GB Digital
قید ناحق ، صحافی عدنان راوٹ کے سنگین جرائم کی فہرست !
مردہ ضمیر قوم کی آواز ۔۔۔ ایسے قوم جس کے بارے میں " میجر براؤن " نے اپنی کتاب میں لکھا ہے
گلگت بلتستان کی قوم شعور سے خالی مگر جنگجو قوم ہے !
کیا دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں عوامی حقوق اور بنیادی سہولیات مانگنے پر " دہشتگردی ATA " لگا دیا جاتا ہے ؟
کیا سوال پوچھنا جرم ہے ؟
کیا سوال پوچھنے پر 28 روزہ جسمانی ریمانڈ دی جاتی ہے ؟
عدنان راوٹ کے صحافتی سفر پر مختصر ڈاکومینٹری
صرف سچ اور حق لکھنے کے پاداش میں عدنان راوٹ کی 28 روزہ جسمانی ریمانڈ سمجھ سے بالاتر ہے ۔۔۔
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نا نکلا کر ۔۔۔
13/04/2026
خبر ۔۔۔۔ صحافی عدنان راوٹ کی 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر کورٹ پیش کیا گیا تھا تاہم جج انسداد دہشتگردی نے ریمانڈ میں توسیع دیتے ہوئے مزید 14 دن جسمانی ریمانڈ کا حکم دے دیا
27 اپریل کو دوبارہ پیش کیا جائے گا
13/04/2026
14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر صحافی عدنان راوٹ کو آج انسداد دہشتگردی عدالت پیش کردیا جائے گا
11/04/2026
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
03/04/2026
قلم، قانون اور ذمہ داری
اقبال بجاڑ
“جب سوال جرم بن جائے تو خاموشی سب سے بڑا خطرہ بن جاتی ہے”
ریاستی نظم و ضبط اور آزادیٔ اظہار کے درمیان توازن کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہی توازن اس وقت زیرِ بحث آتا ہے جب ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ جیسے افراد کے خلاف مختلف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو اور معاملہ تفتیش کے مراحل سے گزر رہا ہو۔ حالیہ نوعیت کے کیسز میں PPC 153-A، PPC 505، PPC 117 کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ جیسے قوانین کا اطلاق ایک حساس بحث کو جنم دیتا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ قانون کا احترام ہر شہری پر لازم ہے اور کسی بھی مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کسی بھی فرد، بالخصوص ایک صحافی، کو اس کے پیشے اور اظہارِ رائے کے تناظر میں دیکھا جائے۔ ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ کا معاملہ بھی اسی زاویے سے توجہ کا متقاضی ہے، جہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا ان کی سرگرمیاں صحافتی دائرہ کار میں آتی ہیں یا انہیں کسی اور انداز میں تعبیر کیا جا رہا ہے۔
صحافت کا بنیادی مقصد معلومات کی فراہمی اور عوامی شعور کو اجاگر کرنا ہے۔ اس تناظر میں اگر کوئی صحافی کسی معاملے پر اپنی رائے دیتا ہے یا رپورٹنگ کرتا ہے تو اسے فوری طور پر اشتعال انگیزی یا خوف پھیلانے کے تناظر میں دیکھنا ایک حساس معاملہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں توازن اور احتیاط دونوں ضروری ہو جاتے ہیں۔
ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ کی گرفتاری اور طویل جسمانی ریمانڈ نے میڈیا حلقوں میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف ایک فرد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر صحافتی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگر صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں تو اس کے اثرات عوام تک معلومات کی ترسیل پر بھی پڑتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی ضروری ہے کہ ہر کیس کو اس کے شواہد اور حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ عدالتوں اور تفتیشی اداروں کو اپنا کام کرنے کا موقع دینا انصاف کے تقاضوں میں شامل ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران بنیادی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور اسے ایک تعمیری بحث میں تبدیل کرنا ہی ترقی کی علامت ہوتا ہے۔ ایسے میں ویلاگر اور صحافی عدنان راوٹ جیسے کیسز ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم بطور معاشرہ اظہارِ رائے اور قانون کے درمیان توازن کیسے قائم کر رہے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قانون کی بالادستی اور آزادیٔ اظہار دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک متوازن نظام کے دو اہم ستون ہیں۔ اگر ان کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھی جائے تو نہ صرف انصاف مضبوط ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی زیادہ باشعور اور مستحکم بنتا ہے۔
03/04/2026
رہنما پاکستان مسلم لیگ ن ظفرمحمد شادم خیل نےکہا ہے کہ صحافی عدنان راوٹ کی گرفتاری ایک افسوسناک اور قابلِ تشویش اقدام ہے، جو آزادیٔ صحافت پر ایک واضح حملہ محسوس ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی کے خلاف بے بنیاد مقدمہ قائم کرنا نہ صرف انصاف کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ یہ عمل جمہوری اقدار کو بھی کمزور کرتا ہے۔
میں اس گرفتاری کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ عدنان راوٹ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم کیا گیا بے بنیاد کیس واپس لیا جائے۔ صحافیوں کو سچ بیان کرنے اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے پر ہراساں کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں آزادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کا موقع دیا جائے۔ ایسے اقدامات نہ صرف میڈیا کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات پر بھی قدغن لگاتے ہیں۔
میں صحافی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ ہر سطح پر ان کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔
لندن میں موجود معروف ولاگر سارہ میر نے حق پرست صحافی عدنان راوٹ کے حق میں آواز بلند کردیں
راجہ عابد محفوظ نے عدنان راوٹ کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف آواز بلند کردی
03/04/2026
گلگت بلتستان میں موجود مصلحتوں کے شکار صحافی جو کئی کلو میٹر کا سفر کرکے " ایک سراغ " کے اوپر تحقیقی رپورٹ بنا رہے تھے ، اپنے پیٹی بند ساتھی کے حق میں ایک علامتی احتجاج کرنے سے خوف زدہ کیوں ہے ؟
اس لئے کہ ایشو مرکزی سطح پر ہائی لائٹ نہ ہو ؟ یا اس لئے کہ کئی سے دباؤ ہے ؟
عدنان راوٹ کا جرم ۔۔۔
سست پورٹ غیر قانونی ٹیکسس پر بات کرنا !
لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کے خلاف کھل کر بولنا !
78 سالہ محرومیوں کے متعلق سوال کرنا !
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
جیل جانا سنت یوسف ہے ، لیکن یہ بہت سے چہروں کا بے نقاب کر دیتی ہے
عمار خان گریزی ( کشمیر )
02/04/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Gilgit