Gilgit City Northern Areas
27/02/2026
تازہ ترین رپورٹ: 27 فروری 2026 |
دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے مٹانے اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے پاکستان کی غیور افواج کی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں
سرحد پار سے اٹھنے والے فتنے کو کچلنے کے لیے آج کا دن دشمن کے لیے عبرت کی نشانی بن گیا
میدانِ جنگ سے حاصل ہونے والی بڑی کامیابیاں👇
پاک فوج کے جوانوں نے شجاعت کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے 297 افغان طالبان اور TTP کے دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کر دیا جبکہ 450 سے زائد زخمی حالت میں پسپائی پر مجبور ہوئے
دشمن کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے 89 چوکیاں مکمل تباہ کر دی گئیں جبکہ 18 اسٹریٹجک چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے
جدید ٹیکنالوجی اور بہتر حکمتِ عملی کے ذریعے دشمن کے 135 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں (APCs) ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے 29 ٹھکانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا،
پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والوں کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں
الحمدللہ، ہمہ وقت تیار اور مستعد افواجِ پاکستان کا یہ جواب دشمن کی نسلیں یاد رکھیں گی ،،
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰✊
پاک فوج پائندہ باد 🪖✊
ہم نوجوانانِ گلگت، جی ایم واپڈا دیامر بھاشہ ڈیم انجینئر نزاکت حسین—جو گلگت بلتستان کے قابل، باوقار اور محنتی سپوت ہیں—کے دفتر میں گھس کر نام نہاد کمیٹی کے چند عناصر کی جانب سے بدتمیزی، دھونس اور ہنگامہ آرائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ایک ذمہ دار سرکاری افسر کی توہین ہے بلکہ پورے گلگت بلتستان کی عزت و وقار پر حملہ ہے۔
اہلیانِ گلگت اس صورتحال پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ اگر اشتعال انگیزی، بدتمیزی اور ادارہ جاتی تضحیک کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے ردِعمل کے اثرات صرف دیامر تک محدود نہیں رہیں گے۔ گلگت میں تعینات دیامر سے تعلق رکھنے والے آفیسران اور حکومتی اہلکاروں کے ساتھ بھی عوامی سطح پر ایسا ہی برتاؤ اور ردِعمل سامنے آ سکتا ہے، جس کی مکمل ذمہ داری ان شرپسند عناصر پر عائد ہوگی جو جان بوجھ کر علاقائی نفرت اور انتشار کو ہوا دے رہے ہیں۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں افسران، اداروں اور ریاستی نظم و ضبط کے وقار سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ اختلافِ رائے ایک حق ہے، مگر قانون شکنی، دھمکی آمیز رویہ، دفاتر پر دھاوا بولنا اور بدتہذیبی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ایسے واقعات کی مستقل روک تھام یقینی بنائیں، بصورتِ دیگر حالات کی سنگینی بڑھنے کی تمام تر ذمہ داری انہی شرانگیز عناصر پر ہوگی۔
نوجوانانِ گلگت امن، قانون اور اداروں کے احترام کے ساتھ کھڑے ہیں—
لیکن عزت، وقار اور باہمی احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100