، 2021 میں انڈکٹ کیا گیا۔ اس میں خودمختار ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت ہے، SATCOM لنک (1500 کلومیٹر رینج) اور مسلح ورژن بھی دستیاب۔
- **شہپر-III**: MALE (Medium Altitude Long Endurance) ڈرون، طویل پرواز (30 گھنٹے تک)، بھاری پے لوڈ کی صلاحیت۔ جاسوسی، نگرانی اور حملوں کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔

یہ ڈرونز **Global Industrial & Defence Solutions (GIDS)** اور **NESCOM** کی زیر نگرانی تیار کیے جاتے ہیں۔

# # # اہم خصوصیات اور ترقی:
- پاکستان کا پروگرام 2009 کے آس پاس شدت سے شروع ہوا، اگرچہ ابتدائی کوششیں 1990 کی دہائی سے تھیں۔
- زیادہ تر اجزاء مقامی طور پر بنائے جاتے ہیں (انجن اور کچھ ٹائرز کے سوا)۔
- چین، ترکی اور دیگر ممالک سے تعاون بھی حاصل ہے (جیسے Bayraktar TB2، Wing Loong وغیرہ بھی حاصل کیے گئے ہیں)۔
- یہ ڈرونز سرحدی نگرانی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، قدرتی آفتوں میں امداد اور فوجی مشقوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

پاکستان اب **انڈیجینائزیشن** (ملکی پیداوار) پر زور دے رہا ہے تاکہ بیرونی انحصار کم ہو۔ IDEAS ایگزہیشن میں یہ ڈرونز باقاعدگی سے پیش کیے جاتے ہیں، جو عالمی سطح پر توجہ مبذول کرتے ہیں۔

**نوٹ**: دفاعی ٹیکنالوجی کی تفصیلات حساس ہوتی ہیں، اس لیے مکمل تفصیلات عوامی طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔ یہ معلومات عوامی ذرائع (Wikipedia، دفاعی ویب سائٹس اور رپورٹس) پر مبنی ہیں۔!

18/06/2026

**As of June 18, 2026 (intraday/real-time quotes vary by source and contract):**

- **Brent Crude Oil** (international benchmark): Approximately **$77.26 – $77.87 per barrel**, down roughly 1–2.9% on the day.

- **WTI Crude Oil** (U.S. benchmark): Approximately **$74.69 – $74.84 per barrel**, down around 2.5–2.7% on the day.

Prices have declined significantly in recent sessions, with Brent down over 30% in the past month amid easing geopolitical tensions.

# # # Context
Oil prices dropped after reports of a U.S.-Iran ceasefire agreement, which reduced supply disruption fears related to the Strait of Hormuz and Middle East tensions.

These are futures/spot prices and fluctuate continuously during trading hours. For the most precise live figures, check reliable sources like Bloomberg, Reuters, Trading Economics, or OilPrice.com.

16/06/2026

Special Services Group (SSG) of Pakistan is the elite special operations force of the Pakistan Army, often regarded as one of the premier special forces units in the world. Established in 1956 (with roots tracing back to the early 1950s), it was initially formed with assistance from the US Army Special Forces and draws from the Baloch Regiment.c9091b
Key Facts:
Nicknames: Maroon Berets (due to their distinctive headgear) and Black Storks.
Motto: "Man Jan Bazam" (Urdu for "I am valiant").
Headquarters: Ghazi Airbase, Tarbela, Khyber Pakhtunkhwa (with training facilities in Cherat).
Size: Approximately 3,000 personnel (estimates vary as much is classified).
Roles: Special operations, unconventional warfare, direct action, special reconnaissance, counter-terrorism, and foreign internal defense.
Insignia: Features a dagger with lightning bolts, worn on the left shoulder, paired with maroon berets and sky-blue accents.
The SSG has a storied history of participation in major conflicts, including the Indo-Pakistani Wars of 1965 and 1971, operations in Siachen, support in the Soviet-Afghan War, and extensive roles in Pakistan's counter-terrorism campaigns (such as Operation Zarb-e-Azb and Radd-ul-Fasaad). They are known for rigorous training in mountain, desert, airborne, and amphibious warfare, as well as high-risk missions like hostage rescue and sabotage.3408fd
The unit embodies discipline, bravery, and versatility, often compared to units like the US Green Berets or British SAS in capability and reputation.

15/06/2026

امریکہ اور ایران کے درمیان آج معاہدے پر پیش رفت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار
15 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ایک اہم میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MoU) یا فریم ورک معاہدے کا متن طے پا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کی تصدیق کی، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے "complete" قرار دیا۔ باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ (ممکنہ طور پر جنیوا) میں متوقع ہے۔ اس معاہدے میں سٹریٹ آف ہارموز کی فوری کھولی جانا، امریکہ کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، جنگ بندی (لبنان سمیت تمام محاذوں پر)، اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر مسائل پر مزید بات چیت شامل ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار:
پاکستان کی ثالثی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز) مرکزی اور سب سے اہم کردار ادا کرنے والے رہے۔ ان کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے:873541
لیڈ میڈیٹر: جنگ کے آغاز سے ہی منیر صاحب امریکہ اور ایران کے درمیان مرکزی رابطہ کار اور ثالث بنے۔ ان کی سابق انٹیلی جنس بیک گراؤنڈ، ایران سے اچھے تعلقات، اور امریکہ (خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ) کے ساتھ اعتماد کی وجہ سے دونوں فریق ان پر انحصار کرتے رہے۔ ٹرمپ نے انہیں "great general" اور "Field Marshal" کہہ کر تعریف کی۔
اہم دورے اور ملاقاتیں: انہوں نے متعدد بار تہران کا دورہ کیا (مئی 2026 میں اہم دورہ)، جہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اسلام آباد میں براہ راست بات چیت کی میزبانی بھی پاکستان نے کی۔
سیز فائر اور پیش رفت: اپریل 2026 میں عارضی سیز فائر حاصل کرنے، اور پھر جون میں حتمی متن طے کرنے میں ان کی براہ راست شمولیت رہی۔ انہوں نے چین، قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے کیے تاکہ معاہدے کو سپورٹ ملے۔
نتیجہ: پاکستان کی اس سفارتی کامیابی سے نہ صرف علاقائی جنگ روکی گئی بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر اہم ثالث کے طور پر پہچان ملی۔ محسن نقوی اور دیگر رہنماؤں نے بھی منیر صاحب کی "دنیا کے لیے" کوششوں کو سراہا۔
یہ معاہدہ حتمی امن کی طرف بڑا قدم ہے، تاہم جوہری پروگرام، پابندیاں اور علاقائی مسائل پر مزید بات چیت جاری رہے گی۔ تفصیلات تبدیل ہو سکتی ہیں کیونکہ عمل جاری ہے۔ پاکستان کی "نیوٹرل ثالث" کی حیثیت اس سے مزید مضبوط ہوئی ہے۔

Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Gilgit