Suno Gilgit-Baltistan

Suno Gilgit-Baltistan

Share

04/06/2026

سندھ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے کیس کے حوالے سے ایک نائیجیرین ہینڈلر اور 13 سپلائی والے رائیڈرز کو گرفتار کیا گیا ہے اور پنکی کی کوکین فیکٹری لاہور میں ہے۔

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرپرسن فریال تالپور کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزیر داخلہ، وزیر ایکسائز نارکوٹکس، اراکین کمیٹی برائے داخلہ، آئی جی سندھ ایڈشنل آئی جی کراچی، اے این ایف سمیت ودیگر حکام شریک ہوئے۔

سندھ پولیس نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ میں بتایا کہ انمول عرف پنکی کا نائیجیریا آنا جانا ہوتا تھا، ان کا نائیجیرین ہینڈلر کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا ہے اور انمول عرف پنکی کی کوکین کی فیکٹری لاہور میں تھی، میڈیا میں خبریں چل رہی ہیں کہ پنکی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے اور پنکی کے 13 سپلائی والے رائیڈرز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سندھ پولیس نے اجلاس میں اس معاملے پر کسی بھی اہم شخصیت کا نام سے انکار کر دیا جبکہ اپوزیشن کے اراکین نے پنکی کیس میں اہم شخصیات کے ملوث ہونے کے نام پبلک کرنے کا مطالبہ کردیا، جس پر وزیر داخلہ ضیا لنجار نے بتایا کہ ابھی کسی کا نام لینا قبل از وقت ہوگا، اس معاملے پر تفتیش جاری ہے۔

اجلاس میں رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل نے اہم قانونی نکتے پر اظہار خیال کیا کہ قانون میں لکھا ہے کہ ایسی کوئی چیز جس میں چونا، چھالیہ اور تمباکو شامل ہو وہ گٹکے میں شمار ہوتا ہے، اس حساب سے تو پان اور نسوار بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں، قانون میں چونے کے لفظ کو واضح استعمال نہیں کیا "لائم" لکھا گیا ہے، لائم کا مطلب حلیم پر لیموں نچوڑنے والا بھی پکڑا جائے گا، لفظ لائم اسٹون ہونا چاہیے، جس پر وزیر داخلہ نے قانون میں درست لفظ کے اندراج کی یقین دہانی کرادی۔

فریال تالپور نے ڈی آئی جی سکھر سے قمبر شہداد کوٹ اور دادو میں افیون کی کاشت سے متعلق سوال کیا کہ ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے بتایا کہ ان علاقوں میں جانا مشکل ہے تاہم ڈرون کے ذریعے اسپرے کررہے ہیں، رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے ضلع ایسٹ مین لڑکی کی گرفتاری سے متعلق نشان دہی کی۔

فریال تالپور نے ہدایت کی کہ اگر لڑکی کسی جرم میں گرفتار ہوئی ہے تو دیکھیں ورنہ فوری رہا کریں۔

رکن قومی اسمبلی آ غا رفیع اللہ نے کہا کہ ملیر کراچی کا سب سے بڑا ضلع ہے، نفری بہت کم اور وسائل کم ہیں، اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ بجٹ میں تھانوں کی تعداد بڑھانے اور وسائل بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

فریال تالپور نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائی اور تیز کریں کہیں ایسا نہ ہو یہ چیزیں آپ کے گھروں تک پہنچیں۔

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے بعد صوبائی وزیر ضیا الحسن لنجار نے میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں منشیات کے معاملے پر گفتگو ہوئی اور پولیس نے بریفننگ دی اور انمول عرف پنکی پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔

ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ حکومت سندھ نے نارکوٹکس فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے، نارکوٹکس محکمہ اور پولیس مل کر منشیات کے خلاف کام کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ نارکوٹکس محکمے کے حوالے سے پولیس کو بھی اختیارات دینے پر بات کی گئی، پنکی پر 28 کیس ہیں، 12 بارہ سندھ کے، ایک اے این ایف اور پانچ پنچاب کے کیس ہیں، پنکی کیس میں ملوث عناصر کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ فریال تالپور کے منشیات کے حوالے بہت سخت احکامات ہیں، تعلیمی اداروں کے حوالے سے اعلی سطح کی اختیاراتی کمیٹی بنا رہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ڈورنز کی خریداری کے لیے علیحدہ بجٹ رکھنے کی تجویز ہے، آئندہ بجٹ میں محکمہ داخلہ کے ماتحت ڈورون فورس بنائی جائے گی۔

04/06/2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں اعلیٰ اختیاراتی سعودی تجارتی وفد نے آج وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

وزیراعظم نے سعودی وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری کی شکل دینے کا خواہاں ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے اکتوبر 2025ء میں شہزادہ منصور اور سعودی تجارتی وفد کے دورہ پاکستان کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ موجودہ دورہ دونوں فریقین کو مختلف شعبوں میں بات چیت اور مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے خادمین حرمین شریفین کنگ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

شہزادہ منصور نے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور سعودی حکومت کے ساتھ ساتھ کاروباری برادری کی پاکستان کے ساتھ متعدد شعبوں میں B2B روابط کو بڑھانے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بندرگاہوں، شاہراہوں، ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ، توانائی، بجلی کی تقسیم، آئی ٹی سیکٹر وغیرہ سے متعلق منصوبوں میں سرمایہ کاری میں سعودی دلچسپی کا اظہار کیا۔

04/06/2026

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ سے قبل کابینہ کی اقصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) کا اہم اجلاس جمعے کو طلب کر لیا، جس میں اربوں روپے کے اضافی فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق ای سی سی کے اجلاس میں پائیدارترقیاتی اہداف پروگرام کے لیے7 ارب روپے سے زائد گرانٹ پر غور ہو گا، پاکستان لینڈ پورٹس اتھارٹی کے لیے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے گرانٹ کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نیکٹا کے لیے 15 کروڑ روپے اضافی فنڈز کی منظوری پر بھی غور کیا جائے گا، ریکوڈک منصوبے کی سیکیورٹی ادائیگی کے لیے 41 کروڑ روپے سے زائد گرانٹ، کراچی اور حیدرآباد پیکج کے ترقیاتی فنڈز کی منتقلی کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کے خصوصی پروگرام فنڈز کی منتقلی ایجنڈے کا حصہ ہے، پاکستان منٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے ایک ارب 30 کروڑ روپے گرانٹ کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔

ای سی سی کے اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسلام آباد امن مذاکرات کی سیکیورٹی کے لیے 69 کروڑ روپے مانگ لیے گئے ہیں، پی ایس او کے لیے سنڈیکیٹڈ فنانسنگ سہولت پر غور کیا جائے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ آئل ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے سے متعلق معاہدہ ایجنڈے میں شامل ہے، مختلف وزارتوں کے لیے ضمنی گرانٹس اور اضافی فنڈز کی منظوری بھی متوقع ہے۔

04/06/2026

ملک بھر کی سرکاری جامعات میں کام کرنے والی سائنسی محققین کی تنخواہیں 5 برس سے جمود کا شکار ییں اور فنانس ڈویژن ان ریسرچرز کی تنخواہیں بڑھانے کو تیار نہیں۔

ذرائع سے اطلاع ہے کہ نئے بجٹ میں بھی ان کی تنخواہوں میں پی ایچ ڈی سمیت دیگر الاؤنسز شامل نہیں کیے جا رہے اور ان ریسرچرز کی تنخواہوں میں مسلسل جمود اور آنے والے بجٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے سبب ملک سے ان قابل ترین افراد کے برین ڈرین کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور خدشہ ہے کہ جیسے جیسے ان ریسرچرز کو مواقع میسر آئیں گے یہ اپنی خدمات ملک سے باہر دینے پر ترجیح دیں گے۔

معاشی مشکلات میں گھرے محققین تنخواہیں نہ بڑھنے سے ریسرچ کے بجائے دیگر پروجیکٹس کرنے پر مجبور ہیں۔

ایکسپریس کو ٹینیور ٹریک سسٹم پر کام کرنے والے ایک ریسرچر نے بتایا کہ ’’اب ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایچ ای سی سمیت دیگر اداروں سے مختلف سائنسی پروجیکٹ لے کر اپنا گزر بسر کریں، اس سے ہمارا بنیادی ریسرچ ورک بھی متاثر ہوتا ہے لیکن ہم مجبور ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ معروف سائنسدان اور سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے ان ریسرچرز کو ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) کے تحت جامعات میں مقرر کیا تھا اور ان میں سے بیشتر ریسرچرز بیرون ملک سے پی ایچ ڈی ہیں تاہم تنخواہیں نہ بڑھنے سے بہت سے محققین جامعات سے ریسرچ ورک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اب صرف 3600 ریسرچرز باقی بچے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ تقرری کے وقت ان ریسرچرز کی تنخواہیں بی پی ایس اسکیل سے دگنی تھیں کیونکہ ان کے کارکردگی کے پیمانے بی پی ایس اساتذہ کے مقابلے میں انتہائی سخت تھے جبکہ ان کی پرفارمنس رپورٹ پر ریویو بھی ہر 3 سال بعد غیر ملکی سائنسدانوں سے کرایا جاتا رہا تاہم اب 5 برس سے تنخواہیں نہ بڑھنے سے ان کی تنخواہیں بی پی ایس کی آدھی رہ گئی ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں قائم پلاننگ کمیشن کی ٹاسک فورس ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہیں 35 فیصد پریمیئم کے ساتھ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے بی پی ایس کے مساوی کرنے کی سفارشات رواں سال مارچ میں ہی دے چکی ہے جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، پلاننگ کمیشن کی ان سفارشات کی منظوری دے چکی ہے اور قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں فنانس ڈویژن کو اس امر کا پابند کیا گیا تھا کہ دیے گئے فارمولے کے تحت ہی ٹی ٹی ایس ریسرچرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔

مزید یہ کہ ایچ ای سی کی جانب سے اس معاملے پر فنانس ڈویژن کو خط بھی لکھا جا چکا ہے تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ فنانس ڈویژن ان سفارشات کو قبول کرنے کے لیے راضی نہیں۔

واضح رہے کہ نئے اسکیل پر کام کرنے والے جامعات میں بی پی ایس کے ایک پروفیسر 5 لاکھ کے لگ بھگ جبکہ ٹی ٹی ایس کا پروفیسر ٹیکس کٹوتی کے بعد ساڑھے 3 لاکھ کے قریب تنخواہ لیتا ہے۔

بی پی ایس کا ایسوسی ایٹ پروفیسر 4 لاکھ جبکہ ٹی ٹی ایس کا ڈھائی لاکھ کے قریب تنخواہ لے رہا ہے۔ بی پی ایس کا اسسٹنٹ پروفیسر سوا 3 لاکھ جبکہ ٹیکس کے بعد ٹی ٹی ایس کا اسسٹنٹ پروفیسر ڈیڑھ لاکھ تنخواہ لے رہا ہے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹی ایس نظام کے تحت کراچی میں جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آئی بی سی سی ایس میں کئی ایسے ریسرچرز موجود ہیں جو اعلیٰ معیار کی ریسرچ کر رہے ہیں تاہم ان کی تنخواہیں جمود کا شکار ہیں۔

04/06/2026

ایف بی آر نے دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے نئی اسکیم تیار کرلی ہے، جس کا باضابطہ اعلان وفاقی بجٹ 2026-27 میں متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ اسکیم پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، جس کے تحت 2 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار کرنے والے تاجر اسکیم کے اہل ہوں گے، جبکہ کم از کم 3 سال سے کاروبار کرنے والے افراد بھی اس میں شامل ہو سکیں گے۔

رجسٹریشن آئیرس پورٹل، موبائل ایپ یا ٹیکس سہولت کاروں کے ذریعے ممکن ہوگی، اور اسکیم میں شمولیت رضاکارانہ ہوگی تاہم درست مالی ریکارڈ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اہل تاجروں کے لیے نسبتاً کم اور آسان ٹیکس شرح متعارف کرانے کی تجویز ہے، جبکہ مقررہ حد سے زائد آمدن پر ہی ٹیکس واجب الادا ہوگا۔ اسکیم میں شامل افراد کو عمومی طور پر آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم غیر معمولی مالی سرگرمیوں یا آمدن میں تضاد کی صورت میں آڈٹ کیا جا سکے گا۔

تاجروں کو فروخت، خریداری اور اخراجات کا سادہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ بعض چھوٹے کاروباروں کو پی او ایس اور ڈیجیٹل انٹیگریشن سے استثنا ملنے کا امکان ہے۔

فعال ٹیکس دہندگان کو اے ٹی ایل، کم ودہولڈنگ ٹیکس اور بہتر مالی ساکھ جیسے فوائد حاصل ہوں گے، تاہم قواعد کی خلاف ورزی، آمدنی چھپانے یا ریٹرن جمع نہ کرانے پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

اسکیم کا مقصد معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دینا اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو بڑھانا ہے، جبکہ بینک لین دین کا ظاہر کردہ آمدن اور کاروباری سرگرمیوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہوگا۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Shahrah-e-Quaid-e-Azam
Gilgit
15100