Ikram Afzal
29/05/2026
اکثر ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سوچ پائی جاتی ہے کہ بڑے چاہے کچھ بھی کہیں، چھوٹوں کو خاموش رہنا چاہیے۔ اگر کوئی اپنی عزتِ نفس کے لیے کھڑا ہو جائے، اپنی تذلیل برداشت کرنے سے انکار کر دے، تو فوراً کہا جاتا ہے کہ “اب بچوں میں ادب نہیں رہا” یا “یہ تو بڑوں کی بے عزتی کر رہا ہے۔”
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت صرف عمر سے نہیں، رویّے سے بھی ملتی ہے۔
بزرگ ہونا یقیناً احترام کے قابل ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ چھوٹوں کے جذبات، خودداری اور حقوق کی کوئی اہمیت ہی نہ رہے۔ جب بڑے اپنی بات منوانے کے لیے طنز، تحقیر، بددعاؤں، یا مسلسل ذلیل کرنے کا سہارا لیتے ہیں، تو وہ دراصل اپنے رتبے کی خوبصورتی کھو دیتے ہیں۔ اور جب کوئی چھوٹا صرف اتنا کہتا ہے کہ “مجھے اس انداز میں بات پسند نہیں” تو اسے بدتمیز قرار دے دیا جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر چھوٹوں سے ہر قربانی، ہر سمجھوتہ اور ہر خاموشی کی توقع رکھی جاتی ہے۔ ان کی تکلیف کو ضد، ان کے مؤقف کو گستاخی، اور ان کی خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ عمر بھر اپنے ہی گھروں میں عزت اور سکون کے لیے ترستے رہتے ہیں۔
یاد رکھیں، تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی عزتِ نفس قربان کر دے۔ ادب کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم برداشت کیا جائے۔ اور بڑوں کا احترام اپنی جگہ، مگر چھوٹوں کی دل آزاری کبھی جائز نہیں ہو سکتی۔
جو بڑے واقعی بڑے ہوتے ہیں، وہ اپنے سے چھوٹوں کی عزت 💯چھینتے نہیں، بلکہ انہیں اعتماد، محبت اور تحفظ دیتے ہیں۔
#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟
29/05/2026
والدین کا اولاد کے ساتھ صرف ایک رشتہ نہیں ہوتا، وہ اُن کی پہلی دنیا، پہلا سکون اور پہلی پہچان بھی ہوتے ہیں۔ صرف بچوں کو پیدا کر دینا، اُن کی ضروریات پوری کر دینا یا اچھی تعلیم دلوا دینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اُن کے دل اور ذہن کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ بہت سے بچے گھر میں سب کچھ ہونے کے باوجود اندر سے اکیلے ہوتے ہیں، کیونکہ اُن کے پاس کوئی ایسا نہیں ہوتا جس سے وہ کھل کر اپنی بات کر سکیں۔
اکثر والدین صرف یہ دیکھتے ہیں کہ بچہ کھا پی رہا ہے، پڑھ رہا ہے، یا گھر کے اصول مان رہا ہے، مگر وہ یہ نہیں پوچھتے کہ اُس کے دل میں کیا چل رہا ہے۔ وہ کس بات پر خاموش ہے، کس چیز سے ڈرتا ہے، کیوں اداس رہتا ہے، یا کون سا خواب صرف اس لیے دبا رہا ہے کہ اُسے ڈر ہے کہ شاید اُس کی بات کو سمجھا نہیں جائے گا۔
بچے ہر وقت ضد یا نافرمانی نہیں کرتے، کبھی کبھی اُن کی خاموشی بھی ایک سوال ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی اُنہیں سنے، اُنہیں سمجھے، اُن پر غصہ کرنے کے بجائے اُن کے احساسات کو اہمیت دے۔ جب والدین صرف حکم دینے والے بن جاتے ہیں تو بچے اپنے دل کی باتیں چھپانا سیکھ لیتے ہیں۔ پھر وہ اپنی پریشانیاں اکیلے برداشت کرتے ہیں، اپنی الجھنیں خود سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں، اور آہستہ آہستہ گھر میں رہتے ہوئے بھی فاصلے محسوس کرنے لگتے ہیں۔
دوستانہ رویہ بچوں کو بےادب نہیں بناتا، بلکہ انہیں اعتماد دیتا ہے۔ جب ایک بچہ یہ جانتا ہو کہ اُس کے والدین اُس کی بات بغیر ڈر اور فیصلے کے سنیں گے، تو وہ غلط راستوں پر کم جاتا ہے۔ کیونکہ جس بچے کو گھر میں سمجھنے والے لوگ مل جائیں، وہ باہر ہر کسی کے سامنے دل نہیں کھولتا۔
اولاد کو صرف نصیحتوں کی نہیں، وقت، توجہ اور محبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی اُن سے پوچھ لیا کریں کہ وہ واقعی کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ کبھی بغیر ڈانٹے اُن کی بات سن لیا کریں۔ کبھی صرف ماں باپ بننے کے بجائے اُن کے دوست بھی بن جایا کریں۔ کیونکہ بعض اوقات ایک نرم لہجہ، ایک سوال، یا چند منٹ کی توجہ ایک بچے کو اندر سے ٹوٹنے سے بچا لیتی ہے۔,💯
#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit
14/01/2025